جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

انتخابات کے ذریعے کرسی کی جنگ آپ لڑتے ہیں، ہم اسے مقدس جہاد سمجھتے ہیں، فضل الرحمن

datetime 29  جنوری‬‮  2024 |

سکھر (این این آئی)جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ جب ہم الیکشن میں حصہ لیتے ہیں تو کہتے ہیں کہ یہ کرسی کی جنگ لڑ رہے ہیں، کرسی کی جنگ آپ لڑتے ہیں، مفادات کی جنگ آپ لڑتے ہیں، ہم اسے دین اسلام کو اقتدار میں لانے کے لیے مقدس جہاد سمجھتے۔جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ 75 سال سے زائد عرصہ ہوگیا پاکستان کی سیاست غور سے دیکھی ہے، تائید کریں گے جس ملک کو اسلامی نظام حیات کے لیے قائم کیا تھا آج اس کا وہ اسلامی چہرہ مسخ کردیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب ہم الیکشن میں حصہ لیتے ہیں تو کہتے ہیں کہ یہ کرسی کی جنگ لڑ رہے ہیں، کرسی کی جنگ آپ لڑتے ہیں، مفادات کی جنگ آپ لڑتے ہیں، ہم اسے دین اسلام کو اقتدار میں لانے کیلئے مقدس جہاد سمجھتے۔انہوںنے کہاکہ ہم نے کٹھن سفر طے کیے ہیں، اس راستے میں ڈاکٹر خالد نے خون کا نظرانہ پیش کیا ہے، ہم نے ملک کی، انسانی حقوق کی، بہتر معشیت، بہتر روزگار کی جنگ لڑی ہے، کوئی بہتر روزگار سوشل ازم میں تلاش کرتا ہے تو کوئی مغربی ممالک میں۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ بحیثیت قوم ہمیں سوچنا ہوگا ہم کہاں بھٹکے ہوئے ہیں، کدھر جارہے ہیں، جب نعمتوں کی ناشکری کی جائے تو اللہ دو طرح کا عذاب لاتا ہے، ایک بھوک دوسرا بدحالی، میں پوچھتا ہوں کیا سندھ میں امن و امان ہے، قتل نہیں ہوتے، ایسا کیوں ہے کیوں کہ یہاں ظلم ہے، ایک طبقہ سوچتا ہے میں جو چاہے کروں۔انہوں نے کہا کہ سندھ میں آکر ہمیشہ محبت پائی ہے، جب ہم سیاسی طور پر کمزور تھے تو یہاں کے عوام کو نہیں بچا سکتے تھے، اب کہتا ہوں کہ اگر اس دھرتی پر غریب کو ٹیڑھی آنکھ سے دیکھا تو آنکھ نکال دیں گے، ٹانگ توڑ دیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…