جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

عجیب بات ہے کہ ایک ہی سیاسی جماعت کے ساتھ یہ سب ہو رہا ہے،جسٹس اطہر من اللہ

datetime 26  جنوری‬‮  2024 |

اسلام آباد (این این آئی)سابق وزیر ا علیٰ پنجاب پرویز الٰہی کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف اپیل پر سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ عجیب بات ہے کہ ایک ہی سیاسی جماعت کے ساتھ یہ سب ہو رہا ہے۔سپریم کورٹ میں چوہدری پرویز الٰہی کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کیخلاف اپیل پر سماعت کے دوران جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ ووٹرز کو ان کے حق رائے دہی سے محروم نہیں رکھا جانا چاہیے۔

جسٹس جمال مندوخیل نے مخالف امیدوار سے استفسار کیا کہ 10 مرلہ پلاٹ کے کاغذ تک آپ کو کیسے رسائی ملی؟ جس پر وکیل حافظ احسان کھوکھر نے بتایا کہ 10 مرلہ پلاٹ کی دستاویز پٹواری سے ملی۔جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کیا آپ یہ کہنا چاہتے ہیں نگران حکومت اس میں ملوث ہے جبکہ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا ہمیں اس پٹواری کا نام بتائیں، جس پر وکیل نے بتایا کہ پٹواری کا نام قیصر ہے۔

جسٹس اطہر من اللہ نے کہا ریٹرننگ افسر کا کام سہولت پیدا کرنا ہے ناکہ انتخابات میں رکاوٹ ڈالنا، عجیب بات ہے کہ ایک ہی سیاسی جماعت کے ساتھ یہ سب ہو رہا ہے، الیکشن کا مطلب لوگوں کی شمولیت ہے انہیں باہر نکالنا نہیں، ایسا تاثر نہیں جانا چاہیے کہ صرف ایک ہی جماعت کے ساتھ یہ سب ہو رہا ہے۔جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ آرٹیکل 17 کہتا ہے ٹھوس وجوہات کے بغیر الیکشن سے کسی کو روکا نہیں جا سکتا، آئین انتخابات کیلئے ڈی فرنچائز نہیں انفرنچرائز کرنے کی سہولت دیتا ہے۔

وکیل حافظ احسان کھوکھر نے کہا 2018 کے ایک فیصلے کا حوالہ دینا چاہتا ہوں جس پر جسٹس اطہر من اللہ نے کہا 2018 کے فیصلے کا حوالہ نہ دیں جس میں سپریم کورٹ نے بیان حلفی خود دیا تھا۔جسٹس مندوخیل نے کہا پرویز الٰہی کے کاغذات کی اسکروٹنی پر صرف مخالف فریق ارسلان سرور تھے، جس پر ان کے وکیل فیصل صدیقی نے کہا اسکروٹنی کے وقت تو پرویز الٰہی کے تمام وکلا کو بھی اغوا کر لیا گیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…