اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

وہ جو دولت کے ہاتھوں خرچ ہو گیا

datetime 6  ستمبر‬‮  2015

وہ کرسی صدارت سے اٹھے اور دونوں کونے میں چلے گئے‘ ہم آواز تو نہیں سن سکتے تھے لیکن وہاں جو کچھ ہو رہا تھا وہ حرکتوں سے صاف نظر آ رہا تھا‘ ڈاکٹرعبدالحفیظ شیخ سر جھکا کر کھڑے تھے اور ڈاکٹر عاصم ہاتھ ہلا ہلا کر ان کی طبیعت صاف کر رہے تھے۔
ہم اگر حضرت زبیر بن عوام ؓ سے سرڈاکٹر ضیاءالدین احمد تک اور ڈاکٹر اعجاز فاطمہ سے ڈاکٹر عاصم کی زندگی کے پہلے حصے تک اور پھر ڈاکٹر عاصم سے لے کر مشیر ڈاکٹر عاصم تک کا سفر دیکھیں تو تاسف اور افسوس کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آتا‘ اللہ تعالیٰ نے ڈاکٹر عاصم کو حسب نسب بھی دیا تھا‘ نام بھی‘ اعلیٰ تعلیم بھی اور ذہانت بھی لیکن اے سی کمرے کی ایک قربانی نے ان سے یہ سب کچھ چھین لیا‘ وہ تمام عزت جو خاندان نے حضرت زبیر بن عوامؓ سے لے کر سرڈاکٹر ضیاءالدین تک کمائی تھی وہ چند بینک اکاﺅنٹس‘ چند ایکڑ زمین اور سائرن بجاتی چند گاڑیوں کے نیچے کچلی گئی‘ میں نے زندگی میں اکثر لوگوں کی صدیوں کی عزت کاغذ کے چند ٹکڑوں کے ہاتھوں پرزے پرزے ہوتے دیکھی اور ڈاکٹر عاصم اس کی بدترین مثال ہیں‘ دولت بری چیز نہیں‘ یہ انسان کے سکون اور آرام کی محافظ ہے لیکن غیر ضروری دولت انسان کو اپنا چوکیدار بنا لیتی ہے اور انسان جب دولتی کا چوکیدار بن جائے تو یہ دولت کو خرچ نہیں کرتا دولت اسے خرچ کرتی ہے اور ڈاکٹر ضیاءالدین احمد کا نواسا اور ڈاکٹر اعجاز فاطمہ کا بیٹا دولت کے ہاتھوں خرچ ہو گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…