ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

خیبرپختونخوااسمبلی ،تیسرے روز بھی سیاست میں اسٹبلشمنٹ کے کردار پرحکومتی اراکین کی تقاریر

datetime 12  ستمبر‬‮  2024 |

پشاور(این این آئی) خیبرپختونخوااسمبلی میں تیسرے روز بھی سیاست میں اسٹبلشمنٹ کے کردار پرحکومتی اراکین نے تقاریریں کیں۔ جمعرات کے روز سپیکربابرسلیم سواتی کی زیرصدارت اجلاس شروع ہوا تو تلاوت کلام پاک کے بعد نوشہرہ سے تعلق رکھنے والے حکومتی ایم پی اے میاں عمر نے بحث کاآغازکرتے ہوئے کہاکہ دستمبرکواس ملک کے تقدس ایوان پرحملہ ہوا اس ایوان کی عزت کیلئے سب کواکٹھناہوناپڑے گا ملک میں عملاًمارشل نافذ ہے یہاں کوئی قانون وآئین نہیں ہے ،

آج تک جتنے الیکشن ہوئے وہ دراصل سلیکشن تھے آج کے پی میں پولیس سسٹم کے خلاف نکلی ہے ہر، پی ٹی آئی پی کے رکن ارباب وسیم نے کہاکہ پرسوں پارلیمنٹ پرحملہ ہواتھا وہ مناسب نہیں تھا ہم اسے غلط سمجھتے ہیں اپنے روئیوں پر بھی سوچناہوگا ،بنوں اورلکی مروت میں پولیس احتجاج پرنکلی ہے کسی کو امن وامان،مہنگائی وبیروزگاری کی فکر نہیں لوگوں کے مسائل بھی حل کرناضروری ہے رکن اسمبلی سمیع اللہ خان نے کہاکہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے بعداس ملک میں ایوان سپریم ہے تحریک انصاف کے پاس قومی یکجہتی ہے اس لئے یہ انکی آنکھوں کوکٹک رہی ہے ،ملک کو تمام اداروں کو اپنے آئین وقانون کے اندر رہتے ہوئے کام کرناچاہئے ،

حکومتی رکن آصف خان نے کہاکہ کے پی کے لوگ آگے بڑھناچاہتے ہیں لیکن کونسی وہ وجوہات ہیں جسکی وجہ سے ہمیں پیچھے رکھاجارہاہے ہم نے ریاست کو مضبوط کرناہے ملک دن بدن تنزلی کی طرف جارہاہے بدقسمتی سے پختون کا خون بہتاہے توفارن پالیسی چلتی ہے ،ایسی پالیسی لانی چاہئے کہ لوگ سمجھیں کہ ریاست ہماری ماں کی طرح ہے ،وفاقی حکومت نے ہمارے ساتھ جو وعدے کئے وہ ابھی تک پورے نہیں ہوئے۔

صوبائی وزیر اعلیٰ تعلیم میناخان آفریدی نے کہاکہ گورنرکاعہدہ آئینی ہوتاہے لیکن موصوف ایک جماعت کا سیکرٹری اطلاعات کے طور پر وزیراعلیٰ کے خلاف بیانات دے رہے ہیں، گورنر کبھی لاہور،اسلام آباد اورسندھ میں ہوتے ہیں جب بھی پشاورآتے ہیں تویہاں محاذآرائی کی کیفیت پیداکرکے واپس چلے جاتے ہیں انہوں نے وزیراعلیٰ سے اعتماد کاووٹ لینے کی بات کی ہے حالانکہ وزیراعلیٰ نے انہیں الیکشن میں شکست ایسی دی کہ انکی ضمانت ضبط ہوگئی قانون کے مطابق اگرگورنرچاہتے ہیں کہ وزیراعلیٰ اعتماد کا ووٹ لے تو اس کیلئے ویرببوبننے کے بجائے مراسلہ بھیج دیں یہ اسمبلی وزیراعلیٰ کے ساتھ کھڑی ہے اس دوران ہائوس میں موجود تمام حکومتی ایم پی اے وزیراعلیٰ کی حمایت میں نشستوں پر کھڑے ہوگئے،

ایم پی اے نثارباز نے کہاکہ باجوڑمیں لوگ سراپااحتجاج اور پولیس دھرنادئیے ہوئے ہے آئین بالادستی ضروری ہے لیکن بدامنی جوکہ بنیادی مسئلہ ہے اس پر بھی توجہ دینی کی ضرورت ہے باجوڑمیں ایک ماہ کے دوران کئی دہشتگردی کے واقعات رونماہوئے ریاستی ادارے قیام امن کیلئے اقدامات کیوں نہیں اٹھاتے؟بتایاجائے پولیومہم اوراسکی سکیورٹی مد میں کتنا فنڈپاکستان آتاہے؟ ،پانچ سالوں میں پولیو سے اتنے بچے معذورنہیں ہونگے جتنے کہ پولیس اہلکارشہیدہوئے۔

ریاض خان نے کہانقاب پوشوں کی جانب سے پارلیمنٹرینزکی گرفتاری قابل مذمت ہے ملک میں طاقتورکامحورکون ہے؟یہاں اختیارات کس کے پاس ہیں ؟یہ ایک اہم سوال ہے عمرا ن خان واحد لیڈرہے جس نے ملک کی حقیقی آزادی کیلئے آوازبلند کی ہے ،خداراملک پر حم کھائی جائے لوگوں کیلئے ہسپتالزمیں دوائیاں دستیاب نہیں سکولوں کی کمی ہے پولیٹیکل انجیئرنگ سے بازرہاجائے ظلم وجبراورفسطائیت کیخلاف کھڑے ہیں یہ ہم سب کا اجتماعی مسئلہ ہے عمران خان نے کونساجرم کیاہے وہ صرف وطن میں آئین وقانون کی حکمرانی کی بات کرتاہے جب تک جسم میں سانس چل رہی ہے عمران خان اوروزیراعلیٰ کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…