صرف موجودہ حکومت کے 14ماہ میں پاکستان سٹیل مل کو مجموعی طور پر کتنے ارب روپے کا خسارہ ہوچکا ہے، حیرت انگیز انکشافات

  پیر‬‮ 21 اکتوبر‬‮ 2019  |  22:19

اسلام آباد (این این آئی) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی صنعت و پیداوار نے حکومت سے پاکستان اسٹیل مل کی بحالی اور یوٹیلیٹی سٹورز پر عوام کو ریلیف فراہم کرنے کی سفارش کر دی۔سینیٹر احمد خان کی زیرصدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیداوار کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ موجودہ حکومت کے چودہ ماہ پاکستان اسٹیل مل کو پچاس ارب روپے جبکہ مجموعی طور پر پانچ سو دس ارب روپے کا خسارہ ہو چکا ہےاسٹیل مل کی بحالی کیلئے قائم کمیٹی کے سربراہ عامر ممتاز کا کہنا تھا کہ اسٹیل مل کو چلانے کیلئے


وزارت خزانہ سے مالی وسائل کیلئے بات چیت کریں گے مل کی نجکاری میں تین ماہ سے زیادہ لگ جائیں گے۔چیئرمین کمیٹی احمد خان کا کہنا تھا کہ مل کی بندش کے باعث اسٹیل مل مالکان فی ٹن چالیس فیصد منافع لے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اسٹیل پر ٹیرف درست کر دے تو اسٹیل مل کو بحال کیا جا سکتا ہے اجلاس میں یوٹیلیٹی سٹورز کی بحالی پر بھی غور کیا گیا ایم ڈی یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن عمر لودھی نے کہاکہ یوٹیلیٹی سٹورز کوحکومت سے کوئی سبسڈی اور گرانٹ نہیں ملتی،یوٹیلیٹی سٹور سترہ فیصد سیلز ٹیکس اور ڈیڑھ فیصد ٹرن اوور ٹیکس ادا کرتا ہے،ہر قسم کے ٹیکس دینے اور لاسز کے باوجود سستی اشیاء کیسے فراہم کریں، چیئرپرسن بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام ڈاکٹر ثانیہ نشترنے کہاکہ بے نظیر انکم سپورٹ کیش ٹرانسفر کرتا ہے،بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کیلئے اپنا بجٹ یوٹیلیٹی سٹور کیلئے مختص کرنا ممکن نہیں ہوگا،،سینیٹر آصف کرمانی نے کہاکہ یوٹیلیٹی سٹورز کو ٹیکس استثنیٰ ہونا چاہئے،کسی بھی حکومت کیلئے پچاس ساٹھ ارب سبسڈی دینا بڑی بات نہیں، مشیر صنعت و پیداوار عبدالرزاق داؤد نے کہاکہ کمیٹی اپنی سفارشات دے حکومت اس پر غور کرے گی۔اجلاس میں یوٹیلیٹی سٹورز پر سبسڈی اور ٹیکسوں پر بریفنگ دی جا رہی ہے۔ایم ڈی یوٹیلیٹی سٹورز عمر لودھی نے کہا کہ یوٹیلیٹی سٹورز کو رمضان کے علاوہ حکومت سے کوئی گرانٹ اور سبسڈی نہیں ملتی،ہم ہر طرح کا ٹیکس ادا کرتے ہیں،تمام سیل پر ڈیڑھ فیصد ٹرن اوور ٹیکس ادا کرتے ہیں،رمضان المبارک میں سبسڈی پر بھی ٹیکس ادا کرتے ہیں، اس صورتحال میں یوٹیلیٹی سٹورز پر صارفین کو سبسڈی فراہم نہیں کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یوٹیلیٹی سٹورز 74 روپے فی کلو چینی خرید کر 76 روپے فی کلو پر فروخت کر رہے ہیں،ادارہ نقصان میں ہے سبسڈی نہیں دے سکتے، سینیٹر احمد خان نے کہا کہ کیا بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی کیش گرانٹ سے یوٹیلیٹی سٹورز پر خریداری کی جا سکتی ہے۔