منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

حیرت ہے ان کے پاس کمروں کی چابیاں کہاں سے آگئیں، عمر ایوب

datetime 12  ستمبر‬‮  2024 |

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے پی ٹی آئی رہنماؤں کی پارلیمنٹ ہاؤس سے گرفتاری سے متعلق کہا ہے کہ حیرت ہے ان کے پاس کمروں کی چابیاں کہاں سے آگئیں۔پروڈکشن آرڈر پر پی ٹی آئی کے گرفتار ارکان اسمبلی نے قومی اسمبلی اجلاس میں شرکت کی، پارلیمنٹ ہاؤس پہنچنے کے بعد گرفتار اراکین نے اسپیکر قومی اسمبلی سے ملاقات بھی کی۔

قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عمر ایوب نے کہا کہ آئی جی اسلام آباد کو گرفتاریوں کی جرات کیسے ہوئی، ارکان پارلیمنٹ کو گرفتار کرکے مکے مارے گئے، کہا گیا ہم کسی قانون کو نہیں مانتے، آئیں اس ایوان کو بند کرکے تالا لگا دیتے ہیں۔اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ جس کمرے میں شیخ وقاص اکرم اور زین قریشی بیٹھے ہیں ان کو دھکے مار کر باہر نکالا گیا، آپ کے بغیر کس نے اس قسم کی اجازت دی، سارجنٹ ایٹ آرمز یا کسی ملازم کو معطل کرنے سے بات ختم نہیں ہوگی۔

اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے کہا کہ میں نے پہلے بھی جو کرنا تھا کیا اور آگے بھی کروں گا، جس پر عمر ایوب نے کہا کہ جناب اسپیکر آج اس ایوان کے تقدس کی بات ہے، یہ صرف ملازمین کی معطلی کی بات نہیں ہے، پاکستان میں اس وقت جمہوریت نہیں، ہماری تقریروں پر مکمل سنسرشپ ہے، میں نام لوں گا اور بار بار لوں گا، انٹیلی جنس ایجنسیاں یہاں کیوں آئیں؟عمر ایوب نے کہا کہ اسپیشل کمیٹی تعین کرے کہ آئی ایس آئی، ایم آئی اور آئی بی کے لوگ کس کی اجازت سے اس دن ایوان میں داخل ہوئے، یہ تفتیش ہونی چاہیے کہ یہ آرڈر کس نے دیا کہ ایجنسیاں پارلیمنٹ کے احاطے میں داخل ہوں، جناب اسپیکر، کس نے ان کو پارلیمنٹ کی چابیاں دیں؟

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…