پیر‬‮ ، 28 ستمبر‬‮ 2026 

چین پی ٹی آئی حکومت پر شک کرنے لگا، عمران خان کے اوپر سب سے بڑا اعتراضات سامنے آگئے

datetime 23  اکتوبر‬‮  2019 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سینئر صحافی اور کالم نگار سلیم صافی اپنے آج کے کالم ’’گڈ اور بیڈ سیاستدان‘‘ میں لکھتے ہیں کہ ۔۔۔چینی حکومت پی ٹی آئی کی قیادت سے چار وجوہات کی بنا پر شاکی تھی۔ اول اس بنیاد پر کہ عمران خان کے بیٹے برطانیہ کے شہری ہیں۔

دوم اس بنیاد پر کہ نواز شریف اور بالخصوص شہباز شریف ان کے فیورٹ تھے کیونکہ انہوں نے سی پیک پر ویسے کیا جیسے چینیوں نے چاہا۔سوم اس بنیاد پر کہ چینی صدر کو سی پیک کے حوالے سے انتہائی اہم دورہ پاکستان پی ٹی آئی کے دھرنے کی وجہ سے ملتوی کرنا پڑا تھا اور چہارم اس بنیاد پر کہ پی ٹی آئی کی قیادت اور پختونخوا کی حکومت نے مسلم لیگ(ن) کی دشمنی میں سی پیک کے حوالے سے چینیوں کے لئے ناپسندیدہ رویہ اختیار کیا تھا۔انتخابات کے بعد بڑی مشکل سے ان کے چین کے ساتھ تعلقات استوار کئے گئے لیکن ان کے وزرا کے بیانات اور رویے سے چین بدظن ہوگیا۔ دوبارہ چین کے ساتھ وعدے وعید ہوئے لیکن درمیان میں آئی ایم ایف آٹپکا۔ گزشتہ پانچ سال کے دوران امریکہ اور آئی ایم ایف کا مطالبہ رہا کہ سی پیک کے معاہدوں کی تفصیلات اس کے ساتھ شیئر کی جائیں۔اب آئی ایم ایف کے نمائندے وزیر خزانہ بنے اور آئی ایم ایف ہی کے نمائندے چیئرمین ایف بی آر بنے۔ یہی وجہ ہے کہ سی پیک کے حوالے سے چین کا رویہ سرد مہری کا شکار ہوگیا ہے لیکن عمران خان صاحب پھر بھی زندہ باد ہیں کیونکہ وہ گڈ سیاستدان ہیں اور باقی بیڈ سیاستدان ہیں۔وہ پھر بھی محب وطن ہیں لیکن زرداری اورنواز شریف خاکم بدہن مودی کے یار ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…