وہ جو دولت کے ہاتھوں خرچ ہو گیا

  اتوار‬‮ 6 ستمبر‬‮ 2015  |  0:01

وہ کرسی صدارت سے اٹھے اور دونوں کونے میں چلے گئے‘ ہم آواز تو نہیں سن سکتے تھے لیکن وہاں جو کچھ ہو رہا تھا وہ حرکتوں سے صاف نظر آ رہا تھا‘ ڈاکٹرعبدالحفیظ شیخ سر جھکا کر کھڑے تھے اور ڈاکٹر عاصم ہاتھ ہلا ہلا کر ان کی طبیعت صاف کر رہے تھے۔ ہم اگر حضرت زبیر بن عوام ؓ سے سرڈاکٹر ضیاءالدین احمد تک اور ڈاکٹر اعجاز فاطمہ سے ڈاکٹر عاصم کی زندگی کے پہلے حصے تک اور پھر ڈاکٹر عاصم سے لے کر مشیر ڈاکٹر عاصم تک کا سفر دیکھیں تو تاسف اور افسوس کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آتا‘ اللہ تعالیٰ نے ڈاکٹر عاصم کو حسب نسب بھی دیا تھا‘ نام بھی‘ اعلیٰ تعلیم بھی اور ذہانت بھی لیکن اے سی کمرے کی ایک قربانی نے ان

712ءمیں سندھ فتح کیا‘ سندھ کی فتح کے 50 سال بعد زبیری خاندان نے مکہ اور مدینہ سے ہجرت کی‘ یہ لوگ سندھ پہنچ گئے‘ سندھ میں انہوں نے دادو میں سکونت اختیار کی‘ یہ لوگ 400 ہجری تک سندھ میں رہے بعد ازاں نامعلوم وجوہات کی بنا پر سندھ سے ملتان چلے گئے‘ ملتان کے زیادہ تر مشائخ زبیری خاندان سے تعلق رکھتے ہیں‘ 14 ویں صدی عیسوی میں خاندان کا ایک حصہ ملتان سے دہلی شفٹ ہو گیا‘ حضرت شیخ سماع الدین زبیری نے اس ہجرت کی قیادت کی تھی‘ یہ لوگ بعد ازاں دہلی سے لاہور‘ پانی پت‘ لکھنو اور اتر پردیش کے علاقے سمبھل میں پھیل گئے‘ اکبر کے زمانے میں زبیری خاندان کے چند گھرانے میڑھ میں آباد ہو گئے‘ سر ڈاکٹر ضیاءالدین احمد میڑھ کے زبیری خاندان سے تعلق رکھتے تھے‘ ڈاکٹر صاحب کی جوانی اور بڑھاپے کا زیادہ تر حصہ علی گڑھ میں بسر ہوا‘ ان کی تین بیٹیاں اور ایک بیٹا تھا‘ بیٹے کا نام نواب میاں تھا جبکہ بیٹیاں نواب بیگم‘ ارشاد فاطمہ اور اعجاز فاطمہ تھیں۔ زبیری خاندان نے تقسیم ہند کے بعد پاکستان ہجرت کی اور یہ لوگ لاہور‘ کراچی اور راولپنڈی میں آباد ہو گئے‘ زبیری اس وقت کراچی‘ لاہور‘ راولپنڈی‘ سعودی عرب‘ یو اے ای‘ برطانیہ‘ امریکا اور کینیڈا میں آباد ہیں‘ ڈاکٹر ضیاءالدین احمد کراچی تشریف لے آئے‘ ان کے صاحبزادے نواب میاں بھارت میں

