قلندرز نے پشاورزلمی کو چاروں شانے چِت کر دیا

  اتوار‬‮ 21 فروری‬‮ 2021  |  18:35

کراچی (این این آئی)لاہور قلندرز نے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) 2021 کے اپنے پہلے میچ میں پشاور زلمی کو 4 وکٹوں سے شکست دے کر پہلی کامیابی حاصل کی اور دو قیمتی پوائنٹس بھی حاصل کرلیے،پشاور زلمی نے روی بوپارا کی نصف سنچری کی بدولت پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 140 رنز بنا کر لاہور قلندرز کو مقررہ 20اوورز میں 141 رنز کا ہدف دیا،لاہور قلندرز نے 141 رنز کا ہدف 19 ویں اوور کی تیسری گیند پر 6 وکٹوں کے نقصان پر حاصل کرلیا،محمد حفیظ نے 33 اور راشد خان 27 رنز بنا کر ناقابل شکست رہے،شاہین شاہ


آفریدی کو میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔اتوار کو کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں کھیلے جارہے میچ میں لاہور قلندر کے کپتان سہیل اختر نے ٹاس جیت کر پشاور زلمی کے کپتان وہاب ریاض کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی۔لاہور قلندر نے رواں سیزن میں اپنے پہلے میچ کا آغا دھواں دار انداز میں کیا اور شاہین شاہ آفریدی نے پہلی گیند پر امام الحق کو وکٹ کیپر بین ڈنک کے ہاتھوں آؤٹ کردیا۔کامران اکمل اور شعیب ملک کی تجربہ کار جوڑی نے زلمی کی بیٹنگ کو آگے بڑھایا تاہم قلندرز کے سلمان مرزا نے انہیں زیادہ مہلت نہیں دی اور 5 رنز بنا کر کھیلنے والے کامران اکمل کو پویلین بھیج دیا۔زلمی کی تیسری وکٹ 19 رنز پر گری جب نوجوان بلے باز حیدر علی صفر پر سلمان مرزا کی دوسری وکٹ بن گئے۔شعیب ملک نے روی بوپارا کے ہمراہ چوتھی وکٹ میں ٹیم کو نصف سنچری کے قریب پہنچایا لیکن ان کی پیش قدمی کو ڈیوڈ ویزے نے روک دی، اس وقت شعیب ملک 26 رنز بنا چکے تھے۔روی بوپارا نے مشکلات میں گری پشاورزلمی کے اسکور کو ذمہ دارانہ انداز میں آگے بڑھایا اور شرفین روتھرفورڈ نے ان کابھرپور ساتھ دیا اور دونوں بلے بازوں نے 17 ویں اوور میں ٹیم کی سنچری مکمل کی۔شاہین شاہ آفریدی کو باؤلنگ کے لیے واپس لایا گیا تو انہوں نے 17 ویں اوور کی آخری گیند پر روتھرفورڈ کی وکٹ حاصل کرکے زلمی کی پانچویں وکٹ گرادی، جنہوں نے 26 رنز بنائے۔روی بوپارا کی پشاور زلمی کی جانب سے اچھی بیٹنگ کی سیزنکی پہلی نصف سنچری بھی مکمل کی تاہم شاہین شاہ آفریدی نے ان کے 50 رنز مکمل ہوتے ہی راشد خان کے ہاتھوں کیچ کروا دیا، اس وقت زلمی کا اسکور 124 رنز تھا۔قلندر کی جانب سے آخری اوور دانیال نے کیا اور اس اوور میں زلمی نے 2 چھکے بھی لگائے تاہم کپتان وہاب ریاض کو ایک چانس بھی مل گیا۔پشاور زلمی نے مقررہاوورز میں 6 وکٹوں پر 140 رنز بنائے۔عماد بٹ 23 اور وہاب ریاض ایک رن بنا کر ناٹ آؤٹ رہے جبکہ قلندرز کی جانب سے شاہین شاہ آفریدی نے سب سے زیادہ 3 وکٹیں حاصل کیں، سلمان مرزا نے 2 اور ایک وکٹ ڈیوڈ ویزے کو ملی۔ہدف کے تعاقب میں قلندرز کے کپتان سہیل اختر اور فخرزمان نے بیٹنگ شروع کی اور اچھا آغازکرتے ہوئے شراکت میں 29 رنز بنائے۔سہیل اختر 14 رنز بنا کر مجیب الرحمن کو وکٹ دے گئے۔فخرزمان آؤٹ ہونے والے دوسرے بلے باز تھے جو وہاب ریاض کی گیند پر گیند کو باؤنڈری سے باہر پھینکنے کی کوشش میں شعیب ملک کے کیچ کا نشانہ بنے۔تجربہ کار محمد حفیظ سلمان آغاز کا ساتھ نبھانے آئے اور بہترین بیٹنگ کرتےہوئے آٹھویں اوور میں ٹیم کی نصف سنچری مکمل کی، جس کے بعد سلمان آغا 53 کے مجموعی اسکور پر آؤٹ ہوگئے۔بین ڈنک نے روایتی انداز میں جارحانہ انداز اپنایا اور خوب صورت اسٹروکس کھیلے لیکن ایک بڑی اننگز کھیلنے میں ناکام رہے تاہم ٹیم کو اچھی پوزیشن پر لاکھڑا کیا اور 22 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے، جس میں 2 چوکے اورایک چھکا شامل تھا.ثاقب محمود نے زلمی کو 16 ویں اوور میں دو کامیابیاں دلائی اور ایسے موقع پر وکٹ پر جم کر کھیلنے والے سمت پٹیل اور نئے بلے باز ڈیوڈ ویزے کو واپس پویلین بھیج دیا۔قلندرز کے آل راؤنڈر راشد خان نے شان دار بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 3 چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے ناقابل شکست 27 اورمحمد حفیظ نے 33 رنز بنا کر ٹیم کو فتح دلائی.لاہور قلندرز نے 141 رنز کا ہدف 19 ویں اوور کی تیسری گیند پر 6 وکٹوںکے نقصان پر 143 رنز بنا کر حاصل کیا اور پی ایس ایک چھٹے ایڈیشن کی پہلی فتح حاصل کی.محمد حفیظ نے 33 اور راشد خان 27 رنز بنا کر ناقابل شکست رہے،زلمی کی جانب سے کپتان وہاب ریاض اور ثاقب محمود نے 2،2 وکٹیں حاصل کیں،شاہین شاہ آفریدی کو میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔میچ میں لاہور قلندرز کے باؤلر دلبر حسین ہیمسٹرنگ انجری کے باعث میچ نہیں کھیل رہے اور ان کی جگہ سلمان مرزا کو ٹیم کا حصہ بنایا گیا۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

