ہفتہ‬‮ ، 08 اگست‬‮ 2026 

قبروں پر ٹیکس لگایاجارہاہے یا نہیں؟حکومت کا باضابطہ ردعمل بھی سامنے آگیا

datetime 16  جولائی  2019 |

لاہور(نیوزڈیسک)قبروں پر ٹیکس لگایاجارہاہے یا نہیں؟حکومت کا باضابطہ ردعمل بھی سامنے آگیا، تفصیلات کے مطابق ترجمان وزیراعلیٰ پنجاب ڈاکٹر شہباز گل نے قبروں پر ٹیکس عائد کرنے کی خبروں کی تردید کر دی۔ مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں ڈاکٹر شہباز گل کا کہنا تھا کہ ایک بہت ہی فضول قسم کی افواہ پھیلائی گئی کہ قبرستان ہو ٹیکس لگ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ غلط خبر ہے،

ٹویٹر پر ان کے اس پیغام کے بعد سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی یہ خبریں? دم توڑ گئی ہیں کہ قبرستان میں نئی قبر کھودنے پر ڈیڑھ سے دو ہزار روپے ٹیکس لگ رہا ہے. سوشل میڈیا صارفین نے سیاسی مخالفت کی بنیاد پر ایسی افواہیں? پھیلائے جانے کی شدید مذمت کی ہے.ایسی خبروں کا مقصد ٹیکس کلچر کو بدنام کرنا ہے اور ساتھ ساتھ حکومت کو بھی تاکہ عوام کو یہ تاثر دیا جاسکے کہ یہ بہت ظالم حکومت ہے جو مرنے پر بھی ٹیکس لگارہی ہے۔واضح رہے کہ اس سے قبل میڈیا گروپس قربانی کے جانور پر ٹیکس کی خبریں پھیلا کر عوام کو گمراہ کرچکے ہیں۔قبل ازیں نجی ٹی وی نے دعویٰ کیاتھا کہ صوبائی دارالحکومت لاہور میں نئی قبروں پر فی تدفین ایک ہزار سے 1500 روپے تک ٹیکس لگانے کی تجویز،لاہور میٹرو پولیٹن کارپوریشن نے اپنے زیر انتظام ا?نے والے قبرستانوں میں ٹیکس کی تجاویز منظوری کیلئے مقامی حکومت کو بھجوا دی ہے۔ نجی ٹی وی کے مطابق زیر غور تجویز میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ٹیکس سے اکٹھی ہونے والی رقم کو قبرستانوں کی دیکھ بھال کے لیے خرچ کیا جائے گا۔عام طور پر قبرستان میں جگہ کا کرایہ اور تدفین کے انتظامات ملا کر تقریباً 10 ہزار روپے تک اخراجات آتے ہیں لیکن اب یہ ٹیکس بھی عوام کو دینا پڑے گا۔ اس حوالہ سے باقاعدہ ایک مراسلہ بھجوایا گیا ہے جس کے تحت قبرستانوں پر ایک کمیٹی بنائی جائے گی۔ کمیٹی کی صدارت چیئرمین کریں گے جس میں باقاعدہ تدفین کے گھنٹے سمیت فاتحہ خوانی کرنے والوں

کیلیے بھی وقت مقرر کیا جائے گا۔مراسلے کے مطابق بچوں کی قبر پر ہزار روپے اور بڑوں کی قبر پر 1500 روپے ٹیکس ہوگا۔ فاتحہ خوانی کرنے والے صبح ساڑھے 8 بجے سے شام ساڑھے 5 بجے تک قبرستان ا?سکیں گے جبکہ مقررہ وقت کے بعد قبرستان میں داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔ کمیٹی قبر کی گہرائی، لمبائی اور چوڑائی کا بھی تعین کرے گی۔واضح رہے کہ ان دنوں مختلف کوالٹی کے کفن کی قیمت بھی ایک ہزار سے شروع ہو کر 3ہزار تک پہنچ گئی ہے۔

اپنے پیاروں کی تدفین کیلئے قبر کا حصول بھی کسی معرکہ سر کر نے سے کم نہیں، جن کیلئے نوٹوں کے ساتھ ساتھ تعلقات کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ تدفین کا سامان فروخت کرنے والے دکانداروں نے کہا ہے کہ مہنگائی سے ان کا کاروبار بھی متاثر ہواہے، عوام کیلئے اپنے پیاروں کی تدفین کیوں مشکل ہوتی جارہی ہے،حکمران اگر زندگی آسان نہیں کر سکتے تو کم از کم مرنا تو آسان کردیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…