ملک بھر کے کتنے علاقوں میں لاک ڈائون چل رہا ہے؟حکومت نے باضابطہ طور پر بتا دیا

  ہفتہ‬‮ 6 جون‬‮ 2020  |  10:35

اسلام آباد ( آن لائن )وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ اس وقت ملک میں 700 کے قریب علاقوں میں لاک ڈاؤن ہے۔ کورونا وبا کی صورت حال میں ہمیں اپنے رویے تبدیل کرنا ہوں گے۔ حکومت ہفتہ وار بنیادوں پر 450 سے زائد ہسپتالوں کو پرسنل پروٹیکٹو ایکوئپمنٹ (پی پی ای) فراہم کررہی ہے۔ہفتہ کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اب شکایات ہیں کہ پی پی ایز کا معیار اچھا نہیں یا فراہم نہیں کی گئیں، ہم نے اس کا جائزہ لیا ہے اور ایک مسئلہ


یہ ہے کہ ہسپتال، حکومت کی جانب سے دیے گئے وسائل تقسیم نہیں کررہے۔ دوسری وجہ وسائل کا غیر معقول استعمال ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ایک ہسپتال نے بتایا کہ انہیں پی پی ایز خاص طور پر این-95 ماسک وصول نہیں ہورہے جب میں اجلاس سے باہر آیا ت گارڈ نے این-95 ماسک پہنا ہوا تھا۔انہوں نے بتایا کہ ہسپتالوں میں چوکیدار این 95 ماسک استعمال کررہے تھے جبکہ ڈاکٹرز ہسپتال کے اندر شور مچارہے تھے۔انہوں نے بتایا کہ نیشنل کمانڈ اینڈ سینٹر میں بنائی جانے والی ہماری پہلی سٹرٹیجی یہ ہے کہ مخصوص، غیر متعین اور غیر معینہ مدت کے لیے لاک ڈاؤن کہیں بھی حل نہیں ہے، یہاں تک کہ ایسے علاقوں میں بھی کامیاب نہیں جہاں معیشت کی صورت حال بہت اچھی ہے جبکہ ہماری معاشی صورت حال اس وقت بہت خراب ہے۔ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ اس صورت میں سوال یہ سامنے آتا ہے کہ اس کا حل کیا ہے؟ اس حوالے سے دو مختلف قسم کی آرا موجود ہیں، پہلی یہ کہ ہم نے اپنے رویے میں تبدیلی کرنی ہے اور ایسے رویوں کو اوپر لانا ہے جس کی مدد سے اس وائرس کے خلاف مؤثر اقدمات کیے جاسکیں۔یعنی ہمیں ایس او پیز پر عمل درآمد کروانا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ان ایس او پیز پر زندگی کے ہر شعبے اور ہر کام میں عمل درآمد کروانا ضروری ہیں، جو ایک رویہ ہے اور رویوں میں تبدیلی بھی ایک سائنس ہے جو کسی قانون یا سختی کے ذریعے عمل میں نہیں لائی جاسکتی، ان کا کہنا تھا کہ رویوں میں تبدیلی پہلے آپ کے ذہن میں آتی ہے اس کے بعد وہ پالیسی بنتی ہے اور بعد میں اس پر عمل درآمد کروایا جاتا ہے۔ ان رویوں کی تبدیلی سے ہمارا مقصد ہے کہ ہم وائرس کے ساتھ زندگی گزارنا شروع کریں ۔


موضوعات: