ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

بھارتی پائلٹ کی گرفتاری ، جنیوا کنونشن کے تحت جنگی قیدیوںکو کیا حقو ق حاصل ہیں؟کیا ابھے نندن کو رہا کیا جانا چاہئے؟پڑھئے ماہرین کی رائے

datetime 28  فروری‬‮  2019 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستا ن نے گزشتہ روز بھارت کے دو جنگی جہاز مار گرائے اور ایک پائلٹ کو زندہ گرفتار کر لیا ، جنیوا کنونشن کے تحت جنگی قیدیوں کو وسیع تحفظ حاصل ہوتا ہے ۔ کنونشن میں ان قیدیوں کو حاصل حقوق کی وضاحت موجود ہے جس میں برتائو اور بالآخر رہائی کا عمل شامل ہے ۔

بین الاقوامی انسانی قانون (آئی ایچ ایل ) بھی مسلح تنازع میں پکڑے جانےوالوں کو تحفظ دیتاہے ۔ جنگی قیدیوں کا درجہ صرف بین الاقوامی مسلح تصادم پر لاگو ہوتا ہے ۔ جنگی قیدیوں کو جنگ میں ملوث ہونے کے باوجود کوئی سزا نہیں دی جاسکتی ۔ انہیں جنگ یا مسلح تنازع کے خاتمے پر رہا کرنا لازمی ہے ۔ماہرین کے مطابق ان سے انسانیت کے ناطے حسن سلوک کرنا، بہتر رہائش، اچھی خوراک اور بہتر لباس اور طبی امداد فراہم کرنا لازم ہے ۔ بین الاقوامی اور جنگی امور کے ماہرین کی رائے میں پاکستان گرفتار بھارتی پائلٹ کواس وقت رہا نہ کرے جب تک تنازع حل نہیں ہوجاتا۔ تاہم قانونی، سفارتی اور فوجی ماہرین جنیوا کنونشن کے بھارتی فضائیہ کے پاکستان میں گرفتار ہوا باز ونگ کمانڈر ابھے نندن پر لاگو ہونے پر منقسم ہیں۔ تاہم اس بات پر متفق ہیں کہ مارگرائے جانے والے طیارے کے ہوا باز کو دونوں ممالک کے درمیان تنازع کے حل تک رہا نہیں کیا جانا چا ہئے۔ کچھ ماہرین کہتے ہیں کہ بھارتی ہوا باز جنگی قیدی ہے اس پر تیسرا جنیوا کنونشن لاگو ہوتا اور وہ اس کے مطابق سہولتوں اور سلوک کا مستحق ہے جبکہ دیگر کی رائے میں اعلان جنگ نہیں ہوا لہٰذا بھارتی ہوا باز کو جنگی قیدی تصور نہیں کیا جاسکتا۔ پاکستان کے سابق سفیر اسلم رضوی کہتے ہیں کہ جنیوا کنونشن صرف اعلانیہ جنگ کی صورت میں لاگو ہوتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…