منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

جنات کے ہاتھوں اغواءخاتون کےکیس میں دم کرنیوالے پیر کو بھی شامل تفتیش کرلیاگیا

datetime 9  ستمبر‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) لاہور پولیس نے 6 سال قبل مبینہ طور پر جنات کے ہاتھوں لاپتہ ہونے والی خاتون کے معاملے کی تحقیقات دوبارہ شروع کر دی ہیں۔لاہور ہائی کورٹ کے حکم پر تشکیل دی گئی اسپیشل پولیس ٹیم نے کیس کی تحقیقات کا آغاز کرتے ہوئے مغویہ فوزیہ کی والدہ، ساس، شوہر اور دیگر دو افراد سمیت پانچ افراد کے پولی گرافک ٹیسٹ مکمل کر لیے ہیں۔ پولیس کے مطابق ان تمام ٹیسٹس کے نتائج کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔

مغویہ کی تلاش کے لیے 5 ہزار سے زائد موبائل نمبروں کی جیو فینسنگ کی گئی، جن میں سے 100 سے زائد نمبرز کو شارٹ لسٹ کیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں نادرا، سیف سٹیز، آئی جی جیل خانہ جات اور دیگر متعلقہ اداروں سے بھی تصدیق جاری ہے۔تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ فوزیہ کو اس کی والدہ حمیداں دم کروانے کے لیے قصور لے جایا کرتی تھی، جہاں ایک پیر عمر پاکستانی بھی شامل تفتیش کر لیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق والدہ کا ڈی این اے کسی بھی ریکارڈ سے میچ نہیں ہوا۔واضح رہے کہ فوزیہ 2019 میں لاپتہ ہوئی تھی اور سسرالیوں نے اس وقت دعویٰ کیا تھا کہ اسے جنات نے اغواء کر لیا ہے۔ اسی سال فوزیہ کی والدہ کی مدعیت میں اغواء کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔حال ہی میں خاتون کی بازیابی کے لیے دائر درخواست پر سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ عالیہ نیلم نے آئی جی پنجاب کو حکم دیا تھا کہ مغوی خاتون کو 18 ستمبر تک بازیاب کرایا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…