منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

امارات نے گولڈن ویزا کیلئے بنیادی تنخواہ کی نئی شرط لگادی

datetime 17  اگست‬‮  2024 |

ابوظہبی (این این آئی )یو اے ای میں کام کرنے والے جو پروفیشنلز طویل المیعاد قیام کے لیے گولڈن ویزا حاصل کرنا چاہتے ہیں ان کے لیے کم از کم ماہانہ تنخواہ 30 ہزار درہم کی شرط عائد کردی گئی ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق امیگریشن کے ماہرین نے بتایا کہ 10 سالہ قیام کے گولڈن ویزا کے لیے کم از کم تنخواہ کی شرط میں اداروں کی طرف سے دیے جانے والے الانسز شامل نہیں ہیں۔عام طور پر اس حوالے سے حکومت کی طرف سے جو پیکیج شامل کیے جاتے ہیں ان میں بنیادی تنخواہ کے علاوہ مکان کے کرایا، ٹرانسپورٹیشن اور دیگر الانسز شامل ہوتے ہیں۔

امیگریشن سروسز سے متعلق فرم فریگومین کے سینیر مینیجر برائے دبئی نوفیساتو موجیدی کا کہنا ہے کہ گولڈ ویزا کے لیے کم از کم تنخواہ کی شرط تبدیل کردی گئی ہے۔اب تک مجموعی تنخواہ کی بنیاد پر ویزا جاری کیا جاتا تھا جس میں مختلف الانسز بھی شامل ہوتے تھے۔ اب شرط عائد کی گئی ہے کہ ماہانہ کم از کم 30 ہزار درہم خالص تنخواہ ہونی چاہیے۔دبئی کی فرم عربین بزنس سینٹر کے آپریشن مینیجر اور امیگریشن ایکسپرٹ فیروز خان نے بھی گولڈن ویزا کے لیے بنیادی تنخواہ کی نئی شرط کی تصدیق کردی ہے۔

یو اے ای نے 2022 میں گولڈ ویزا جاری کرنے کی اسکیم شروع کی تھی تاکہ دنیا بھر سے مختلف شعبوں کے قابل ترین افراد یو اے ای آئیں اور اس کی معاشی حیثیت کو بلند کریں۔گولڈن ویزا کی پالیسی میں تبدیلی سے یو اے ای کو اعلی ترین پروفیشنلز تو حاصل ہوں گے تاہم وہاں کام کرنے والے ہزاروں افراد طویل المیعاد قیام کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے میں کامیاب نہ ہوسکیں گے۔امارات میں طویل مدت سے کام کرنے والے ایسے ماہرین بھی ہیں جو اگرچہ بہت زیادہ تنخواہ نہیں پاتے تاہم ان کے قیام سے امارات کی معیشت کو توانائی ملتی ہے۔ ایسے لوگ اب مختصر مدت کے ویزے پر کام کرتے رہنے پر مجبور ہوں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…