منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

برطانوی شاہی محل میں نوکریاں آ گئیں

datetime 27  مئی‬‮  2024 |

لندن(این این آئی)شاہی محل سے متعلق دلچسپ معلومات تو بہت ہیں تاہم کچھ ایسی ہوتی ہیں جو کہ سب کو حیران ہی کر دیتی ہیں۔تاہم ان دنوں شاہی محل میں آنے والی نوکریوں اور ملازمین کی تنخواہ سوشل میڈیا صارفین کی توجہ حاصل کر رہی ہے۔برطانوی شاہی محل سے متعلق برطانوی میڈیا کی جانب سے انکشاف کرتے ہوئے کہنا تھا کہ شاہی محل کبھی سنسان نہیں دکھائی دیتا ہے، اور نہ سوتا ہے۔ملازمین کے لیے مختص کیا گیا دروازہ 24 گھنٹے کھلا رہتا ہے، جہاں رات کے 12 بجے بھی ملازمین کی آوت جاوت رہتی ہے، اسی طرح رات کے 3 بجے بھی دودھ والا شاہی محل پہنچ جاتا ہے۔

اسی طرح 3 بجے کے بعد سے ہی شاہی خاندان کے کچن میں صبح کے ناشتے کی تیاریوں کا آغاز بھی ہو جاتا ہے، فروٹس، شربت، ناشتے کے لوازمات تیاری سے لے کر ڈائننگ ٹیبل کی تیاری سب کچھ شاہی خاندان کے آنے سے پہلے ہی کر لی جاتی ہے۔ رائل شیف مارک فلینیگن کی جانب سے روزانہ کی بنیاد پر 6 ہزار کے قریب لوازمات تیار کیے جاتے ہیں، اس وقت شاہی محل میں 3 شیف سمیت 10 نوکریاں کے حوالے دے درخواستیں جمع کرائی جا رہی ہیں۔اگرچہ کنگ چارلز کی جانب سے اپنے ملازمین کے لیے کئی سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں، تاہم تنخواہ اس حد تک زیادہ نہیں ہوتی ہے۔تاہم ایک سابق شاہی محل کے ملازم کا کہنا تھا کہ شاہی محل میں کام کرنے والے کو کسی دوسری جگہ باآسانی اور زیادہ تنخواہ مل جاتی ہے، اس سابق ملازم کو بھی امریکہ میں نوکری مل گئی تھی، جبکہ انہیں امریکہ میں 75 ہزار ڈالرز سالانہ یعنی 2 کروڑ سے زائد پاکستانی روپے بنتے ہیں، لے رہے ہیں۔

دوسری جانب شاہی محل کے جونئیر اسٹاف ہر گھنٹے کے 10 برطانوی یورو ملتے ہیں جو کہ پاکستانی تقریبا 3 ہزار روپے سے زائد بنتے ہیں۔جبکہ عام نوکریوں ہی کی طرح 8 گھنٹے کی نوکری ہو سکتی ہے، اس طرح 8 گھنٹوں کے 80 یورو جو کہ پاکستانی 24 ہزار روپے سے زائد کی رقم بنتی ہے۔لیکن اس کے ساتھ ہی ملازمین کو محل میں رہائش کی سہولت سمیت کھانا بھی مفت دیا جاتا ہے۔ جبکہ محل میں انگلش بریک فاسٹ، لنچ، ڈنر بھی مفت دیا جاتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…