منگل‬‮ ، 14 جولائی‬‮ 2026 

سمندر پار پاکستانی کے اکائونٹ سے 41کروڑ روپے کی چوری، فارنزک رپورٹ سینیٹ کمیٹی میں پیش

datetime 14  فروری‬‮  2024 |

اسلام آباد(این این آئی)ایف آئی اے نے سمندر پار پاکستانی کے اکائونٹ سے جعل سازی کے ذریعے 41کروڑ روپے چوری ہونے کے معاملے کی ابتدائی فارنزک رپورٹ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانے کے سامنے پیش کردی جبکہ کمیٹی نے مجرمان کو کیفرکردار تک پہنچانے کی ہدایت کردی۔بدھ کوسینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہائوس میں ہوا جہاں سمندر پار پاکستانی کے اکائونٹ سے جعل سازی کے ذریعے41کروڑ روپے چوری کرنے کے معاملہ کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں ایف آئی اے نے ابتدائی فارنزک رپورٹ خزانہ کمیٹی میں پیش کر دی ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کمیٹی کو کو بتایا کہ نجی بینک کا عملہ اور ملزمان جعلی دستخطوں میں ملوث ہیں اور ملزمان کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے گی۔

انہوں نے بتایاکہ فراڈ میں بینک عملے کے تین اہلکار ملوث ہیں،تاہم معاملے کی مزید تحقیقات ہوگی جبکہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے ایف آئی اے سے 21فروری کو دوبارہ رپورٹ طلب کر لی ہے۔متاثرین نے کمیٹی کو بتایا کہ2017سے جعلی چیک بک اور دستخطوں کے ذریعے بینک اکائونٹس سے رقم نکالی جارہی ہے، پولیس اور بینک انتظامیہ کی جانب سے ہمیں ہراساں کیا جارہا ہے، ایک ہی روز میں اکائونٹ سے ٹیلی فون کی بنیاد پر ایک کروڑ 30لاکھ روپے نکلوائے گئے۔کمیٹی نے مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کی ہدایت کر دی جس پر ایف آئی اے حکام نے کہا کہ ایف آئی اے نے اس پر ابتدائی تحقیقات کی ہیں اور یہ فراڈ ہوا ہے،جعلی دستخطوں کے ذریعے صارف کے اکائونٹ سے رقم نکالی گئی ہے اور41کروڑ روپے نکالے جانے کے حوالے سے فارنزک کا عمل مکمل کرلیا گیا ہے۔متاثرین نے کہاکہ9چیک بکس جعلی دستخطوں کے ذریعے نکلوائی گئی ہیں جس پر ایف آئی حکام نے بتایاکہ اس میں جو بھی ملوث ہوں گے، ان کو نہیں چھوڑیں گے۔

کمیٹی کے رکن سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ جن لوگوں پر صارف کو شک ہے ان کے نام ایف آئی اے کو دئیے جائیں جس پر قائم مقام سی ای او بینک نے کمیٹی اجلاس کے شرکا کو بتایا کہ2022میں بینک منیجر کے کردار کو مشکوک سمجھا گیا اور منیجر کے خلاف تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔انہوںنے کہاکہ رقم قرض کے طور پر دی گئی،بینک نے تحقیقات کے بعد وہ قرض واپس لیا اور وہ رقم صارف کو واپس کردی گئی اور ان سے دستخط لیے گئے ہیں جبکہ بینک نے صارف سے تمام تفصیلات مانگی ہیں اور اب تک وہ تفصیلات نہیں دی گئیں۔سینٹر فاروق ایچ نائیک نے قائم مقام سی ای و بینک سے کہا کہ کوئی امریکا کا بینک ہے یا دوبئی کا ہم اپنی خودمختاری دا ئوپر نہیں لگا سکتے۔

سینیٹر شیری رحمن نے کہا کہ ہم کسی بینک کی بدنامی نہیں کرنا چاہتے، 2017سے یہ معاملہ چل رہا ہے اور کمیٹی کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کسی کی جانب داری کی جائے۔سینیٹر کامل علی آغا نے کہاکہ بینک کو تحقیقات کرنے کا موقع دیا جانا چاہیے، بینک کو ایف آئی اے سے پہلے تحقیقات کا موقع ملنا چاہیے۔سینیٹر شیری رحمن نے کہاکہ ایف آئی اے تحقیقات کر رہا ہے، بینک ایف آئی اے کے پاس جائے جس پر متاثرہ بینک اکائونٹ ہولڈرز نے کہاکہ بینک کی جانب سے ہمارے ساتھ تعاون نہیں کیا گیا اور بینک اس معاملے کو دبانے کی کوشش کررہا ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے ایف آئی اے سے اس حوالے سے 7روز میں رپورٹ طلب کرلی۔



کالم



پاکستان کا المیہ


شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…

دنیا کا سب سے بڑا غار

چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…

اواتار مائونٹین

اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…