چیئر پرسن بی آئی ایس پی ثانیہ نشتر نے بتایا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کیش ٹرانسفر کرتا ہے،لوگوں کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کیلئے احساس پروگرام شروع کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا بجٹ یوٹیلیٹی سٹورز کیلئے مختص کرنا ممکن نہیں،بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا فوکس دوسری طرف ہے،پروگرام کے تحت 50 لاکھ خواتین کو تین ماہ بعد 5 ہزار ملتے ہیں۔ ایم ڈی یوٹیلیٹی سٹورز نے بتایا کہ ہماری تحقیق کے مطابق 80 فیصد رقم کھانے پینے کی اشیاء کیلئے استعمال کی جاتی ہیں۔چیئرپرسن بی آئی ایس پی نے کہاکہ ہمارے پاس کوئی تحقیقات نہیں کہ لوگ اس رقم کو کس طرح استعمال کر رہے ہیں۔ ایم ڈی یوٹیلیٹی سٹورز نے بتایا کہ اگر حکومت بی آئی ایس پی کی 30 فیصد رقم کا استعمال بھی یوٹیلیٹی سٹورز پر کرے تو ادارہ منافع بخش ہو جائے گا،گزشتہ دس سالوں میں ہر سال حکومت کو چار سے چھ ارب روپے ٹیکس کی مد میں ادا کرتے ہیں۔ مشیر تجارت عبدالرازق داؤدنے کہا کہ اس معاملے کو حل کرنے کیلئے ہمیں وقت دیا جائے،ہم اپنی سفارشات وزیراعظم کو پیش کر دیں گے۔سینٹر محمد علی سیف نے کہا کہ ہم ادارے بناتے چلے گئے بغیر سوچے سمجھے کہ ان کا کام کیا ہو گا،افراد قسمت کا فیصلہ کرتے ہیں اداروں کے اندر فیصلہ کرنے کی صلاحیت ختم کر دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ غریب افراد کی حالت تشویشناک ہے انکی مدد کیلئے فوری اقدامات کی ضرورت ہے،سپیشل سیکریٹری وزارت خزانہ نے جس طرح یوٹیلیٹی سٹورز کی تجویز رد کی وہ پریشان کن ہے،کمیٹی اپنی سفارشات دے افسران کی بات نہ سنی جائے،یہاں پر ذاتی عناں پر فیصلے کیے جاتے ہیں۔چیئرپرسن بی آئی ایس پی نے کہا کہ کمیٹی اپنی سفارشات دے ہم ان پر عمل درآمد کرنے کیلئے غور کریں گے۔سینیٹر عبدالکریم نے کہاکہ پالیسی حکومت بناتی ہے مگر پارلیمنٹ اس پر چیک کرتی ہے، حکومت غریبوں کے پروگرام پر ٹیکس وصول کر رہی ہےاور سبسڈی ختم کر دی یے اسکی نشاندہی پارلیمنٹ کرے گی۔سینٹر احمد خان نے کہا کہ سینیٹ قائمہ کمیٹی کی تجویز کا فائدہ دونوں اداروں کو ہونا تھا۔سینٹر عبدالکریم نے کہا کہ اگر غریب کیلئے دال روٹی کا ریٹ بھی طے نہیں کر سکتے تو کمیٹی کو ختم کر دیں۔کمیٹی نے بی آئی ایس پی کی کیش گرانٹ کو یوٹیلیٹی سٹورز پر خریداری کیلئے استعمال میں لانے کی ہدایت کر دی۔