پی ٹی آئی حکومت میں عوام کا کچومر نکالنے کی تیاریاں بجلی بلو ں میں ٹی وی فیس 35 سے بڑھا کر ماہانہ کتنے روپے کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا؟جان کر آپ پی ٹی وی ہی دیکھنا چھوڑ دینگے

  بدھ‬‮ 22 جنوری‬‮ 2020  |  6:01

اسلام آباد(آن لائن) پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی )نے ٹی وی لائسنس فیس بڑھا کر عوام سے اضافی 20 ارب بٹورنے کا منصوبہ تیار کر لیا ہے ‘ادارے نے 3مارکیٹنگ منیجرز مجموعی 30لاکھ ماہانہ تنخواہوں پر بھرتی کر لئے‘ 6دہائیوں سے مارکیٹنگ پلان بنانے میں بھی ناکام رہا ۔حکومتی فنڈنگ بھی بند کر دی گئی جبکہ دوسری جانب بورڈ نے اس امر کا اعتراف کیا کہ سرکاری سکرین نہ ویورز کو متوجہ کرتی ہے نہ ہی سرکاری شعبے سے اشتہارات ملتے ہیں ۔ذرائع کے مطابق گزشتہ 18 ماہ سے بجلی کی قیمتوں میں 40 فیصد سے زائد کا اضافی


