اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

جناح اسپتال کراچی کے اسپیشل وارڈ میں داخل امریکی خاتون کے نفسیاتی مریضہ ہونے کی تصدیق

datetime 5  فروری‬‮  2025 |

کراچی (این این آئی)جناح اسپتال کرچی کے شعبہ نفسیات کے سربراہ ڈاکٹر چنی لال نے کہا ہے کہ کراچی کے نوجوان سے آن لائن دوستی کے بعد کراچی آنے والی امریکی خاتون کی ذہنی اور جسمانی صحت کی بحالی کے لیے علاج جاری ہے لیکن مکمل صحت یابی میں وقت لگ سکتا ہے۔

جناح اسپتال کراچی کے اسپیشل وارڈ میں داخل امریکی خاتون کے نفسیاتی مریضہ ہونے کی تصدیق کی گئی ہے جبکہ مریضہ کو دیگر طبی مسائل کا بھی سامنا ہے۔رپورٹ کے مطابق امریکا سے آئی خاتون انیجا کا جناح اسپتال کراچی کے خصوصی وارڈ میں تاحال علاج ہے جہاں ان کی طبیعت میں بہتری آرہی ہے، لیکن وہ اب بھی نفسیاتی مسائل کا شکار ہیں۔خاتون کبھی امریکا واپس جانے کی ضد کرتی ہیں تو کبھی پاکستان میں ہی رہنے کی بات کرتی ہیں، اس صورتحال میں میڈیکل بورڈ ان کی ذہنی کیفیت کا باریک بینی سے جائزہ لے رہا ہے۔

جناح اسپتال کرچی کے شعبہ نفسیات کے سربراہ ڈاکٹر چنی لال کے مطابق مریضہ کا امریکہ میں بھی نفسیاتی علاج جاری تھا، لیکن گزشتہ 6 ماہ سے انہوں نے ادویات لینا چھوڑ دی تھیں، جس کے باعث بائی پولر ڈس آرڈر کی علامات دوبارہ ظاہر ہوئیں۔خاتون کی مجموعی صحت کا جائزہ لینے کے لیے خصوصی میڈیکل بورڈ تشکیل دیا گیا ہے جس کی سربراہی ڈاکٹر چنی لال کر رہے ہیں، جب کہ اسپتال کی انتظامیہ، میڈیکل اور نیورولوجی وارڈ کے ماہرین بھی اس میں شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ خاتون میں خون کی کمی پائی گئی تھی، جس کے بعد انہیں انتقال خون کیا گیا، ان کا سی ٹی اسکین، ایم آر آئی اور الٹرا سانڈ نارمل آیا ہے، مگر ان کے موڈ میں بار بار تبدیلی آتی ہے، جس کی وجہ سے وہ کبھی چڑچڑی ہو جاتی ہیں اور کبھی الجھن کا شکار دکھائی دیتی ہیں۔ڈاکٹر چنی لال کا کہنا ہے کہ ان کی ذہنی اور جسمانی صحت کی بحالی کے لیے علاج جاری ہے، لیکن مکمل صحت یابی میں وقت لگ سکتا ہے۔

ماہر نفسیات اور پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال آفریدی نے بائی پولر ڈس آرڈر کے حوالے سے بتایا کہ یہ ایک نفسیاتی بیماری ہے جو ختم نہیں ہوتی، لیکن دوا اور تھراپی کے ذریعے اس کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ اس بیماری میں مریض کی کیفیت میں اتار چڑھا آتا رہتا ہے، مریض کبھی روتا ہے اور کبھی ہنستا رہتا ہے۔ اس بیماری میں 2 فیصد لوگ مبتلا ہیں اور یہ مرض 80 فیصد وراثت (By Birth) میں ملتا ہے۔ اس مرض میں مبتلا زیادہ تر مریض ڈپریشن کا شکار رہتے ہیں، اور شدید ڈپریشن کی صورت میں مریض نشے اور خودکشی کی طرف بھی مائل ہو سکتا ہے۔ یہ مرض مرد اور خواتین دونوں میں پایا جاتا ہے۔

اس بیماری میں مریض اکثر الٹے سیدھے فیصلے کرتا ہے اور اپنے آپ کو نقصان پہنچانے کی سوچ بھی پیدا کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ بائی پولر ڈس آرڈر کی تین اقسام ہیں جن میں بائی پولر ون، بائی پولر ٹو اور سائیکلو تھیمیا شامل ہیں۔ واضح رہے کہ بائی پولر ڈس آرڈر میں مبتلا شخص ایک وقت میں خود کو بہت خوشگوار محسوس کرتا ہے اور دوسرے ہی لمحے وہ افسردگی میں گھرا ہوا پاتا ہے۔ یہ بیماری اس قدر بڑھ سکتی ہے کہ مریض خود کشی تک کرنے کی حد تک پہنچ جاتا ہے اور اپنے آپ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا ہے۔ اس مرض میں مبتلا مریض اپنے آپ پر قابو پانے کے قابل نہیں رہتا اور اپنے رویے پر قابو پانے میں ناکام ہو جاتا ہے۔ اس بیماری سے نمٹنے کے لیے ماہر نفسیات سے مشورہ کیا جاتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…