جمعرات‬‮ ، 15 جنوری‬‮ 2026 

انتخابات کے ذریعے کرسی کی جنگ آپ لڑتے ہیں، ہم اسے مقدس جہاد سمجھتے ہیں، فضل الرحمن

datetime 29  جنوری‬‮  2024 |

سکھر (این این آئی)جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ جب ہم الیکشن میں حصہ لیتے ہیں تو کہتے ہیں کہ یہ کرسی کی جنگ لڑ رہے ہیں، کرسی کی جنگ آپ لڑتے ہیں، مفادات کی جنگ آپ لڑتے ہیں، ہم اسے دین اسلام کو اقتدار میں لانے کے لیے مقدس جہاد سمجھتے۔جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ 75 سال سے زائد عرصہ ہوگیا پاکستان کی سیاست غور سے دیکھی ہے، تائید کریں گے جس ملک کو اسلامی نظام حیات کے لیے قائم کیا تھا آج اس کا وہ اسلامی چہرہ مسخ کردیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب ہم الیکشن میں حصہ لیتے ہیں تو کہتے ہیں کہ یہ کرسی کی جنگ لڑ رہے ہیں، کرسی کی جنگ آپ لڑتے ہیں، مفادات کی جنگ آپ لڑتے ہیں، ہم اسے دین اسلام کو اقتدار میں لانے کیلئے مقدس جہاد سمجھتے۔انہوںنے کہاکہ ہم نے کٹھن سفر طے کیے ہیں، اس راستے میں ڈاکٹر خالد نے خون کا نظرانہ پیش کیا ہے، ہم نے ملک کی، انسانی حقوق کی، بہتر معشیت، بہتر روزگار کی جنگ لڑی ہے، کوئی بہتر روزگار سوشل ازم میں تلاش کرتا ہے تو کوئی مغربی ممالک میں۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ بحیثیت قوم ہمیں سوچنا ہوگا ہم کہاں بھٹکے ہوئے ہیں، کدھر جارہے ہیں، جب نعمتوں کی ناشکری کی جائے تو اللہ دو طرح کا عذاب لاتا ہے، ایک بھوک دوسرا بدحالی، میں پوچھتا ہوں کیا سندھ میں امن و امان ہے، قتل نہیں ہوتے، ایسا کیوں ہے کیوں کہ یہاں ظلم ہے، ایک طبقہ سوچتا ہے میں جو چاہے کروں۔انہوں نے کہا کہ سندھ میں آکر ہمیشہ محبت پائی ہے، جب ہم سیاسی طور پر کمزور تھے تو یہاں کے عوام کو نہیں بچا سکتے تھے، اب کہتا ہوں کہ اگر اس دھرتی پر غریب کو ٹیڑھی آنکھ سے دیکھا تو آنکھ نکال دیں گے، ٹانگ توڑ دیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ونڈر بوائے


یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…