ہفتہ‬‮ ، 30 مئی‬‮‬‮ 2026 

جسٹس جاوید اقبال کی حالت زندگی پر ایک نظر

datetime 3  اکتوبر‬‮  2015 |

اسلام آباد،لاہور(سپیشل رپورٹ، ہمایوں خان) جسٹس (ر) جاوید اقبال5 اکتوبر 1924 کوسیالکوٹ میں پیدا ہوئے ،1944 ءمیں بی اے آنرز کی گورنمنٹ کالج لاہور سے حاصل کی،1948 پنجاب یونیورسٹی سے انگریزی اور فلاسفی میں ایم اے کا امتحان اعزازی نمبروں سے پاس کیااوراعلیٰ کارکردگی دکھاتے ہوئے سونے کا تمغہ حاصل کیا، 1954 میں برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی سے پی۔ ایچ۔ ڈی اور 1956 میں بارایٹ لا ہوئے۔ 1961 میں امریکی حکومت کی دعوت پر وہاں کی اعلیٰ ترین درس گاہوں میں ”اقوام متحدہ کا مستقبل“ پر لیکچر دیئے اوراقوام متحدہ میں پاکستان کی نمائندگی کی ،1965 میں جاوید اقبال لاہورہائی کورٹ بار ایسوسی ایشی کے نائب صدر اور 1971میں لاہور ہائی کورٹ کے جج مقرر ہوئے۔جنرل ضیاءالحق کے دورِ حکومت میں 8 مارچ 1982 سے 5 اکتوبر 1986 تک لاہور ہائی کورٹ بطور چیف جسٹس خدمات سرانجام دیں،جس کے بعد انہوں نے سپریم کورٹ کے جج کی حیثیت سے حلف اٹھایا اور 4 اکتوبر 1989 کو ریٹائرڈ ہوئے اور وہ سینیٹ کے منتخب نمائندے بھی رہے،ریٹائرمنٹ کے بعد ایک دانشور کی حیثیت سے سرگرم عمل ہیں، ڈاکٹر جاوید اقبال انگریزی اور اردو میں 12 کتابوں کے مصنف ہیں جبکہ 3 جلدوں پر مشتمل علامہ اقبال کی سوانح حیات بھی شامل ہیں،، نظریہ پاکستان، قائداعظم کا ورثہ، افکار اقبال، اسلام اور پاکستان کی شناخت، اسلام میں ریاست کا تصور، اپنا گریبان چاک ان کی شہرہ آفاق تصانیف شمار کی جاتی ہیں،ڈاکٹر جاوید اقبال ریٹائرمنٹ کے بعد ایک دانشور کی حیثیت سے سرگرم عمل رہے ، ملک اور بیرون ملک مختلف موضوعات پر انہوں نے متعدد لیکچر بھی دیئے،شاعر مشرق علامہ اقبال نے اپنے بیٹے جاوید اقبال کے نام پر ایک مشہور کتاب ”جاوید نامہ“کے نام سے لکھی جنہیں دنیا بھر میں شہرت ملی۔جسٹس جاوید اقبال نے سوگواران میں اہلیہ جسٹس (ر) ناصرہ اقبال اور دو بیٹے ولید اقبال اور منیب اقبال چھوڑے ہیں۔



کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…