بدھ‬‮ ، 27 مئی‬‮‬‮ 2026 

ناراض برطانوی شاہی جوڑابچے کے ہمراہ کس ملک میں  قیام کرنے کا خواہاں نکلا ؟ جانئے

datetime 17  جنوری‬‮  2020 |

ٹورنٹو(ای این آئی)برطانوی شہزادہ ہیری اپنی اہلیہ میگھن مارکل اور بچے کے ہمراہ کینیڈا میں قیام کرنے کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے برطانیہ کے شاہی خاندان کی ناراضی کے باوجود شاہی ذمہ داریوں سے سبکدوشی کا اعلان کرکے ایک نئی روایت قائم کی ہے۔ مگر ان کی کینیڈا آمد پر مقامی میڈیا بھی خوش دکھائی نہیں دیتا۔کینیڈا کے بعض اخبارات میں شائع ہونے والے تجزیوں میں شہزادی ہیری اور میگھن مارکل کے

کینیڈا میں طویل قیام پرعدم اطمینان کا اظہار کیا جا رہا ہے۔کینیڈا کے ایک کثیرالاشاعت اخبار کے اداریے میں بھی برطانوی شاہی جوڑے کے ملک میں مستقل قیام پرکئی سوالات اٹھائے گئے اور کہا کہ شاہی جوڑے کی مستقل میزبانی کینیڈا کے لیے مسائل کھڑے کرسکتی ہے۔اخبار لکھتا ہے کہ برطانوی شاہی جوڑے کا کینیڈا میں قیام مقامی قوانین کی خلاف ورزی ہوگی۔ برطانوی شہزادہ اور اس کا کنبہ کیوں کر کینیڈا میں قیام کرسکتا ہے حالانکہ یہ خاندان ماضی میں یہاں حکمران رہ چکا ہے۔اداریے میں لکھا کہ شاہی جوڑے کو کینیڈا میں رہنے کی اجازت کینیڈا کی حکومت کی رازداری برقرار رکھنے کی کوششوں میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔مزید یہ کہ برطانوی شاہی جوڑے کا یہاں پر طویل قیام برطانیہ اور کینیڈا کے درمیان تعلقات کو خراب کرنے کا باعث بھی بن سکتا ہے۔اداریے میں کہا گیا ہے کہ 1931ء کو ویسٹ منسٹر لاء کے تحت برطانیہ کے ساتھ کینیڈا کے تعلقات کو ایک مساوی اور آزاد ملک کے طور پر واضح انداز میں تسلیم کیا گیا تھا۔کینیڈا تمام مذاہب کے پیروکاروں اور ہرنسل کے افراد کا خیر مقدم کرتا ہے۔ مگر برطانوی شاہی جوڑا اپنے ذاتی نوعیت کے مسائل کے حل کے لیے کینیڈا کو اپنا مرکز بنانا چاہتا ہے۔اگرکوئی عام شخص کینیڈا میں قیام کرتا ہے تو کوئی پریشانی کی بات نہیں مگر کوئی برطانوی شاہی خاندان کا ممتاز رکن ہونے کے باوجود کینیڈا میں رہنا چاہتا ہے تو یہ پریشان کن ہوسکتا ہے۔



کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…