رہ گئے اور یہ وہیں انتقال فرما گئے‘ ڈاکٹر صاحب کا انتقال دسمبر 1947ءمیں لندن میں ہوا‘ ان کی بڑی صاحبزادی نواب بیگم کی شادی ڈاکٹر قیوم پاشا کے ساتھ ہوئی‘ ڈاکٹر قیوم پاشا وہ شخصیت تھے جنہیں انگریز سرکار نے پیر صاحب پگاڑا (سید شاہ مردان شاہ) اور ان کے چھوٹے بھائی نادر شاہ کا اتالیق مقرر کیا تھا‘ دوسری صاحبزادی ارشاد فاطمہ کی شادی ایڈمرل یو اے سعید کے ساتھ ہوئی‘ ایڈمرل سعید جنرل یحییٰ خان کے قریبی دوست تھے‘ یہ پاکستان میں نیشنل شپنگ کارپوریشن کے بانی بھی تھے‘ تیسری صاحبزادی ڈاکٹر اعجاز فاطمہ کی شادی ڈاکٹر تجمل حسین کے ساتھ ہوئی‘ ڈاکٹر تجمل پنجابی تھے‘ یہ ڈاکٹر اعجاز فاطمہ کے کلاس فیلو تھے‘ یہ دونوں انتہائی نفیس‘ پڑھے لکھے اور درد دل رکھنے والے لوگ تھے‘ ان کے چار بچے تھے‘ دوبیٹے اور دو بیٹیاں۔ دو بیٹے اور ایک بیٹی ڈاکٹر ہیں‘ بیٹی کراچی کی مشہور گائنا کالوجسٹ ہیں‘ دوسری بیٹی ڈاکٹر ضیاءالدین ہسپتال کی ایڈمنسٹریٹر ہیں جبکہ ایک بیٹے کا نام ڈاکٹر عاصم حسین ہے اور یہ اس وقت کرپشن کے سنگین الزامات بھگت رہے ہیں۔ ہم اب شجرئہ نسب کو یہاں روک کر کہانی کے تین کرداروں ڈاکٹر ضیاءالدین‘ ڈاکٹر اعجاز فاطمہ اور ڈاکٹر عاصم حسین کو ڈسکس کرتے ہیں‘ سر ڈاکٹر ضیاءالدین احمد کمال شخصیت کے مالک تھے‘ میں آپ کو ڈاکٹر صاحب کا تعلیمی بیک گراﺅنڈ گزشتہ کالم ”آپ نے کیا پایا‘کیا کمایا“ میں گوش گزار کر چکا ہوں‘ میں آج ڈاکٹر صاحب کی شخصیت کے تین پہلو سامنے رکھتا ہوں‘ پاکستان جب ناگزیر ہو گیا تو ڈاکٹر صاحب نے محسوس کیا ہمارے نئے ملک کو بیورو کریٹس کی ضرورت ہو گی جبکہ مسلمانوں میں ڈگری ہولڈر بہت کم ہیں‘ ڈاکٹر صاحب نے اس کا دلچسپ حل نکالا‘ انہوں نے علی گڑھ یونیورسٹی میں سپلی مینٹری امتحانات شروع کرا دیئے‘ پاکستان بننے سے قبل علی گڑھ یونیورسٹی نے تین سپلی مینٹری امتحانات لئے اور ان امتحانات سے ہزاروں مسلمان گریجویٹ نکلے‘ یہ گریجویٹ بعد ازاں پاکستان کی سول بیورو کریسی کا حصہ بنے‘ ڈاکٹر صاحب اگر یہ اینی شیٹو نہ لیتے تو نوزائیدہ پاکستان کو کلرک تک نہ ملتے اور یوں یہ ملک جنم لیتے ہی بیورو کریٹک کرائسس کا شکار ہو جاتا‘ ڈاکٹر صاحب کو اپنی نیند پر بے انتہا کنٹرول تھا‘ یہ بیٹھے بیٹھے کہتے تھے‘ میں اب ذرا آٹھ منٹ کےلئے سستانے لگا ہوں اور وہ یہ فقرہ کہتے کہتے گہری نیند میں چلے جاتے اور ٹھیک آٹھ منٹ بعد بیدار ہو جاتے‘ وہ ذہنی طور پر ہمہ وقت مگن رہتے تھے‘ ان کے بارے میں ایک واقعہ مشہور تھا‘ وہ ایک دن سونے کےلئے کمرے میں گئے‘ اپنی چھڑی کو بستر پر لٹا دیا اور خود دروازے کے ساتھ کھڑے ہو کر سو گئے‘ نیند پوری کر کے بیدار ہوئے تو خود کو دروازے کے ساتھ اور چھڑی کو بستر پر دیکھ کر حیران رہ گئے۔ ڈاکٹر اعجاز فاطمہ بھی اپنے والد کی طرح درد دل رکھنے والی خاتون ہیں‘ میاں بیوی نے تعلیم مکمل کرنے کے بعد ناظم آباد میں ہسپتال

