جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

فوج اپنا کام کرے عدالتیں اپنا کام کریں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

datetime 14  فروری‬‮  2024 |

اسلام آبا د(این این آئی)سپریم کورٹ کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سپریم کورٹ میں دفاعی زمینوں پر کمرشل سرگرمیوں کے خلاف کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دئیے ہیں کہ سب کو اپنے مینڈیٹ میں رہنا چاہیے، فوج اپنا کام کرے عدالتیں اپنا کام کریں۔بدھ کو ایک کیس کی سماعت کے دور ان چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے ریمارکس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ اصول تو یہی ہے کہ سب اپنا اپنا کام کریں۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کو ایسی ہدایات ہیں تو عدالت کو یقین دہانی کرا دیں۔ای ٹی پی بی کے وکیل نے عدالت میں کہا کہ جس بلڈنگ سیتنازع شروع ہواوہ متروکہ وقف املاک بورڈ کی ہے، الاٹیز نے جعلی دستاویزات پر زمین اپنے نام کر کے بیچ دی، اب وہاں 5 منزلہ عمارت ہے۔

جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ 5 منزلہ بلڈنگ بنتی رہی تب متروکہ وقف املاک بورڈ تماشائی بنا رہا؟چیف جسٹس نے کہا کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی ملی بھگت کے علاوہ غیر قانونی تعمیرات ممکن نہیں، ایس بی سی اے کے انسپکٹرز اور اوپر کے افسران کے اثاثے چیک کرانے چاہئیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ کراچی کے سب رجسٹرارز کے اثاثوں کا آڈٹ بھی ایف بی آر سے کرانا چاہیے، آمدن سے زائد تمام اثاثوں سے رقم گرائی گئی عمارتوں کے رہائشیوں کو ملنی چاہیے، سندھ حکومت یہ انکوائری کبھی نہیں کرے گی۔ڈی جی سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی بھی عدالت میں پیش ہوئے۔چیف جسٹس نے پوچھا کہ ایس بی سی اے میں کتنے انسپکٹر اور افسران ہیں؟ ڈی جی ایس بی سی اے نے جواب دیا کہ ایس بی سی اے میں مجموعی طور پر 1400ملازمین ہیں، ان میں 600 بلڈنگ انسپکٹر اور 300 سینئر انسپکٹر ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…