سپیشل سیکریٹری وزارت خزانہ عمر حمید خان نے کہا کہ میں تمام سینٹرز کا بے حد احترام کرتا ہوں،کمیٹی کو بتایا گیا کہ بی آئی ایس پی کی 80 فیصد رقم کھانے پینے کیلئے استعمال ہوتی ہے جو درست نہیں،یوٹیلیٹی سٹورز میں کرپشن بہت زیادہ ہے اس لئے بی آئی ایس پی کے ساتھ مل کر کام کرنے میں مشکلات ہیں۔سینیٹر محمد علی سیف نے کہا کہ اگر ادارے میں کرپشن ہے یا کام درست نہیں ہو رہا تو ذمہ دارن گریڈ 22 کے افسران ہیں، نااہلی اور کرپشن کی ساری ذمہ داری افسران پر عائد ہوتی ہے سینٹر احمدخان نے کہا کہ اس وقت ملک کی مشکلات اور بروقت کام نہ ہونے کی ذمہ داری بیوروکریسی پر عائد ہوتی ہے۔ایف بی آر حکام نے بتایا کہ یوٹیلیٹی سٹورز پر کھانے پینے کی تمام اشیاء کو سیلز ٹیکس سے استثنی حاصل ہے،آٹا، دال، چاول، ملک پیک اور سٹیشنری آئٹم پر کوئی سیلز ٹیکس عائد نہیں،صرف چینی اور خوردنی تیل اور گھی پر سیلز ٹیکس عائد ہے،ایم ڈی یوٹیلیٹی سٹورز نے بتایا کہ ہم پر ڈیڑھ فیصد ٹرن اوور ٹیکس عائد ہے جس پر حکومت سبسڈی دیتی ہے اس پر بھی ٹیکس دینا پڑتا ہے،یوٹیلیٹی سٹورز دو سے پانچ فیصد منافع پر چلتا ہے،ہمارے صارفین سارے غریب عوام ہیں۔سینٹر آصف کرمانی نے کہاکہ غریب عوام کو بھی ٹیکس کی چھری ماری جا رہی ہے،ایک اسلامی فلاحی ریاست میں غریبوں کے ساتھ ایسا کرنا بدمعاشی ہے۔سینٹر احمد خان نے کہا کہ ہم کو ماضی کو بھی دیکھنا چاہیے اور اس کا حل کرنا چاہے۔سینٹر آصف کرمانی نے کہا کہ اس معاملے کو سیاسی نہ سمجھا جائے سنجیدگی سے غریبوں کے مسائل حل کیا جائے۔سیکریٹری وزارت صنعت و پیداوار نے کہا کہ حکومت کا یوٹیلیٹی سٹورز کو بند کرنے کا ارادہ نہیں،حکومت کی پوری کوشش ہے یوٹیلیٹی سٹورز کو پاؤں پر کھڑا کیا جائے۔سینٹر اورنگزیب خان نے کہاکہ غریب عوام کی تکلیف ختم کی جائے،یوٹیلیٹی سٹورز پر فروخت ہونے والی اشیاء پر سیلز ٹیکس ختم کیا جائے،بینظیر انکم پورٹ پروگرام کےکم از کم دو ہزار روپے کی یوٹیلیٹی سٹورز پر خریداری کو لازمی کیا جائے۔پپرا حکام نے کہاکہ موجودہ پپرا رولز کے تحت کوئی ریلیف فراہم نہیں کر سکتے،حکومت نے قوانین میں بہتری کیلئے ہدایت کی ہے۔پپرا حکام نے کہاکہ یوٹیلیٹی سٹورز اپنی تجاویز دیدے ہم سفارشات میں شامل کر لیں گے۔عامر ممتاز سربراہ اسٹیل مل بحالی کمیٹی نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ اسٹیل مل کے ریٹائرڈ ملازمین کو کافی مشکلات ہیں،اسٹیل مل کے ذرائع سے ریٹائرڈ ملازمین کو ادائیگی پر غور کر رہے ہیں،نیشنل انڈسٹریل پارک سے 24 کروڑ روپے لینے کی کوشش کر رہے ہیں،اسٹیل مل کے پانچ ارب روپے کا مال پڑا ہوا ہے،اس مال کو فروخت میں دو سال تک لگ جائیں گے،وزارت خزانہ نیشنل بینک سے مال فروخت کرنے کی اجازت دلوائے،یہ مال بینک گارنٹیکے طور پر گودام میں موجود ہے۔سینٹر احمد خان نے کہا کہ سٹیل مل ملازمین کے چولہے بجھ چکے اس کا جلد حل نکالا جائے۔