بنا لیا‘ یہ اس مریضہ سے فیس نہیں لیتی تھیں جس کا بچہ ڈیلیوری کے دوران فوت ہو جاتا تھا یا جس خاتون کا ”مس کیرج“ ہو جاتا تھا‘ یہ کہتی تھیں‘ میرا ضمیر گوارہ نہیں کرتا‘ میں اس بے چاری سے پیسے لوں جو اپنے بچے کی لاش لے کر جا رہی ہے‘ یہ دونوں میاں بیوی خدا ترسی میں پورے کراچی میں مشہور تھے‘ ڈاکٹر عاصم ایسے ماں باپ اور ایسے نانا کی اولاد ہیں۔ یہ خود بھی بے انتہا ذہین اور محنتی تھے‘ یہ پٹارو کیڈٹ کالج میں جناح گروپ کے کیپٹن تھے‘ یہ بڑے اعزاز کی بات تھی‘ آصف علی زرداری کو کالج سے نکالنے کا فیصلہ ہوا‘ ڈاکٹر عاصم نے انہیں بچا لیا لیکن چند دنوں بعد ایک بار پھر زرداری صاحب کے خلاف ڈسپلن کی خلاف ورزی کا کیس بنا‘ ڈاکٹر عاصم اس بار انہیں نہ بچا سکے اور زرداری صاحب پٹارو سے فارغ کر دیئے گئے‘ یوں ڈاکٹر عاصم اور زرداری صاحب کی راہیں جدا ہو گئیں‘ اس زمانے میں کیڈٹ کالج کے طالب علموں کےلئے لازم تھا‘ یہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد فوجی سروس جوائن کریں‘ ڈاکٹر عاصم کو بھی اس پابندی کا سامنا کرنا پڑا‘ یہ نیوی میں بھرتی ہوئے لیکن جلد ہی بھاگ گئے‘ انہوں نے بعد ازاں ایم بی بی ایس کیا اور پریکٹس شروع کر دی‘ یہ بے نظیر بھٹو کی پہلی حکومت میں سول ہسپتال کراچی میں ملازم تھے‘ غلام اسحاق خان نے اگست 1990ءمیں محترمہ بے نظیر بھٹو کی حکومت ختم کر دی‘ آصف علی زرداری کے خلاف کرپشن کے مقدمات قائم ہوئے اور یہ اکتوبر 1990ءمیں گرفتار ہو گئے‘ یہ گرفتاری کے دوران بیمار ہوئے‘ سول ہسپتال کراچی لے جائے گئے‘ ڈاکٹر عاصم اس وقت سول ہسپتال میں ملازم تھے‘ دونوں نے ایک دوسرے کو پہچان لیا‘ ڈاکٹر عاصم کے کمرے میں اے سی تھا‘ باقی کمرے اور وارڈز اے سی کے بغیر تھیں‘ ڈاکٹر عاصم نے آصف علی زرداری کو اپنا اے سی والا آفس دے دیا اور خود گرم کمرے میں شفٹ ہو گئے‘ یہ مہربانی دوستی کے نئے بندھن کا آغاز ثابت ہوئی اور ڈاکٹر عاصم آہستہ آہستہ آصف علی زرداری کے قریبی دوستوں میں شمار ہونے لگے‘ آصف علی زرداری 2008ءمیں پارٹی کے کو چیئرپرسن بنے‘ پاکستان پیپلز پارٹی اقتدار میں آئی اور ڈاکٹر عاصم پارٹی کے تمام وزراءاور بیورو کریٹس کے باس بن گئے‘ آپ ان کے کروفر اور ہٹو بچو کی داستانیں