منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

سوٹ کیس سے لاش ملنے کا معمہ حل، قاتل قریبی خاتون دوست نکلی

datetime 23  اپریل‬‮  2025 |

کراچی(این این آئی)شاہ لطیف ٹائون عبداللہ گوٹھ صافی چوک کے قریب سوٹ کیس سے شہری کی لاش ملنے کے واقعے کا معمہ حل کرلیا گیا۔شاہ لطیف ٹائون پولیس نے شہری کے قتل میں ملوث خاتون سمیت 2 ملزمان کو گرفتار کرکے آلہ قتل برآمد کرلیا۔تفصیلات کے مطابق جمعہ کو شاہ لطیف ٹائون تھانے کے علاقے عبداللہ گوٹھ صافی چوک کے قریب سوٹ کیس سے 30 سالہ آصف علی لاشاری کی لاش ملی تھی، پولیس نے اندھے قتل کا مقدمہ درج کرکے واقعے کی تفتیش شروع کردی تھی۔

دورانِ تفتیش پولیس نے تکنیکی بنیادوں پر کارروائی کرتے ہوئے قتل کی واردات میں ملوث خاتون سمیت دو مرکزی ملزمان کو گرفتار کرلیا۔ گرفتار ملزمان کی شناخت علیزہ عرف کنول بتول اور مولا بخش کے نام سے کی گئی۔ایس ایچ او شاہ لطیف ٹائون امین کھوسہ نے اس ضمن میں بتایا کہ مقتول آصف علی ملزمہ علیزہ کا قریبی دوست تھا جسے علیزہ نے اپنے دوسرے اور نئے دوست مولا بخش کے ساتھ مل کر جان سے مارنے کی منصوبہ بندی کی۔دونوں ملزمان نے مقتول آصف کو گھر میں بلایا، جہاں سر پر بھاری ہتھوڑے سے وار کر کے بے رحمی سے قتل کردیا۔

گرفتار ملزمان نے قتل کی واردات کے بعد مقتول کی لاش کو سوٹ کیس میں بند کرکے رات کی تاریکی میں کچرے کے ڈھیر کے قریب پھینک دیا اور دونوں موقع سے فرار ہوگئے۔انہوں نے بتایا کہ دورانِ تفتیش ملزمہ علیزہ نے منصوبہ بندی اور قتل میں ملوث ہونے کا اعتراف جرم بھی کرلیا۔ دونوں ملزمان نے دورانِ تفتیش مزید انکشاف کیا کہ مقتول سے ان کے ذاتی معاملات پر تنازع چل رہا تھا، جس کے باعث دونوں نے اسے راستے سے ہٹانے کا فیصلہ کیا۔پولیس نے قتل کی واردات میں استعمال ہونے والا ہتھوڑا اور دیگر شواہد بھی برآمد کرلیے ہیں۔ پولیس نے دونوں ملزمان کو گرفتار کرکے مزید کارروائی کے لیے تفتیشی حکام کے حوالے کردیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…