سپیشل سیکریٹری وزارت خزانہ نے کہا کہ وزارت خزانہ نے گزشتہ مالی سال پاکستان سٹیل مل ملازمین کو تنخواہ کی ادائیگی کیلئے 5 ارب 20 کروڑ روپے کی ادائیگی کی،رواں مالی سال تنخواہ کی ادائیگی کیلئے 4 ارب 80 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں،گزشتہ تین سال کے دوران وفات پا جانے والے ملازمین کو ڈیڑھ ارب روپے فراہم کیے گئے،پاکستان سٹیل مل کے ریٹائرڈ ملازمین کے واجبات 15 ارب 80 کروڑ روپے ہیں،سپیشل سیکریٹری وزارت خزانہ نے کہاکہ سارے پیسے وزارت خزانہ نے ادا نہیں کرنے کچھ حصہ اسٹیل مل نے بھی ڈالنا ہے اس طرح ادائیگی میں پانچ سال سے زائد ہو جائیں گے۔ سیکریٹری صنعت و پیداوار نے کہا کہحکومت کی ہدایت ہے کہ اسٹیل مل کو بحال کیا جائے،سٹیل مل پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کی بنیاد پر کسی سرمایہ کار کے حوالے کیا جائے گا،پی ٹی سی ایل کی طرز پر پاکستان اسٹیل مل کسی سرمایہ کار کے حوالے کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ آٹھ سے دس سرمایہ کاروں نے اسٹیل مل لینے میں دلچسپی ظاہر کی ہے،اسٹیل مل کی نجکاری میں دو سے تین ماہ لگ جائیں گے۔سینٹر احمد خان نے کہا کہ اگر تنخواہ نہیں دے سکتے تو ملازمین کو گولڈن ہینڈ شیک دے کر فارغ کر دیں۔ انہوں نے کہاکہ لوگ اس وقت اسٹیل پر زبردست منافع کما رہے ہیں،سکریپ میں ایک کروڑ روپے کی سرمایہ کاری پر تین ماہ تیس لاکھ روپے کا منافع ہے،سٹیل مل کو سکریپ کی درآمد کی اجازت دے دیں اس سے اسٹیل مافیا تباہ ہو جائے گا۔اس موقع پر سٹیل مل ملازمین نے بتایا کہ سٹیل مل کی تباہی کی ذمہ داری وزارت خزانہاور وزارت صنعت و پیداوار پر ہے،مافیا وزارت خزانہ اور وزارت صنعت و پیداوار کے ذریعے اسٹیل مل میں سی ای او اور سی ایف او نہیں لگنے دے رہی۔سٹیل مل ملازمین نے بتایا کہ مل میں کوئی خرابی نہیں ہے صرف پروفیشنل مینجمنٹ نہیں لگنے دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ سٹیل مل کو بحال کرنے ٹیرف کو درست کیا جائے،خرابی اسٹیل مل میں نہیں اسلام آباد میں ہے۔چیئرمین کمیٹی احمد خان نے کہا کہ حکومت 14 ماہ میں اسٹیل مل کی بحالی کیلئے اقدامات نہیں لے سکی۔سربراہ بحالی کمیٹی عامر ممتاز نے کہا کہ وزارت خزانہ نے سٹیل مل کی بحالی کیلئے ہمیں کوئی مالی وسائل فراہم نہیں کئے۔سینٹر آصف کرمانی نے کہا کہ وزارت خزانہ اور وزارت صنعت و پیداوار اور سٹیل مل بحالی کمیٹی سے سٹیل مل کی بحالی کا ورکنگ پلان لیا جائے،اس ورکنگ پلان پر سب کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے۔سپیشل سیکریٹری وزارت خزانہ نے کہا کہ سٹیل مل کی بحالی کا پلان کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی سے منظوری کے بعد کمیٹی سے شیئر کر سکتے ہیں۔

موضوعات:

loading...