جمعرات‬‮ ، 10 ستمبر‬‮ 2026 

’ججوں کے میٹر چالو رہتےہیں‘، خواجہ آصف اور سعد رفیق اشرافیہ کی مراعات پر پھٹ پڑے

datetime 13  ستمبر‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں خواجہ سعد رفیق اور وزیر دفاع خواجہ آصف نے ریٹائرڈ ججز اور ان کی بیواؤں کو پولیس سکیورٹی فراہم کرنے کے حوالے سے سپریم کورٹ کے خط پر اعتراضات اٹھا دیے۔چند روز قبل رجسٹرار سپریم کورٹ نے چیف جسٹس پاکستان کی منظوری سے وزارتِ داخلہ کو خط لکھا تھا، جس میں تجویز دی گئی کہ موجودہ ملکی حالات کے پیشِ نظر ہر ریٹائرڈ جج کے ساتھ تین پولیس اہلکار تعینات کیے جائیں۔ خط میں یہ سفارش بھی شامل تھی کہ مرحوم ججز کی بیواؤں کو بھی اتنی ہی سکیورٹی مہیا کی جائے، اور یہ تمام اہلکار متعلقہ ڈی پی او کے ماتحت رہیں۔

یہ خبر سامنے آتے ہی خواجہ سعد رفیق نے سوشل میڈیا پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اگر یہ ہدایت درست ہے تو یہ انصاف اور مساوات کے تقاضوں کے خلاف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاستدانوں، جرنیلوں اور ججوں کی بڑھتی ہوئی مراعات نے عام پاکستانیوں کی کمر توڑ دی ہے۔ انہوں نے مزید لکھا کہ ملک کی غریب ریاست اب اشرافیہ کی مزید خواہشات پوری کرنے کے قابل نہیں رہی، اس روش کو روکنے کی ضرورت ہے۔

وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی اس معاملے پر سخت تبصرہ کیا۔ سعد رفیق کی پوسٹ پر جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سیاستدانوں کے اچھے اور برے دن آتے رہتے ہیں، لیکن جج صاحبان ریٹائرمنٹ کے بعد بھی مختلف عہدوں یا مواقع کے ذریعے “نئی دکانیں” کھول لیتے ہیں۔خواجہ آصف نے مزید کہا کہ سیاستدان برسوں پارلیمنٹ لاجز کے چھوٹے کمروں میں گزارہ کرتے ہیں جن کی مرمت بھی دہائیوں تک نہیں ہوتی، جبکہ ان کی تنخواہیں بھی محدود ہیں۔ ان کے مطابق ججوں کے برعکس سیاستدانوں کی سکیورٹی نہ ہونے کے برابر ہے، لیکن عدلیہ کے لیے اگر ٹینک بھی فراہم کیے جائیں تو وہ اس سے زیادہ کا مطالبہ کریں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…