بوجھ برداشت کرنیوالے صارفین پر ایک اور بوجھ ڈالنے کی تیاری کی جارہی ہے اور پاکستان ٹیلی ویژن کارپوریشن (پی ٹی وی) ٹی فی لائسنس فیس بڑھانے کا منصوبہ بنالیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اپنا کوئی بزنس پلان نہ رکھنے والے مالی مسائل کا شکار ادارہ پی ٹی وی ملک کے بجلی صارفین سے اپنے آپریشنز کی مد میں اضافی 20 ارب روپے لینا چاہتا ہے۔پی ٹی وی بورڈ آف ڈائریکٹرز جس میں زیادہ تر کارپوریشن کے اپنے ملازمین اور دیگر سرکاری حکام شامل ہیں، انہوں نے ایک فنانشل پلان کی منظوری دی ہے جس کے تحت ٹیلی ویژن لائسنس فیس کو موجودہ 35 روپے ماہانہ سے بڑھا کر بجلی صارفین سے 20 ارب روپے وصول کیے جائیں گے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ کارپوریشن نے نجی شعبے سے 3 مارکیٹنگ منیجرز کو مجموعی طور پر 30 لاکھ روپے کی ماہانہ تنخواہوں پر بھرتی کیا ہے، جنہوں نے ملازمین کی مدت ملازمت کو 2 سال کم کرکے 58 سال کرنے کا ایک فنانشل پلان بنایا ہے۔جس سے 15 لاکھ روپے ماہانہ کی بچت ہوگی۔تاہم یہ وہ واحد بچت ہے جو پی ٹی وی اپنے 20 ارب روپے سالانہ یا تقریباً ایک کروڑ 70 لاکھ روپے کے مالی خسارے کیخلاف کرنے پر غور کر رہا ہے۔حیران کن بات یہ ہے کہ سرکاری نشریاتی ادارہ تقریباً 6 دہائیوں میں اپنا مارکیٹنگ پلان بنانے کے قابل نہیں ہوا جبکہ اس کے مقابلے میں کچھ سال قبل آنے والے کئی نجی نشریاتی ادارے منافع کمارہے ہیں۔علاوہ ازیں حکومت نے بھی پی ٹی وی کو فنڈنگ روک دی ہے۔’’آن لائن‘‘کو دستیاب دستاویز کے مطابق پی ٹی وی بورڈ آف ڈائریکٹرز نے لائسنس فیس میں اضافی کی منظوری دیدی ہے اور وہ وزیراعظم سے منظوری کے خواہاں ہیں۔یہ اضافہ سرکاری ٹیلی ویژن کی کاروباری ترقی کی حکمت عملی کا حصہ ہے، جسے حال ہی میں بھرتی کی گئی کاروباری ترقی اور مارکیٹنگ ٹیم نے وضع کیا ہے۔دوسری جانب ذرائع کا کہنا تھا کہ بزنس ڈیولپمنٹ ٹیم (کاروباری ترقی کی ٹیم) نے لائسنس فیس کو 35 سے بڑھا کر 100 روپے ماہانہ کرنے کے اس خیال کو آگے بڑھایا جو بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے صارفین سے بجلی کے بلوں کے ذریعے وصول کی جائیگی۔اس حوالے سے 8 جنوری کو ہونے والے پی ٹی وی بورڈ اجلاس کے منٹس میں کے مطابق منیجنگ ڈائریکٹر نے بورڈ کو آگاہ کیا کہ ٹی وی فیس میں نظرثانی کے لیے وزیراعظم کو دی جانے والی مجوزہ پریزینٹیشن تیار ہے، جس پر بورڈ نے چیئرمین کو تجویز دی کہ وہ وزیراعظم سے پریزینٹیشن کے لیے وقت لیں۔اس پر چیئرمین نے کہا کہ ٹیکس کے معاملہ وفاقی کابینہ سے منظور ہوتے ہیں، لہٰذا ٹی وی فیس میں اضافے کا معاملہ منظوری کے لیے وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کیا جائیگا۔اس سے قبل 9 اکتوبر 2019 کو ہونے والے اجلاس میں پی ٹی وی بورڈ نے تسلیم کیا کہ سرکاری نشریاتی ادارے کی اسکرین، ویورز کو متوجہ نہیں کر رہی اور اسے سرکاری شعبے سے بھی اشتہارات نہیں مل رہے لیکن ان تمام حقیقت کے باوجود اسی اجلاس میں لائسنس فیس بڑھانے کا خیال پیش کیا گیا۔ابتدائی طور پر پی ٹی وی بورڈ نے 35 روپے جو پہلے سے وصول کیے جارہے ہیں اس کے علاوہ 25 روپے اضافے کی تجویز پیش کی تاہم حالیہ اجلاس میں کوئی اعدا و شمار کا حوالہ نہیں دیا گیا لیکن ذرائع کا دعویٰ ہے کہ پی ٹی وی انتظامیہ وزیراعظم سے درخواست کرے گی کہ اسے 35 سے بڑھا کر 100 روپے ماہانہ کردیا جائے۔9 اکتوبر کو ہونے والے اجلاس کے مطابق اضافے کے لیے جواز پیش کرتے ہوئے 'منیجنگ ڈائریکٹر (پی ٹی وی) نے بورڈ کو بتایا کہ دنیا بھر میں صارفین سے ٹی وی لائسنس فیس وصول کی جاتی ہے اور پاکستان میں یہ فیس کئی ترقی یافتہ اور پڑوسی ممالک سے بہت کم ہے۔(تاہم) اس کے باوجود گزشتہ 10 برسوں میں اس حقیقت کو دیکھتے ہوئے کہ تمام اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے ٹی وی فیس کو نہیں بڑھایا گیا'۔علاوہ ازیں ایک سابق سیکریٹری نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پی ٹی وی نے 2007 میں بجلی کے بلوں کے ذریعے لائسنس فیس وصول کرنا شروع کی اور اس وقت وہ تقریباً 3 ارب روپے وصول کررہا تھا۔انہوں نے کہا کہ وقت کیساتھ ساتھ بجلی صارفین کی اضافہ ہوا اور پی ٹی وی کا ریونیو بھی 3 ارب روپے سے 7 ارب روپے تک بڑھ گیا۔ انہوں نے ذرائع کو بتایا کہ اگر پی ٹی وی انتظامیہ کا یہ کہنا کہ وقت کیساتھ ان کے ریونیو میں اضافہ نہیں ہوا تو یہ منصفانہ نہیں۔

موضوعات: