منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

سیلاب غریبوں کی بستیاں اُجاڑ کر طاقتور لوگوں کے ریزورٹس بچائے گئے، وفاقی وزیر کا انکشاف

datetime 29  اگست‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی، سینیٹر مصدق ملک نے انکشاف کیا ہے کہ حالیہ قدرتی آفات کے دوران غریب عوام کی بستیاں متاثر ہوئیں جبکہ بااثر افراد کے ریزورٹس محفوظ رکھے گئے۔ایک ٹی وی انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ طاقتور طبقے کے مفادات کی خاطر عام لوگوں کو اپنی زمینوں اور گھروں سے محروم ہونا پڑا۔

ان کے مطابق دریا کنارے کئی بااثر شخصیات کے ریزورٹس قائم ہیں، جنہیں بچانے کے لیے پوری پوری بستیوں کو خالی کرایا گیا۔مصدق ملک نے مزید کہا کہ پاکستان میں ایلیٹ کلچر نے عدم مساوات کو بڑھا دیا ہے۔ “غریب شخص کو دریا کے کنارے جگہ نہیں ملتی، لیکن بااثر افراد کی عالیشان عمارتیں وہیں کھڑی ہیں۔”انہوں نے صوبوں کے درمیان پانی کی تقسیم کے مسئلے پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ ڈیمز اور نہروں کے حوالے سے اعتماد کا فقدان ہے۔ بلوچستان سمجھتا ہے کہ اس کا پانی روکا جاتا ہے جبکہ سندھ پر الزام ہے کہ وہ پانی آگے نہیں پہنچاتا۔ اسی بےاعتمادی کے باعث کوئی متفقہ حل سامنے نہیں آتا۔ وفاقی وزیر نے بتایا کہ جدید ٹیلی میٹری سسٹم پر کام جاری ہے اور ایک سے ڈیڑھ سال میں اس منصوبے کے مکمل ہونے کی توقع ہے۔

سینیٹر مصدق ملک نے یہ بھی کہا کہ دریاؤں کے درمیان کئی مقامات پر لوگوں نے کھیتی باڑی کر رکھی ہے، لیکن ان سے اصل فائدہ طاقتور طبقے کو پہنچتا ہے۔ “چند افراد کے ریزورٹس کو بچانے کے لیے درجنوں غریب بستیاں اجاڑ دی جاتی ہیں۔”انہوں نے وارننگ دی کہ سرگودھا کے بعض علاقے پہلے ہی سیلاب کی لپیٹ میں آ چکے ہیں، اور خدشہ ہے کہ پنجند کے مقام پر جب تمام دریا ملیں گے تو پانی کا بہاؤ 10 لاکھ کیوسک تک جا سکتا ہے۔ وفاقی وزیر نے بتایا کہ پیشگی اطلاع ملنے پر لوگوں اور مویشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے، تاہم بعض دیہات کے لوگ اپنی زمینیں چھوڑنے کو تیار نہیں۔ ایک گاؤں کے 30 افراد نے بھی انکار کیا لیکن بعد میں انہیں نکالا گیا، اور آج وہ جگہ زیرِ آب ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ اگر تحصیل اور ضلع سطح پر پانی کے ذخائر نہ ہوں تو ایسی آفات سے نمٹنا ممکن نہیں۔ اس لیے ہر علاقے میں قدرتی ذخائر بنانا ناگزیر ہے تاکہ مستقبل میں سیلابی خطرات پر قابو پایا جا سکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…