جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

سزائے موت پانے کے سبب معطل جج کے 10 سال سے تنخواہ و مراعات لینے کا انکشاف

datetime 5  جنوری‬‮  2024 |

کراچی (این این آئی)قتل کیس میں سزائے موت کے سبب قید معطل سیشن جج کے 10 سال سے تنخواہ اور مراعات لینے کا انکشاف ہوا ہے۔معطل سیشن جج سکندر لاشاری سیشن جج خالد شاہانی کے بیٹے کے قتل کے الزام میں 2014ء میں گرفتار ہوا تھا۔معطل جج سکندر لاشاری کو اے ٹی سی نے 2018ء میں جرم ثابت ہونے پر سزائے موت کا حکم سنایا تھا، 2020ء میں سندھ ہائی کورٹ نے اس کی اور شریکِ جرم کی سزائے موت برقرار رکھی تھی۔مجرم جج سکندر لاشاری کے خلاف سندھ ہائی کورٹ نے تاحال کوئی محکمہ جاتی کارروائی نہیں کی ہے، معطل جج تاحال ہائی کورٹ کے ریکارڈ میں سینیارٹی لسٹ میں تیسرے نمبر پر ہے۔

قیدی معطل جج سکندر لاشاری گرفتاری کے دن سے تاحال تمام مراعات سمیت مکمل تنخواہ لے رہا ہے، اس نے گزشتہ ماہ دسمبر 2023ء کی تنخواہ 5 لاکھ 41 ہزار روپے وصول کی۔قید جج سکندر لاشاری کی فیملی کے پاس تاحال جوڈیشری کی سرکاری گاڑی بھی ہے۔قانونی ماہرین کی رائے ہے کہ قواعد کے مطابق جرم میں ملوث ہونے کے شواہد پر کسی انکوائری کی ضرورت نہیں، جرم میں ملوث ہونے کے شواہد پر فوری ملازمت سے بر طرف کیا جانا چاہیے۔سابق جج اسد راشدی نے اس حوالے سے کہاکہ سزا یافتہ جج کو بر طرف کر کے تمام مراعات واپس لینی چاہیے تھیں، اس کیس میں جوڈیشری کا رویہ جانبدارانہ اور اپنے افسر کو سپورٹ کرنے والا ہے۔نجی ٹی وی کے مطابق انہوںنے کہاکہ سکندر لاشاری کو ملنے والی تنخواہ اور مراعات نے سزا کو بے معنی بنا دیا ہے۔رجسٹرار سندھ ہائی کورٹ سہیل لغاری نے رابطے اور تحریری درخواست کے باوجود اس معاملے پر موقف نہیں دیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…