جمعرات‬‮ ، 10 ستمبر‬‮ 2026 

عمرقید کے ملزم کی اپیل پر سماعت: جج سپریم کورٹ کا مدعی مقدمہ سے دلچسپ مکالمہ کمرۂ عدالت میں قہقہے

datetime 13  ستمبر‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)سپریم کورٹ میں عمر قید کی سزا پانے والے ملزم عبدالرزاق کی اپیل پر سماعت کے دوران دلچسپ صورتحال پیدا ہوئی جب جسٹس ہاشم کاکڑ اور مدعی مقدمہ نیاز احمد کے درمیان مکالمہ ہوا، جس پر عدالت میں قہقہے گونج اٹھے۔سماعت کے دوران مدعی نیاز احمد نے کہا کہ وہ نیا وکیل کرنا چاہتے ہیں اور اس کے لیے وقت درکار ہے۔ جس پر جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ “ملزم تو اپنی سزا پوری کرکے 11 جنوری 2026 کو رہا ہو جائے گا، ایسے میں وکیل کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے، یہ تو چند ماہ کی بات ہے۔

“مدعی نے جواب دیا کہ انہوں نے ایک وکیل سے بات کی ہے جو 12 لاکھ روپے فیس مانگ رہا ہے۔ اس پر جسٹس کاکڑ نے مسکراتے ہوئے کہا، “آپ اتنی بڑی رقم وکیل کو کیوں دینا چاہتے ہیں؟ بہتر ہے یہ پیسہ اپنے بچوں کی تعلیم پر خرچ کریں، جو کام وکیل 12 لاکھ لے کر کرے گا وہی سرکاری وکیل مفت میں کر دے گا۔”تاہم مدعی نے اصرار کیا کہ وہ اپنا وکیل ہی رکھیں گے۔ اس پر جسٹس ہاشم کاکڑ نے طنزیہ انداز میں کہا، “ٹھیک ہے، اگر آپ کی مرضی ہے تو 12 لاکھ والا وکیل کر لیں، بعد میں وکیل یہ نہ کہہ دے کہ میں اس کے خلاف بات کر رہا ہوں۔” ان ریمارکس پر عدالت میں ہنسی چھوٹ گئی۔بعد ازاں سپریم کورٹ نے سماعت 26 ستمبر تک ملتوی کر دی۔ یہ کیس جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سنا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…