یہ ہوں یا نہ ہوں

سرتاج عزیز صاحب کو اگر لیونگ لیجنڈ کہا جائے تو یہ غلط نہیں ہو گا‘ یہ 92سال کے ”نوجوان“ ہیں‘ پوری زندگی قومی اورعالمی اداروں میں کام کیا‘ اس وقت پوری سیاسی لاٹ میں ان سے زیادہ تجربہ کار بیوروکریٹ‘ ایکسپرٹ اور سمجھ دار شخص نہیں‘ یہ تاریخ کے ناظر بھی ہیں اور خود بھی ایک تاریخ ہیں۔سرتاج ....مزید پڑھئے‎

سرتاج عزیز صاحب کو اگر لیونگ لیجنڈ کہا جائے تو یہ غلط نہیں ہو گا‘ یہ 92سال کے ”نوجوان“ ہیں‘ پوری زندگی قومی اورعالمی اداروں میں کام کیا‘ اس وقت پوری سیاسی لاٹ میں ان سے زیادہ تجربہ کار بیوروکریٹ‘ ایکسپرٹ اور سمجھ دار شخص نہیں‘ یہ تاریخ کے ناظر بھی ہیں اور خود بھی ایک تاریخ ہیں۔سرتاج ....مزید پڑھئے‎