بدھ‬‮ ، 14 جنوری‬‮ 2026 

ملکی تاریخ کے خوفناک ترین زلزلے کو 10سال بیت گئے، آثارآج بھی باقی

datetime 8  اکتوبر‬‮  2015 |

مظفرآباد(نیوز ڈیسک)..8اکتوبر2005 کو آنے والے زلزلے میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والا علاقہ تھا آزاد جموں و کشمیر، یہاں ہزاروں عمارتیں تباہ ہو گئیں۔ 8اکتوبر 2005تاریخ کا ایک ایسا دن جو شاید کئی نسلوں تک بھلایا نہ جا سکے گا یہ قیامت خیز زلزلہ صرف 10منٹ میں سب کچھ اجاڑ کر چلا گیا۔8اکتوبر کے زلزلے میں آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد سمیت ضلع نیلم، ہٹیاں، باغ اور راولاکوٹ میں کم بیش 46000انسان سیمنٹ اور گارے کی بنی عمارتوں کے ملبے میں دب کر جاں بحق ہو گئے۔ زخمیوں کی تعداد شاید اس سے کئی گنا زیادہ تھی، جن میں سے سینکڑوں زخمی ایسے بھی تھے جو اب ہمیشہ ہمیشہ کے لئے معذورہو چکے ہیں۔درسگاہوں میں موجود 18000سے زائد طالبعلموں سے تو بستیوں کی بستیاں ویران ہوگئیں۔ زلزلہ نے 3000تعلیمی ادارے، 150سے زائد طبی مراکز اور اسپتال زمین بوس کر دیے سینکڑوں کلو میٹر سڑکیں اور پل جبکہ کچے پکے 314000مکانات کو صفحہ ہستی سے مٹا کر رکھ دیا تھا۔دکھ کی اس گھڑی میں پوری قوم متاثرین زلزلہ کے ساتھ کھڑی ہوگئی۔ فرشتہ صفت مددگار امدادی سامان بھرے ہوئے ٹرک لئے اپنے زلزلہ زدہ بہن بھائیوں کی مدد کے لئے جوق درد جوق زلزلہ متاثرہ علاقوں کے طرف گامزن تھے۔ ایک منظر خاکی پوشوں کے اس قافلے کا بھی جو پاکستانی سرحدوں کی حفاظت کرتے کرتے کشمیر میں اپنی چھتوں اور دیوار تلے دب جانے والوں کو زندہ بچانے کے لئے تگ و دو کرتے نظر آئے۔دنیا سے مدد کی اپیل کی گئی تو دیکھتے ہی دیکھتے مذہب اور رنگ و نسل سے بالا تر ہوکر دنیا 8.5بلین ڈالر امداد لے کر آگے بڑھی۔ دنیا بھر سے آنے والی ٹیموں نے زلزلہ متاثرین کے زخموں پر مرہم رکھنا شروع کر دیا، تو کیمپوں میں مقیم بے سرو سامان متاثرین نئے شہر آباد کرنے کا عزم لئے میدان میں اترنا شروع ہوگئے۔ ملبے کے ڈھیروں نئی بستیوں نے جنم لیا اور آج 10سال بعد زندگی پہلے سے بہتر انداز سے مسکرا رہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سہیل آفریدی کا آخری جلسہ


وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…