امیر امیر تر اور غریب غریب تر ہو گیا، قومیں تباہ ہو جاتی ہیں جب بڑے لندن چلے جائیں اور چھوٹے چور پکڑے جائیں،وزیراعظم نے زبردست اعلان کر دیا

  جمعہ‬‮ 21 فروری‬‮ 2020  |  18:19

لیہ (این این آئی) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ قومیں تباہ ہو جاتی ہیں جب بڑے بڑے لوگ لندن چلے جائیں اور چھوٹے چور کو پکڑ لیں،پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار احساس پروگرام شروع ہو رہا ہے جس کے ذریعے 80 ہزار لوگوں کو بلاسود قرضے دیئے جائیں گے، ہم پورے ملک میں پناہ گاہیں بنا رہے ہیں، اب تک 180 پناہ گاہیں قائم کی جا چکی ہیں،عدالتوں میں جانے والے غریب لوگوں کو پیسے دیں گے،آئی جی کو کہہ دیا ہے جو بڑے بڑے ڈاکو ہیں ان کو پکڑیں، پولیس بڑے چوروں کو پکڑے گی تو


چھوٹے خود ٹھیک ہو جائیں گے،پاکستان مشکل وقت سے نکل گیا ہے، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم ہوا ہے، روپیہ اور اسٹاک مارکیٹ اوپر آ گئی ہے، آنے والے دنوں میں عوام کو اور خوش خبریاں ملیں گی۔ جمعہ کو یہاں وزیراعظم عمران خان نے لیہ میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہماری کوشش ہے پاکستان کو فلاحی ریاست بنائیں، اب تک ملک میں جو کچھ ہوا، امیر امیر تر اور غریب غریب تر ہو گیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار احساس پروگرام شروع ہو رہا ہے جس کے ذریعے 80 ہزار لوگوں کو بلاسود قرضے دیئے جائیں گے اور نوجوانوں کو ہر سال 50 ہزار اسکالرشپس دی جائیں گی۔عمران خان نے کہا کہ ہم پورے ملک میں پناہ گاہیں بنا رہے ہیں اور اب تک 180 پناہ گاہیں قائم کی جا چکی ہیں۔انہوں نے کہاکہ عدالتوں میں جانے والے غریب لوگوں کو پیسے دیں گے تاکہ وہ وکیل کر سکیں۔ انہوں نے کہاکہ سرکاری اسکولوں میں بہترین تعلیم کیلئے ایک نصاب رائج کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، 70 سال میں جو تعلیم کا نظام بگڑا اسے ٹھیک کرنے میں وقت لگے گا، اساتذہ کی حاضری کو یقینی بنانے کے لیے نظام لا رہے ہیں۔پولیس ریفارمز کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ میں نے آئی جی کو کہا ہے کہ جو بڑے بڑے ڈاکو ہیں ان کو پکڑیں، پولیس بڑے چوروں کو پکڑے گی تو چھوٹے خود ٹھیک ہو جائیں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ قومیں تباہ ہو جاتی ہیں جب بڑے بڑے لوگ لندن چلے جائیں اور چھوٹے چور کو پکڑے جائیں۔انہوں نے کہاکہ پاکستان مقروض ملک تھا، ہر سال قرضوں کی قسطیں واپس کرنی تھیں، اگر ہم پچھلی حکومتوں کے لیے گئے قرض واپس نہ کرتے تو ملک ڈیفالٹ ہو جاتا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان مشکل وقت سے نکل گیا ہے، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم ہوا ہے، روپیہ اور اسٹاک مارکیٹ اوپر آ گئی ہے، آنے والے دنوں میں عوام کو اور خوش خبریاں ملیں گی۔وزیراعظم نے کہا کہ چین کی ترقی کی وجہ یہ ہے کہ اس نے 70 کروڑ لوگوں کو غربت سے نکالا اور یہی ہمارا پاکستان کے لیے خواب ہے، اسی کے لیے یہ احساس پروگرام ہے جس کا مقصد نچلی طبقے کو اوپر اٹھانا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے فیصلہ کیا کہ خواتین کو ایک، گائیں، ایک بھینس اور تین بکریاں دیں گے تاکہ وہ اپنا گھر چلا سکیں جبکہ نوجوانوں کو ہر سال 50 ہزار اسکالرشپس دی جائیں گی۔وزیراعظم نے کہا کہ اس کے علاوہ ہم پورے پاکستان میں پناہ گاہ بنا رہے ہیں، وہ لوگ جو سڑکوں پر سوتے ہیں ان کیلئے یہ پناہ گاہ بنائیں گے تاکہ ایسے لوگ وہاں رات گزار سکیں اور ان کو کھانا مفت ملے۔ایک نئے قانون سے متعلق بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ہم ایک نیا قانون لارہے ہیں تاکہ وہ غریب جو وکیل نہیں کرسکتے انہیں حکومت وکیل کرکے دے گی تاکہ اسے عدالت سے انصاف مل سکے۔ وزیر اعظم نے کہاکہ ملک میں 60 لاکھ خاندانوں کو صحت کارڈ ملے گا جبکہ ہم نے ہسپتال بنانے اور اس کی مشینری کی درآمدات پر تمام ڈیوٹیز ختم کردی ہیں۔اسکولز اور تعلیمی نظام کے حوالے سے انہوں نے کہاکہ پرانے بگڑے ہوئے نظام کو ٹھیک کر رہے جبکہ ایک نصاب کے لیے بھی کام کر رہے ہیں تاکہ سب ایک نصاب سے تعلیم حاصل کرسکیں، اگرچہ یہ مشکل ہے کیونکہ ہم نے 70 برسوں میں اسے بگاڑا ہے جسے ٹھیک کرنے میں تھوڑا وقت لگے گا۔انہوں نے کہا کہ سرکاری اسکولوں میں غیرحاضر رہنے والے اساتذہ کے لیے سزا و جزا کا نظام لارہے ہیں تاکہ وہ استاد جو نہیں آتے انہیں باہر نکالا جائے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے نبی ؐ نے فرمایا تھا کہ بڑی قومی تباہ ہوئیں جہاں کمزور کے لیے الگ اور طاقت ور کے لیے الگ انصاف کا نظام ہو۔


موضوعات: