منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

کراچی: 100 بچیوں سے زیادتی کے مجرم نے اپنے گھنائونے جرم سے متعلق سب کچھ اگل دیا

datetime 16  ستمبر‬‮  2025 |

کراچی(این این آئی)کراچی کے علاقے قیوم آباد میں 100 کمسن بچیوں سے زیادتی کے گرفتار مجرم نے اپنے گھنائونے جرم سے متعلق سب کچھ اگل دیا۔گزشتہ دنوں ڈیفنس پولیس نے قیوم آباد سے شبیر احمد نامی ملزم کو گرفتار کیا، جس نے دوران تفتیش اپنے جرائم کا اعتراف کیا۔شبیر نے بتایا کہ اس کا تعلق ایبٹ آباد سے ہے اور وہ 2016 میں کراچی آیا۔ ایک لڑکے کے چکر میں غلط کام میں پڑ گیا اور پھر اس کے بعد بچیوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بناتا رہا۔

اس نے کہاکہ قیوم آباد میں اپنی دکان میں آنے والی بچیوں کو اس نے نشانہ بنانا شروع کیا۔ پہلے ایک بچی کو نشانہ بنایا، اس کے بعد اس کا عادی ہوگیا اور دکان میں آنے والی بچیوں کو بہلا پھسلا کر اپنے ساتھ اندر لے جاتا اور ان کے ساتھ زیادتی کرتا۔سیریل ریپسٹ نے بتایا کہ اس کی ہوس کا نشانہ بننے والی سب سے کم عمر بچی سات سال کی تھی جب کہ اس نے 8، 9، 12 اور 14 سال تک کی لڑکیوں کی پامالی کی۔گرفتاری تک 100 سے زائد بچیوں کے ساتھ زیادتی کی۔ملزم نے ریپ کی ویڈیو بنانے کے حوالے سے بتایا کہ اس نے یہ ویڈیوز کبھی کسی اور کو نہیں دیں۔ بلکہ وہ یہ اپنی تسکین کے لیے بناتا تھا۔ بچیوں کے ساتھ درندگی کے بعد وہ یہ ویڈیوز موبائل سے کمپیوٹر پر ٹرانسفر کرتا اور خود اس کو دیکھتا تھا۔ایک سوال کے جواب میں اس نے بتایا کہ وہ ساتویں پاس ہے اس نے موبائل سے ویڈیو بنا کر کمپیوٹر میں ٹرانسفر کرنا یوٹیوب کی ویڈیوز سے سیکھا۔اس درندہ صفت نے بتایاکہ اس کو اپنے فعل پر شرم نہیں آتی تھی جو سزا ملے گی وہ قبول کروں گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…