ان کے ساتھ کیسا سلوک کرنا ہے؟بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا دورہ امریکہ، عمران خان نے امریکہ میں مقیم پاکستانیوں کو اہم پیغام دیدیا

  بدھ‬‮ 21 اگست‬‮ 2019  |  21:31

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے دورہ امریکہ کے موقع پر عمران خان نے امریکہ میں مقیم پاکستان کو اہم پیغام دے دیا، پاکستان تحریک انصاف نے بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کو عالمی سطح پر شدید رد عمل دینے کا فیصلہ کرلیا،نریندرا مودی کی امریکہ آمد کے موقع پر شدید احتجاج کیا جائے گا۔ وزیر اعظم عمران خان نے پاکستان تحریک انصاف کی تنظیم برائے بین الاقوامی شعبہ جات کو بھرپور تیاریوں کی ہدایت کر دی۔پاکستان تحریک انصاف کے سیکرٹری او آئی سی ڈاکٹر عبداللہ ریاڑ نے وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کی،اقوام متحدہ، جنرل اسمبلی


کے اجلاس میں شرکت کیلئے نیو یارک آنے والے بھارتی وزیراعظم کے خلاف بھرپور احتجاج کی تیاریوں کی ہدایت کی گئی۔وزیراعظم نے ہدایت کی کہ تحریک انصاف نیویارک میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی بربریت کے خلاف کمیونٹی اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو متحرک کرے۔ وزیر اعظم نے کہاکہ سفاک مودی سرکار تمام انسانی و بین الاقوامی قوانین و ضوابط روندتے ہوئے کشمیریوں کو نشانہ ستم بنانے کی تیاریوں میں ہے، وزیراعظم نے کہاکہ سلامتی کونسل کی قراردادوں اور دو طرفہ معاہدوں کی موجودگی میں بھارت سرکار کے پاس کشمیر پر غاصبانہ قبضے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ انہوں نے کہاکہ بطور سفیر مقبوضہ کشمیر کے عوام کی آواز دنیا کے ہر فورم پر اٹھاؤں گا۔ملاقات میں وزیراعظم کے حالیہ دورہ امریکہ کے بعد کی صورت حال پر بھی بات چیت کی گئی۔ڈاکٹر عبداللہ ریاڑ کی جانب سے ان کے امریکہ میں قیام اور تنظیمی سرگرمیوں پر وزیراعظم کو مفصل بریفنگ دی گئی۔واضح رہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے خلاف لندن میں بھارتی ہائی کمیشن کے باہر ہونے والے مظاہروں پر برطانوی وزیراعظم بورس جانسن سے شکایت کردی۔بھارتی ٹی وی کے مطابق مودی حکومت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی حیثیت میں تبدیلی کے خلاف گزشتہ ہفتے بھارت کے یومِ آزادی کے موقع پر ہزاروں افراد نے بھارتی ہائی کمیشن کے باہر احتجاج کیا تھاجنہوں نے پاکستانی اور کشمیری پرچم اٹھا رکھے تھے۔احتجاج کے حوالے سے نریندر مودی کے حمایتی اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے کارکنوں نے الزام عائد کیا تھا کہ مظاہرین نے بھارتی خواتین اور بچوں پر بوتلیں اور انڈے مارے تھے جبکہ برطانوی حکام انہیں روکنے میں ناکام رہے۔دوسری جانب لندن پولیس نے بتایا کہ پولیس کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے اور جارحانہ ہتھیار رکھنے پر 4 افراد کو حراست میں لیا گیا تھا۔برطانوی وزرات داخلہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ اپنی گفتگو میں انہوں نے ایک بڑے ہجوم کے ہاتھوں لندن میں بھارتی ہائی کمیشنکے خلاف یومِ آزادی پر ہونے والے تشدد اور توڑ پھوڑ کا حوالہ دیا۔ بیان میں بتایا کہ وزیراعظم بورس جانسن نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس بات کی یقین دہانی کروائی کہ ہائی کمیشن، اس کے عملے اور وہاں آنے والے افراد کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے تمام تر ضروری اقدامات اٹھائے جائیں گے۔اس موقع پر نریندر مودی نے بورس جانس کو بتایا کہ دہشت گردی بھارت اور یورپ دونوں کے لیے مسئلہ ہے اور اس لڑنے کے لیے کارروائی کرنی پڑی۔وزارت داخلہ کے بیان کے مطابق نریندر مودی نے داعش کے پھیلاؤ کے خطرے کے تناظر میں بنیاد پرستی، عدم برداشت اور تشدد کے خطرات سے نبرد آزما ہونے کے لیے موثر اقدامات اٹھانے کی اہمیت پر زور دیا۔

موضوعات:

loading...