پیپلز پارٹی کے کسی بھی سابق وزیر اور سینئر بیورو کریٹس سے سن سکتے ہیں‘ میں خود ان کے کروفر کے ایک واقعے کا عینی شاہد ہوں‘ ہم نے 2012ءمیں اسلام آباد میں ایک کانفرنس کرائی‘ وزیر خزانہ ڈاکٹرعبدالحفیظ شیخ اس کانفرنس کی صدارت کر رہے تھے‘ میں وزیر خزانہ کے بالکل ساتھ بیٹھا تھا‘ تقریریں چل رہی تھیں‘ اچانک وزیر خزانہ کا پی ایس آیا اور ان کے کان میں سرگوشی کی ”ڈاکٹر عاصم آپ سے بات کرنا چاہتے ہیں“ وزیر خزانہ نے پی ایس سے کہا ” آپ انہیں بتا دیں‘ میں کانفرنس میں بیٹھا ہوں‘ میں فارغ ہو کر کال کرتا ہوں“ پی ایس چلا گیا لیکن تھوڑی دیر بعد دوبارہ آ گیا اور سرگوشی کی ”سر وہ فوراً بات کرنا چاہتے ہیں“ وزیر خزانہ نے پی ایس کو گھور کر دیکھا‘ وہ پیچھے ہٹ گیا‘ کانفرنس چلتی رہی‘ تھوڑی دیر بعد دروازہ کھلا اور ڈاکٹر عاصم اپنے تین چار حواریوں کے ساتھ بنفس نفیس ہال میں داخل ہو گئے‘ وزیر خزانہ کو اشارہ کیا‘

وہ کرسی صدارت سے اٹھے اور دونوں کونے میں چلے گئے‘ ہم آواز تو نہیں سن سکتے تھے لیکن وہاں جو کچھ ہو رہا تھا وہ حرکتوں سے صاف نظر آ رہا تھا‘ ڈاکٹرعبدالحفیظ شیخ سر جھکا کر کھڑے تھے اور ڈاکٹر عاصم ہاتھ ہلا ہلا کر ان کی طبیعت صاف کر رہے تھے۔ ہم اگر حضرت زبیر بن عوام ؓ سے سرڈاکٹر ضیاءالدین احمد تک اور ڈاکٹر اعجاز فاطمہ سے ڈاکٹر عاصم کی زندگی کے پہلے حصے تک اور پھر ڈاکٹر عاصم سے لے کر مشیر ڈاکٹر عاصم تک کا سفر دیکھیں تو تاسف اور افسوس کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آتا‘ اللہ تعالیٰ نے ڈاکٹر عاصم کو حسب نسب بھی دیا تھا‘ نام بھی‘ اعلیٰ تعلیم بھی اور ذہانت بھی لیکن اے سی کمرے کی ایک قربانی نے ان سے یہ سب کچھ چھین لیا‘ وہ تمام عزت جو خاندان نے حضرت زبیر بن عوامؓ سے لے کر سرڈاکٹر ضیاءالدین تک کمائی تھی وہ چند بینک اکاﺅنٹس‘ چند ایکڑ زمین اور سائرن بجاتی چند گاڑیوں کے نیچے کچلی گئی‘ میں نے زندگی میں اکثر لوگوں کی صدیوں کی عزت کاغذ کے چند ٹکڑوں کے ہاتھوں پرزے پرزے ہوتے دیکھی اور ڈاکٹر عاصم اس کی بدترین مثال ہیں‘ دولت بری چیز نہیں‘ یہ انسان کے سکون اور آرام کی محافظ ہے لیکن غیر ضروری دولت انسان کو اپنا چوکیدار بنا لیتی ہے اور انسان جب دولتی کا چوکیدار بن جائے تو یہ دولت کو خرچ نہیں کرتا دولت اسے خرچ کرتی ہے اور ڈاکٹر ضیاءالدین احمد کا نواسا اور ڈاکٹر اعجاز فاطمہ کا بیٹا دولت کے ہاتھوں خرچ ہو گیا۔