جمعہ‬‮ ، 11 ستمبر‬‮ 2026 

’’کروناوائرس کے پھیلاؤ کے بعد چین میں پھنسے پاکستانی‘‘ اگر بچوں کے ساتھ کچھ ہو گیا تو کون ذمہ دار ہو گا ،والدین کے سوال پر چیف جسٹس نے وزیراعظم کے معاونین خصوصی کیلئے کیا حکم جاری کر دیا

datetime 14  فروری‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)اسلام آباد ہائی کورٹ نے وزارت خارجہ کو فوری پر چین میں موجود بچوں کے والدین کو مطمئن کرنے کیلئے میکنزم بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہاہے کہ وزیراعظم کے معاونین خصوصی سے بچوں کے والدین کی ملاقات کرائی جائے ،وزارت خارجہ فوری فوکل پرسن مقرر کرے۔ جمعہ کو کروناوائرس کے پھیلاؤ کے بعد چین میں پھنسے پاکستانیوں کو واپس لانے کیلئے

درخواست پر چیف جسٹس ہائی کورٹ اطہرمن اللہ نے کی ۔ دور ان سماعت چیف جسٹس نے کہاکہ کچھ طلبہ نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے ای میل کے ذریعے رابطہ کیا ہے،چین میں موجود طلبہ کہہ رہے ہیں نہ کوئی رابطہ کر رہا ہے نہ مدد کررہاہے۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ ایک خاتون کے ساتھ بچہ بھی ہیسارا طلبہ کو تلاش کرکے مدد کریں۔ حکام وزارت خارجہ نے کہاکہ 620 طلبہ ایک جگہ 1094 طلبہ ووہان میں موجود ہیں،ہر روز ہم چینی سفیر سے ملاقات کرکے اقدامات اٹھا رہے ہیں۔حکام وزارت خارجہ نے کہاکہ چار طلبہ میں سے ایک ٹھیک ہو گیا تین ابھی بہتر ہو رہے ہیں، 64 ہزار مریض اس کیس میں متاثرہو چکے ہیں جس کی وجہ خوف ہے۔ حکام نے بتایاکہ ابھی ہمارے دو آفیسر ووہان پہنچ چکے ہیں اور وہ وہاں پر ہی رہیں گے۔ بچوں کے والدین نے کہاکہ جس طرح کی خوراک وہ چاہتے ہیں ان کو نہیں دی جارہی،بچے مشکلات میں ہیں۔ چیف جسٹس نے کہاکہ یہ بڑی عجیب بات ہے کہ باقی ملک طلبہ نکال رہے ہیں،کیا ہماری اہلیت نہیں۔ حکام نے وزارت خارجہ نے کہا کہ پاکستان میں اب تک 24 ہزار مسافر آچکے ہیں تاہم ووہان سے نہیں آئے۔ بچوں کے والدین نے کہاکہ باقی ممالک اپنے شہریوں کو نکال رہے ہیں24 ممالک نے اپنے طلبہ کو نکالا ہے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ غالبا افغانستان نے بھی طلبہ بھی نکالے ہیں۔ بچوں کے والدین نے بتایاکہ کیا بچے اپریل تک وہاں پھنسے رہیں گے؟

چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے کہاکہ پالیسی کے معالات میں ہم مداخلت نہیں کریں گے،کم از کم یہ کر سکتے ہیں کہ طلبہ ڈائریکٹ ریاست کے ساتھ رابطہ کر سکیں۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہاکہ رہاست پاکستان نے فیصلہ کرنا ہے کیا کرنا ہے۔ حکام وزارت خارجہ نے کہاکہ میں یقین دلاتا ہوں کہ ہم ہر طلبہ سے رابطہ کریں گے۔ طلبہ کے والدین نے کہاکہ تھرڈ ائیر کا میرا بچہ وہاں پرہے۔

بچوں کے والدین نے کہاکہ ووہان میں میرا بچہ ہے ویڈیو دیکھا سکتے ہیں، قریبی یونیورسٹی میں متاثرہ طلبہ کو شفٹ کر دیا ہے، بچوں کے والدین نے کہاکہ کوئی وزیر مشیروہاں آج تک نہیں گیا۔چین میں موجود بچوں کے والدین نے کہاکہ کمروں سے بچے باہر نہیں جا سکتے ہمارے بچوں کو پتہ نہیں کہاں رکھا جائے،میری بچی بھی ادھر ہے حکومت غلط بیانی کر رہی ہے۔بچوں کے والدین نے کہاکہ

یونیورسٹی نے لیٹر دے دئیے لیکن پاکستانی حکومت بچوں کو واپس نہیں لا رہی،بچوں کو چین سے واپس لانے کے لیے حکومت کو حکم دیا جائے۔ چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے کہاکہ وزیراعظم اور کابینہ اس حوالے سے اقدامات اٹھا رہی ہے،20 کروڑ جو پاکستانی یہاں پر ہیں ان کی حفاظت بھی ضروری ہے۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ ریاست کہہ رہی ہے بچے ہمارے ہیں ہر لحاظ سے ان کی حفاظت کی جائے۔

طلبہ کے والدین نے عدالت سے بچے واپس لینے کا حکم دینے کی بار بار استدعا کی ۔ انہوںنے کہاکہ اگر بچوں کے ساتھ کچھ ہو گیا تو کون ذمہ دار ہو گا۔ چیف جسٹس نے کہاکہ ریاست کا فیصلہ ہے ریاست ہی ذمہ دار ہو گی۔ عدالت نے وزارت خارجہ کو فوری پر بچوں کے والدین کو مطمئن کرنے کے لیے میکنزم بنانے کی ہدایت کی ۔ عدالت نے وزیراعظم کے معاونین خصوصی سے بچوں کے والدین کی ملاقات کرانے اور وزارت خارجہ کو موبائل فون،ای میل،واٹس ایپ پبلک کرنے کی ہدایت کی ۔ ہائی کورٹ نے حکم دیاکہ وزارت خارجہ فوری فوکل پرسن مقرر کرے۔ بعد ازاں کیس پر مزید سماعت 21 فروری تک ملتوی کر دی گئی ۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…