منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

ٹی وی پروگرام کے دوران کامران شاہد اور سینیٹر افنان اللہ میں تلخ جملوں کا تبادلہ

datetime 21  اگست‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)نجی ٹی وی کے ایک پروگرام کے دوران اینکرپرسن کامران شاہد اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما سینیٹر افنان اللہ خان کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔پروگرام میں گفتگو کا آغاز میڈیا کے اشتہارات کے معاملے پر ہوا، جہاں افنان اللہ خان نے کہا کہ حکومت ہر سال 45 ارب روپے کے اشتہارات میڈیا کو فراہم کرتی ہے۔ اس پر کامران شاہد نے مؤقف اختیار کیا کہ میڈیا کی 80 فیصد آمدنی نجی ذرائع سے حاصل ہوتی ہے اور یہ اشتہارات دراصل حکومتی تشہیر کے لیے دیے جاتے ہیں، جو ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے ادا کیے جاتے ہیں۔ بحث کے دوران ماحول کشیدہ ہو گیا۔

کامران شاہد نے الزام لگایا کہ حکومت محض ربڑ اسٹیمپ بن چکی ہے اور عوام پر بوجھ ہے۔ اس پر افنان اللہ خان نے جواب دیتے ہوئے میڈیا کو بوجھ قرار دیا اور کہا کہ میڈیا جھوٹ بولنے کے عوض ہی معاوضہ لیتا ہے۔بحث کے دوران کامران شاہد نے مسلم لیگ (ن) پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ جماعت جھوٹ پر قائم ہے، شہباز شریف نے پہلے زرداری کو چور کہا اور اب انہی کو صدر منتخب کرایا، جو کہ ڈھٹائی کی انتہا ہے۔اسی دوران لیگی سینیٹر افنان اللہ خان نے اینکرپرسن پر ذاتی حملہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ تو نسل در نسل بے شرم ہیں۔ ان الفاظ پر کامران شاہد کے تاثرات تو بدل گئے لیکن انہوں نے جوابی ردعمل دینے کے بجائے تحمل کا مظاہرہ کیا اور پروگرام کو بریک پر لے گئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…