منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

ارشد چائے والا، نیا انکشاف سامنے آگیا، دعویٰ تضادات پر مبنی نکلا،رپورٹ میں پردہ چاک

datetime 18  اپریل‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) ارشد خان المعروف “ارشد چائے والا”، جو چائے بناتے ہوئے وائرل تصویر کی بدولت شہرت کی بلندیوں پر پہنچے، ان کی پاکستانی شہریت کے دعوے پر اب شکوک و شبہات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ نادرا نے اس حوالے سے اپنی تفتیشی رپورٹ عدالت میں جمع کرا دی ہے۔

تفصیلات کے مطابق نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ارشد خان پاکستانی نہیں بلکہ افغان شہری ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ ارشد خان کی جانب سے پاکستانی شہریت ثابت کرنے کے لیے فراہم کردہ معلومات میں تضاد پایا گیا۔

رپورٹ کے مطابق ارشد نے اپنے والد کی جائے پیدائش ایک جگہ سرگودھا، جبکہ دوسری جگہ اسلام آباد درج کی، جو تضاد پیدا کرتا ہے۔ اسی طرح ان کی والدہ کے نام سے متعلق بھی دی گئی تفصیلات متضاد ہیں۔

نادرا نے مزید بتایا کہ ارشد کو جو پاسپورٹ جاری کیا گیا تھا، وہ ایک درست قومی شناختی کارڈ کی بنیاد پر تھا، لیکن بعد ازاں جب اس کی تصدیق دو الگ اداروں نے کی تو بے قاعدگیاں سامنے آئیں، جس کے نتیجے میں ارشد خان کو شوکاز نوٹس جاری کیا گیا۔

عدالتی کارروائی کے دوران ارشد خان کے وکیل نے جواب داخل کرنے کے لیے مہلت طلب کی، جس پر عدالت نے کیس کی مزید سماعت 22 اپریل تک ملتوی کر دی ہے۔

یہ معاملہ سوشل میڈیا پر بھی زیر بحث ہے، جہاں صارفین ارشد خان کی شہریت کے حوالے سے مختلف آراء کا اظہار کر رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…