جمعہ‬‮ ، 11 ستمبر‬‮ 2026 

توشہ خانہ ون کیس؛نیب نے بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی سز اکالعدم قرار دے کر کیس ریمانڈ بیک کرنے کی استدعا کردی

datetime 14  ‬‮نومبر‬‮  2024 |

اسلام آباد (این این آئی)نیب نے بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی توشہ خانہ کیس ون میں سزا کالعدم قرار دے کر کیس ریمانڈ بیک کرنے کی استدعا کر دی۔بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی توشہ خانہ کیس ون میں سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کی۔بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے وکیل علی ظفر نے دلائل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بشریٰ بی بی کی جانب سے استثنیٰ کی درخواست دائر کر رہا ہوں۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ عامر فاروق نے کہا کہ آپ دے دیں، اس متعلق پریشان نہ ہوں، آرڈر کر دیں گے۔وکیل علی ظفر نے کہا کہ نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ میں بھی استثنیٰ کی درخواست پر اعتراض نہیں کروں گا۔چیف جسٹس اسلام آباد عامر فاروق نے سوال کیا کہ کیا پیپر بْکس بنی ہوئی ہیں؟نیب کے پراسیکیوٹر امجد پرویز نے کہا کہ میں خود توشہ خانہ کیس میں سزا کے طریقہ کار سے متفق نہیں ہوں، میں نے اعتراف کرتے ہوئے بانء پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی سزا معطل کرنے کا بیان دیا تھا۔اس موقع پر پراسیکیوٹر نے استدعا کی کہ بانء پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی سزا کالعدم قرار دے کر کیس ریمانڈ بیک کر دیا جائے۔چیف جسٹس عامر فاروق نے امجد پرویز سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں پہلے علی ظفر کو سن تو لینے دیں کہ وہ کیا کہتے ہیں؟وکیل علی ظفر نے کہا کہ یہ ایک جیل ٹرائل تھا، 29 جنوری کو جرح کا حق ختم کیا گیا، 30 جنوری کو بشریٰ بی بی کا 342 کا بیان رات 11 بجے کے قریب ریکارڈ کیا گیا۔

چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ اس وقت بانء پی ٹی آئی کا بیان ریکارڈ نہیں کیا گیا؟وکیل علی ظفر نے کہا کہ 31 تاریخ کو سوال نامہ بانء پی ٹی آئی کو دیا گیا، میں عدالت کے سامنے ثبوت پیش کروں گا۔اسلام آباد ہائی کورٹ نے وکیل علی ظفر کو بانء پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی سے ہدایات لینے کے لیے وقت دے دیا۔چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ علی ظفر صاحب آپ نیب پراسیکیوٹر کے بیان پر کیا کہتے ہیں؟ بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ میں اس حوالے سے اپنی گزارشات رکھنا چاہتا ہوں۔

جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ 2 ہی طریقے ہیں، ایک تو یہ کہ آپ امجد پرویز جو بات کر رہے ہیں اْس کو مان لیں، آپ دوسری استدعا یہ کر سکتے ہیں کیس ٹرائل کورٹ میں فردِ جرم سے دوبارہ شروع ہو، اگر آپ یہ دونوں نہیں مانتے تو ہم پھر تکنیکی خرابیوں کی طرف جائیں گے ہی نہیں، اگر آپ یہ نہیں مانیں گے تو پھر ہم میرٹ پر کیس سْنیں گے۔وکیل علی ظفر نے کہا کہ میری نظر میں سزا کا یہ فیصلہ برقرار رہ ہی نہیں سکتا۔عدالت نے بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی اپیلوں پر سماعت 21 نومبر تک ملتوی کر دی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…