اتوار‬‮ ، 30 ‬‮نومبر‬‮ 2025 

حکومت سے 1947 سے 2001 تک کا توشہ خانہ کا مکمل ریکارڈ طلب

datetime 10  اپریل‬‮  2023 |

لاہور ( این این آئی) لاہورہائیکورٹ نے حکومت سے1947ء سے 2001ء تک کا توشہ خانہ کا مکمل ریکارڈ طلب کرلیا۔ہائیکورٹ میں جسٹس شاہد بلال حسن کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے توشہ خانہ ریکارڈ پبلک کرنے سے متعلق سنگل بینچ کے فیصلے کیخلاف وفاقی حکومت کی اپیل پرسماعت کی ۔وفاقی حکومت کے وکیل نے کہا کہ سنگل بنچ نے تحائف دینے والے ممالک کا ریکارڈ پبلک کرنے کا کہا ہے۔

حکومت نے توشہ خانہ کے تحائف کا ریکارڈ پبلک کر دیا ہے۔اگرتحائف دینے والے سورس کا بتاتے ہیں تو خارجی تعلقات متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔جسٹس محمد رضا قریشی نے ریماکس دئیے کہ وفاقی حکومت کی اپیل سے کیا ایسے نہیں لگتا کہ جو ہے وہ بھی لٹانے آ گئے ہیں،اب تو معاملہ اس سے آگے جانا ہے۔وکیل اظہرصدیق نے کہا حکومت پھنس رہی تھی اس لیے توشہ خانہ کا ریکارڈ پبلک کیا گیا۔جسٹس شاہد بلال حسن نے ریماکس میں کہا کہ ابھی تو بڑے بڑے پھنسیں گے عوام کی حکومت عوام کے لیے ہے۔وفاقی حکومت کے وکیل نے کہا کہ حکومت نے سب کچھ ویب سائٹ پر ڈال دیا ہے،صرف تحائف کے سورسز کی حد تک ریلیف مانگا ہے۔جسٹس رضا قریشی نے ریما کس میں کہا کہ کیا تحائف لینے والے ڈکلیئر بھی کر رہے تھے کہ نہیں،جسٹس شاہد بلال حسن نے ریمارکس میں کہا کہ اگرہمیں کوئی گفٹ دے تو ہم بھی تحائف ڈکلیئر کرنے کے پابند ہیں۔وفاقی حکومت کے وکیل نے کہا کہ ریاست کی نمائندگی کرنے والوں پر تحائف ڈکلیئر کرنا لازم ہے۔1990ء سے 2001ء تک کا ریکارڈ چھپانے کی کوشش نہیں کر رہے۔

جسٹس شاہد بلال حسن نے ریماکس میں کہا کہ 1990ء سے پہلے کا ریکارڈ کدھر ہے؟۔وکیل وفاقی حکومت نے کہا کہ 1990ء سے پہلے کا ریکارڈ ہمارے پاس نہیں ہے۔اس پر جسٹس شاہد بلال حسن نے کہا کہ ریکارڈ آپ کے پاس ہونا چاہیے آپ حکومت ہیں۔جسٹس شاہد بلال حسن نے کہا کہ ہم فریقین کو مکمل سن کر فیصلہ کریں گے۔عدالت نے حکومت سے 1947ء سے 2001ء تک کا توشہ خانہ کا مکمل ریکارڈ طلب کرلیا۔عدالت نے فریقین کو 17 اپریل کے لیے نوٹس بھی جاری کر دیئے ۔خیال رہے کہ وفاقی حکومت نے توشہ خانہ کی تفصیلات پبلک کرنے کے عدالتی فیصلے کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا۔اس سے قبل سنگل بنچ نے 1990سے 2001تک تحائف کی تفصیلات پبلک کرنے کا حکم دیا تھا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



جنرل فیض حمید کے کارنامے(آخری حصہ)


جنرل فیض حمید اور عمران خان کا منصوبہ بہت کلیئر…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(چوتھا حصہ)

عمران خان نے 25 مئی 2022ء کو لانگ مارچ کا اعلان کر…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(تیسرا حصہ)

ابصار عالم کو 20اپریل 2021ء کو گولی لگی تھی‘ اللہ…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(دوسرا حصہ)

عمران خان میاں نواز شریف کو لندن نہیں بھجوانا…

جنرل فیض حمید کے کارنامے

ارشد ملک سیشن جج تھے‘ یہ 2018ء میں احتساب عدالت…

عمران خان کی برکت

ہم نیویارک کے ٹائم سکوائر میں گھوم رہے تھے‘ ہمارے…

70برے لوگ

ڈاکٹر اسلم میرے دوست تھے‘ پولٹری کے بزنس سے وابستہ…

ایکسپریس کے بعد(آخری حصہ)

مجھے جون میں دل کی تکلیف ہوئی‘ چیک اپ کرایا تو…

ایکسپریس کے بعد(پہلا حصہ)

یہ سفر 1993ء میں شروع ہوا تھا۔ میں اس زمانے میں…

آئوٹ آف سلیبس

لاہور میں فلموں کے عروج کے زمانے میں ایک سینما…

دنیا کا انوکھا علاج

نارمن کزنز (cousins) کے ساتھ 1964ء میں عجیب واقعہ پیش…