جمعرات‬‮ ، 05 فروری‬‮ 2026 

جنرل راحیل شریف کے دورہ برطانیہ میں ہائی پروفائل سیکورٹی اجلاس ہوں گے

datetime 17  ستمبر‬‮  2015 |

لندن (نیوز ڈیسک) پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف برطانیہ کے دورے میں برطانوی حکام کے ساتھ ہائی پروفائل سیکورٹی اجلاسوں میں شریک ہوں گے، جن میں سیکورٹی کے ساتھ ساتھ جنوبی ایشیا کی صورت حال پر بھی تبادلہ خیال ہوگا۔جنگ رپورٹر مرتضیٰ علی شان کے مطابق رائل یونائٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ نے ’دی نیوز‘ کو تصدیق کی ہے کہ پاکستان کے آرمی چیف یکم اکتوبر کو ’پاکستان سیکورٹی کانفرنس 2015 ‘ سے خطاب کریں گے ، جس میں سرکردہ تھنکرز، پریکٹشنرز اور سرکاری حکام موجودہ اسٹریٹجک پالیسی اور پاکستان کو درپیش ملکی اور علاقائی سیکورٹی کے مسائل پر بحث کریں گے۔ اس موقع پر جنرل راحیل شریف علاقائی تناظر میں سیکورٹی مسائل بشمول پاکستان کی ملکی سیکورٹی، دہشت گردی کے خلاف جنگ ، پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف مسلسل کارروائیاں اور کراچی آپریشن جیسے موضوعات کا احاطہ کریں گے۔ وہ اس امر پر بھی روشنی ڈالیں گے کہ پاک فوج ملکی و غیر ملکی خطرات کو کس نظر سے دیکھتی ہے ، اسی اجلاس میں پاک برطانیہ سیکورٹی ارینج منٹس پر بھی تبادلہ خیال ہوگا۔ RUSIکے ریسرچ فیلو کمال عالم نے بتایا کہ موجودہ آرمی چیف ،جو اپنے عہدے کی میعاد کے دو سال پورے کرچکے ہیں، نے پاک فوج کے سابق سربراہ جنرل اشفاق کیانی سے بالکل مختلف رویہ اپنایا ہے۔انھوں نے کہا کہ جنرل کیانی متحرک نہیں تھے، وہ خاص طور پر کراچی کے معاملے میں دیکھو اور انتظار کرو کی پالیسی پر عمل پیرا تھے۔ موجودہ فوجی قیادت ، اور ڈی جی آئی ایس آئی رضوان اختر کے لیے ملکی سیکورٹی ان کی اولین ترجیح ہے۔ کمال عالم نے کہا کہ برطانوی نقطہ نظر سے پاکستان انسداد دہشت گردی میں ایک اہم اتحادی ہے ، اور علاقائی سیکورٹی کے تناظر میں نہ صرف ہندوستان اور افغانستان بلکہ مغربی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے لیے بھی پاکستان ایک اہمیت خاص اہمیت رکھتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان سیکورٹی مسائل اور علاقائی استحکام کے حوالے سے برطانیہ کےساتھ مل کر کام کررہا ہے ، پاکستان کی جغرافیائی پوزیشن اورچین کے ساتھ تاریخی تعلقات کے تناظر میں یہ امر اہمیت رکھتا ہے کہ مغرب اور خاص طور پر امریکہ پاکستان کو کس نظر سے دیکھتے ہیں،جس نے مشرقی ایشیا میں اپنا مدار قائم کررکھا ہے۔ کانفرنس کے دوسرے اجلاس سے میجر جنرل عامر ریاض اور تیسرے اجلاس سے سینیٹر مشاہد حسین پاکستان اور افغانستان کی سیکورٹی کا ایک دوسرے سے تعلق، ملا عمر کی موت اور طالبان میں دھڑے بندی کے اثرات جیسے موضوعات پر خطاب کریں گے



کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…