ہفتہ‬‮ ، 10 جنوری‬‮ 2026 

30 ہزار طلبہ ڈگریوں کی تصدیق کے منتظر ہیں، سینیٹ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں انکشاف

datetime 3  جنوری‬‮  2025 |

اسلام آباد (این این آئی)سینیٹر بشریٰ انجم بٹ کی زیر صدارت سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم و تربیت کے اجلاس میں انکشاف ہوا ہے کہ 30 ہزار طلبہ کی ڈگریاں تصدیق کی منتظر ہیں۔جمعہ کوپارلیمنٹ لاجز میں سینیٹ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں قومی تعلیمی کانفرنس بلانے کا فیصلہ بھی کیا گیا، قومی تعلیمی کانفرنس میں چاروں وزرائے اعلیٰ اور صوبائی وزرائے تعلیم کو بھی مدعو کیا جائیگا، اجلاس میں طلبہ یونینز کی بحالی کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔قائمہ کمیٹی میں وفاقی اردو یونیورسٹی کے ملازمین کی پنشن کے مسائل زیر بحث آئے، جس پر وائس چانسلر اْردو یونیورسٹی نے کہا کہ میں تسلیم کرتا ہوں، یونیورسٹی کے مسائل ہیں، پچھلے 5 سال سے جو فنڈز مل رہے ہیں، ان میں کوئی اضافہ نہیں ہوا، لیکن تنخواہ اور پنشن بڑھ گئی،کمیٹی کے رکن سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا وفاقی اردو یونیورسٹی کی بدقسمتی رہی ہے کہ کبھی مستقل وائس چانسلر نہیں رہے، یہ صرف ایک یونیورسٹی نہیں بلکہ ملک کی متعدد یونیورسٹیوں کا مسئلہ ہے کہ تنخواہیں نہیں دی جا رہیں۔

چیئرپرسن قائمہ کمیٹی سینیٹر بشری انجم بٹ نے کہا کہ قائم مقام وائس چانسلر کی تعیناتی کے خلاف ہوں، اردو یونیورسٹی کا مسئلہ کافی عرصہ سے ہے، اس حوالے سے باقاعدہ پالیسیاں بنائی جائیں۔وفاقی وزیر تعلیم خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ وفاقی اردو یونیورسٹی کے 30 سے 35 سال کے مسائل ہیں۔چیئرمین ایچ ایم سی نے کہا کہ اردو یونیورسٹی گھمبیر قسم کے مسائل کی آماج گاہ ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم و تربیت کے اجلاس میں جامعات میں طلبہ یونینز پر پابندی کا معاملہ بھی زیر بحث آیا، سینیٹر سید مسرور احسن نے کہا کہ مصنوعی قیادت سامنے آتی ہے تو ملک میں بحران پیدا ہوتے ہیں۔سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ طلبہ یونینز کی بندش کے پیچھے سیاسی نہیں بلکہ کچھ اور قوتوں کا ہاتھ ہے۔وفاقی وزیر تعلیم خالد مقبول نے کہا کہ طلبہ یونینز بحال ہونی چاہئیں، 13 تاریخ کو ایچ ای سی نے تمام یونیورسٹیز کے وائس چانسلرز کو بلا رکھا ہے، جس میں طلبہ یونینز کی بحالی پر بھی بات ہوگی، طلبہ یونینز کی بندش کے بعد مسائل بڑھے ہیں۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے مطالبہ کیا کہ طلبہ یونینز کی بحالی کے سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد کروایا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا


والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…