سیالکوٹ میں عمارت گرانے پر خواجہ آصف کے بیٹے کا موقف بھی سامنے آگیا

2  فروری‬‮  2021

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک )سیالکوٹ انتظامیہ کی جانب سے سابق میئر اور خواجہ آصف کے بیٹے توحید اختر کی ہائوسنگ سوسائٹی میں قائم چار منزلہ عمارت گرائے جانے کے معاملے پر سابق میئر توحید اختر کا موقف سامنے آگیا۔روزنامہ جنگ کی رپورٹ کے مطابق توحید اختر نے کہا کہ حکومت کی بربریت کا منہ بولتا ثبوت

سامنے آگیا ہے،ریاست عوام کیساتھ ایسا سلوک کرے گی تو کس سے فریاد کی جائے۔نجی ہاوسنگ سوسائٹی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق میئر نے بتایا کہ ہمارے عدالتوں میں پہلے سے ہی کیسز چل رہے ہیں ہمیں بغیر کسی نوٹس اور اطلاع کیے بغیر آپریشن کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ دبائو کا یہ سلسلہ دس سال قبل شروع ہو گیا تھا جب میں نے سیاست میں قدم رکھا اور حکومت کی جانب سے اڑھائی سال سے مجھ پر دبائوڈالا جارہا ہے کہ مسلم لیگ ن سے وابستگی ختم کردو، اگر وفاداری نبھانا جرم ہے تو یہ جرم بار بار ہوگا۔سابق میئر سیالکوٹ نے واضع کیا کہ جس کالونی میں ہم بیٹھے ہیں اسکے پہلے فیز میں 137 کنال کا رقبہ منظور ہوا تھا جس میں پارک، مسجد اور قبرستان کی جگہ دے دی گئی ہے۔مجھ پر اینٹی کرپشن میں مقدمہ چلایا جا رہاہے جس کا مدعی خود ڈی سی سیالکوٹ ذیشان جاوید ہے۔ اینٹی کرپشن کی ٹیکنیکل ٹیم نے پارک کے رقبے کو ناپا وہ اصل رقبے سے زیادہ نکلا۔ یہ حکومت اب زیادہ دیر نہیں چلے گی جو بیج بوئے جارہے ہیں اسکی فصل کاٹنی پڑے گی۔انہوں نے کہا کہ انتظامیہ ہمیں نوٹس جاری کر دیتی تاکہ ہم اپنا قیمتی سامان نکال لیتے آپریشن سے پہلے ہمیں اندر جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔

موضوعات:



کالم



مرحوم نذیر ناجی(آخری حصہ)


ہمارے سیاست دان کا سب سے بڑا المیہ ہے یہ اہلیت…

مرحوم نذیر ناجی

نذیر ناجی صاحب کے ساتھ میرا چار ملاقاتوں اور…

گوہر اعجاز اور محسن نقوی

میں یہاں گوہر اعجاز اور محسن نقوی کی کیس سٹڈیز…

نواز شریف کے لیے اب کیا آپشن ہے (آخری حصہ)

میاں نواز شریف کانگریس کی مثال لیں‘ یہ دنیا کی…

نواز شریف کے لیے اب کیا آپشن ہے

بودھ مت کے قدیم لٹریچر کے مطابق مہاتما بودھ نے…

جنرل باجوہ سے مولانا کی ملاقاتیں

میری پچھلے سال جنرل قمر جاوید باجوہ سے متعدد…

گنڈا پور جیسی توپ

ہم تھوڑی دیر کے لیے جنوری 2022ء میں واپس چلے جاتے…

اب ہار مان لیں

خواجہ سعد رفیق دو نسلوں سے سیاست دان ہیں‘ ان…

خودکش حملہ آور

وہ شہری یونیورسٹی تھی اور ایم اے ماس کمیونی کیشن…

برداشت

بات بہت معمولی تھی‘ میں نے انہیں پانچ بجے کا…

کیا ضرورت تھی

میں اتفاق کرتا ہوں عدت میں نکاح کا کیس واقعی نہیں…