جمعہ‬‮ ، 11 ستمبر‬‮ 2026 

حکومت نے حج پالیسی 2025 کا اعلان کردیا

datetime 11  ‬‮نومبر‬‮  2024 |

اسلام آباد (این این آئی)وفاقی وزیر مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی چوہدری سالک حسین نے حج پالیسی 2025 کا اعلان کردیاجس کے مطابق سال 2025 کیلئے پاکستان کا حج کوٹہ 1 لاکھ 79 ہزار 210 ہے،سرکاری و نجی حج سکیموں کیلئے کوٹہ کی تقسیم کا تناسب 50:50 ہے۔ جاری اعلامیہ کے مطابق وفاقی وزیر نے کہاکہ سرکاری و نجی حج سکیموں کیلئے 89 ہزار 605 سیٹیں مختص کی گئی ہیں،سرکاری حج سکیم میں سپانسر شپ سکیم میں 5 ہزار نشستیں مختص رکھی جائیں گی۔

انہوں نے کہاکہ سپانسر شپ سکیم میں شمولیت کیلئے بینکنگ چینل کے ذریعے بیرون ملک سے زر مبادلہ بھجوانا لازم ہو گا، نجی حج سکیم میں سپانسر شپ سکیم کیلئے 30 ہزار نشستیں مختص ہوں گی۔ وفاقی و زیر نے کہاکہ سرکاری سپانسر شپ سکیم ” پہلے آئے پہلے پائیے” کے اصول پر ہو گی اور انہیں قرعہ اندازی سے استثناء ہو گا۔ انہوںنے کہاکہ سپانسر شپ سکیم کے ذریعے جمع شدہ زر مبادلہ صرف اور صرف سعودی عرب میں حج سے متعلقہ اخراجات کی ادائیگی کیلئے استعمال ہو گا،سرکاری حج سکیم کیلئے روائتی لانگ پیکیج 38 تا 42 دن اور شارٹ پیکیج 20 تا 25 دن پر محیط ہو گا۔وفاقی وزیر مذہبی امور نے کہاکہ سعودی تعلیمات کے مطابق ہر منظم، نجی حج گروپ کم از کم 2000 حجاج پر مشتمل ہو گا،حج 2025 کیلئے سرکاری حج سکیم کے اخراجات 10 لاکھ 75 ہزار روپے سے 11 لاکھ 75 ہزار روپے کے درمیان متوقع ہیں۔

انہوں نے کہاکہ اضافی سہولیات میں قربانی کی رقم 55 ہزار روپے ہے، مکہ مکرمہ میں ڈبل بیڈ اور ٹرپل بیڈ رہائش کی سہولت کے لیے بالترتیب 2 لاکھ 20 ہزار اور 75 ہزار روپے فی درخواست گزار اضافی جمع کرانا ہوں گے۔ وفاقی وزیر نے کہاکہ سرکاری سکیم کیلئے حج واجبات 2 لاکھ روپے کی پہلی قسط حج درخواست کے ساتھ جمع کرانا ہو گی،قرعہ اندازی کے دس دن کے اندر اندر 4 لاکھ روپے مزید جمع کروانا لازم ہے۔ انہوں نے کہاکہ بقیہ رقم 1 تا 10 فروری 2025 کے درمیان جمع کرانی لازم ہو گی، درخواستوں کی وصولی کی آخری تاریخ سے قبل پیسے واپس لینے کی صورت میں کوئی کٹوتی نہیں ہو گی۔ وفاقی وزیر نے کہاکہ قرعہ اندازی کے بعد پہلی قسط واپس لینے کی صورت میں 50 ہزار روپے کٹوتی ہو گی۔

وفاقی وزیر نے کہاکہ تیسری قسط جمع نہ کرانے کی صورت میں 2 لاکھ روپے کٹوتی ہو گی،10 فروری کے بعد نہ جانے کی صورت میں بقیہ رقم واپس نہیں ہو گی۔ وفاقی وزیر نے کہاکہ درخواست گزار کی فوتگی کی صورت میں مذکورہ بالا کٹوتی عمل میں نہیں آئے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…