جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

ایسا حکم نہیں دینا چاہتے جس سے الیکشن میں تاخیر ہو، سپریم کورٹ

datetime 31  جنوری‬‮  2024 |

اسلام آباد(این این آئی)سپریم کورٹ نے کاغذات نامزدگی کی منظوری سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دئیے ہیںکہ ہم ایسا حکم نہیں دینا چاہتے جو انتخابات میں تاخیر کا باعث بنے۔سپریم کورٹ کے جسٹس جمال مندوخیل نے پی پی 224 سے امیدوار کی کاغذات نامزدگی کی منظوری کے لیے دائر اپیل پر سماعت کی جس سلسلے میں اسپیشل سیکرٹری الیکشن کمیشن عدالت میں پیش ہوئے۔

دوران سماعت عدالت نے کہا کہ درخواست گزار نے اپیل دائر کرنے میں 12 دن کی تاخیر کی، بروقت اپیل دائر ہوتی تو انتخابات کیلئے اجازت مل سکتی تھی، ہم ایسا حکم نہیں دینا چاہتے جو انتخابات میں تاخیر کا باعث بنے۔جسٹس جمال مندو خیل نے اسپیشل سیکرٹری سے سوال کیا کہ الیکشن کمیشن نے شیڈول اتنا کم مدتی کیوں رکھا ہے؟ الیکشن کمیشن کو علم ہونا چاہیے تھا کہ اپیلیں بھی دائر ہونی ہیں۔اسپیشل سیکرٹری الیکشن کمیشن ظفر اقبال نے عدالت کو بتایا کہ اس مرحلے پرکاغذات منظورکیے تو حلقے میں انتخابات تاخیرکا شکار ہوسکتے ہیں، بیلٹ پیپرز کی پرنٹنگ کا عمل مکمل ہوچکا ہے اور کئی اضلاع میں بیلٹ پیپرزکی ترسیل کا عمل جاری ہے۔

اسپیشل سیکرٹری نے عدالت کو بتایا کہ مجموعی طورپر 859 حلقوں کیلئے 26 کروڑ بیلٹ پیپرزچھاپے گئے ہیں، گزشتہ انتخابات میں 850 اور اس مرتبہ 2170 ٹن کاغذ منگوایا گیا ہے، امیدوار زیادہ ہونے کی وجہ سے بیلٹ پیپرزکیلئے 2400 ٹن کاغذ کی ضرورت تھی، کاغذ کی ضرورت پوری کرنے کیلئے بیلٹ پیپرکا سائزچھوٹا کردیا ہے۔بعد ازاں عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد پی پی 224 سے امیدوار کی کاغذات نامزدگی کی منظوری کیلئے دائر اپیل خارج کردی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…