اتوار‬‮ ، 30 ‬‮نومبر‬‮ 2025 

تھر، پانی فراہمی کے آر او پلانٹس کا معاہدہ ختم، حکومتی رویہ غیرسنجیدہ

datetime 28  ستمبر‬‮  2015 |

کراچی (نیوز ڈیسک) عشروں سے تھر میں پانی کا بڑا ذریعہ آر او پلانٹس ہیں، تاہم یہ جان کر حیران ہوں گے کہ آپریشن اینڈ مینٹی ننس کا معاہدہ جون 2015ءمیں ختم ہونے کے بعد حکومت سندھ ان آر او پلانٹس کو چلانے میں کوئی سنجیدہ کوششیں نہیں کر رہی، یہ معاہدہ صوبائی حکومت اور ٹھیکے دار کے درمیان ہوا تھا جس نے یہ پلانٹس نصب کیے تھے، جنگ رپورٹر سید منہاج الرب کے مطابق سندھ کول اتھارٹی کے ڈیزل سے چلنے والے آر او پلانٹس سے 4 پیسے فی لیٹر پانی فراہم کیا جا رہا تھا اور محکمہ خصوصی اقدامات کے سولر پلانٹس پورے تھر میں نصب ہیں اور 2 پیسے فی لیٹر پانی دیتے ہیں، تھر 15000 کلومیٹر رقبہ پر محیط ہے، ان پلانٹس کو چلانا حکومت کیلئے بڑا چیلنج ہے، ذرائع کے مطابق موجودہ ٹھیکے دار نے جون 2015ئ کے اپنے مراسلے میں حکومتی افسران کو بتا دیا تھا کہ آپریشن، مینٹی ننس کا ٹھیکہ 30 جون 2015ءکو ختم ہو رہا ہے، متعلقہ محکمہ آر او پلانٹس کا چارج سنبھال لے، لیکن نہ تو حکومت نے آر او پلانٹس کا انتظام سنبھالا ہے اور نہ ہی نئے ٹھیکے کیلئے ٹینڈر طلب کیا ہے اور موجودہ ٹھیکے دار ہی اپنے وسائل سے ان پلانٹس کو چلا رہا ہے، کنٹریکٹر نے حکومت سے کہا ہے کہ اس کے محدود وسائل ہیں جو جولائی تا ستمبر 2015ءکے بقایا جات کی عدم ادائیگی کے باعث ختم ہو رہے ہیں، تھر میں 450 پلانٹس کو چلانے کیلئے تقریباً ہزار افراد سے زیادہ افراد کام کر رہے ہیں اور ہزاروں افراد کو ایک کروڑ گیلن پانی روز فراہم کیا جاتا ہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ چند پیسہ فی لیٹر کی لاگت انتہائی مناسب اور تھر کے لوگوں کیلئے مفید ہے۔ حکومت کو فنڈز میں کسی بے ضابطگی سے بچنے کیلئے کنٹریکٹ جاری رکھنا چاہیے اور ٹھیکے دار کو مزید 5 برس کیلئے اس اسکیم کو چلانے کا پابند کرنا چاہیے، حکومت سندھ کا موقف جاننے کے لئے صوبائی وزیر اطلاعات اور وزیر بلدیات سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے فون کا جواب دیا نہ ٹیکس میسجز کے جوابات دیئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



جنرل فیض حمید کے کارنامے(آخری حصہ)


جنرل فیض حمید اور عمران خان کا منصوبہ بہت کلیئر…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(چوتھا حصہ)

عمران خان نے 25 مئی 2022ء کو لانگ مارچ کا اعلان کر…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(تیسرا حصہ)

ابصار عالم کو 20اپریل 2021ء کو گولی لگی تھی‘ اللہ…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(دوسرا حصہ)

عمران خان میاں نواز شریف کو لندن نہیں بھجوانا…

جنرل فیض حمید کے کارنامے

ارشد ملک سیشن جج تھے‘ یہ 2018ء میں احتساب عدالت…

عمران خان کی برکت

ہم نیویارک کے ٹائم سکوائر میں گھوم رہے تھے‘ ہمارے…

70برے لوگ

ڈاکٹر اسلم میرے دوست تھے‘ پولٹری کے بزنس سے وابستہ…

ایکسپریس کے بعد(آخری حصہ)

مجھے جون میں دل کی تکلیف ہوئی‘ چیک اپ کرایا تو…

ایکسپریس کے بعد(پہلا حصہ)

یہ سفر 1993ء میں شروع ہوا تھا۔ میں اس زمانے میں…

آئوٹ آف سلیبس

لاہور میں فلموں کے عروج کے زمانے میں ایک سینما…

دنیا کا انوکھا علاج

نارمن کزنز (cousins) کے ساتھ 1964ء میں عجیب واقعہ پیش…