جمعرات‬‮ ، 03 ستمبر‬‮ 2026 

مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں، امریکی عدالت نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کیخلاف بڑا فیصلہ سنا دیا

datetime 20  ستمبر‬‮  2019 |

ٹیکساس (این این آئی) مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر امریکی عدالت نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور دیگر افراد کے سمن جاری کر دیئے۔کشمیریوں پر مظالم ڈھانے پر نریندر مودی کو امریکی ریاست ٹیکساس کی ایک ڈسٹرکٹ کورٹ نے طلب کیا ہے۔ مودی کے علاوہ بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل کنول جیت کو بھی امریکی عدالت کی جانب سے سمن جاری کیے گئے ہیں۔

میڈیارپورٹس کے مطابق یہ مقدمہ امریکہ میں ایک قانون کے تحت درج کیا گیا ہے جس کے مطابق دنیا میں امریکی شہری کے کسی رشتہ دار پر کہیں بھی تشدد کیا جائے تو امریکی شہری اس قانون کے تحت کارروائی کرسکتا ہے۔ یہ مقدمہ ایک کشمیری مرد اور خاتون کی طرف سے کیا گیا ہے، جن کے نام خفیہ رکھے گئے ہیں۔انہوں نے موقف اختیار کیا کہ ہمارے اہلخانہ کو مقبوضہ کشمیر میں ٹارچر کیا گیا ہے، والد کو اغوا کیا گیا اور وہ کرفیو کے نافذ ہونے کے دن سے غائب ہیں، جبکہ دوسری درخواست میں کہا گیا کہ دوا نہ ملنے کے باعث رشتہ دار کا انتقال ہو گیا۔ بتایا گیا ہے کہ اس سمن پر کوئی گرفتاری نہیں ہوسکتی تا ہم مقدمہ چل سکتا ہے۔ مدعیوں نے مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بارے میں عدالت کو تفصیل سے آگاہ کیا۔واضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں آج 47ویں روز بھی بھارتی فوجی محاصرہ برقرار ہے جس کی وجہ سے مقبوضہ وادی میں نظام زندگی بری طرح سے مفلوج ہے۔کشمیر میڈیاسروس کے مطابق مقبوضہ وادی کے اطراف و اکناف میں بھارتی فورسز کے لاکھوں اہلکار تعینات ہیں،ہرطرف خوف و دہشت کا ماحول ہے اور لوگ گھروں سے باہر آنے سے خوفزدہ ہیں۔ لوگوں نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بھارتی حکومت کے اقدام کے خلاف احتجاج ریکارڑ کرانے کے لیے سول کرفیو نافذ کر رکھا ہے۔ دکانیں اور کاروباری مراکز بند ہیں جبکہ سڑکوں پر ٹریفک کی آمد و رفت معطل ہے۔

قابض انتظامیہ کی طرف سے سکول کھولنے کی کوششیں ناکام ہو چکی ہیں کیونکہ والدین اپنے بچوں کی سلامتی کے حوالے سے تحفظات کا شکار ہیں اور وہ انہیں گھروں پر رکھنے کیلئے مجبور ہیں۔ سرکاری دفاتر میں ملازمین کی حاضری انتہائی کم ہے۔وادی کشمیر اور جموں کے مسلم اکثریتی علاقوں میں انٹرنیٹ، موبائل فون سروس معطل جبکہ ٹیلی ویژن نشریات بند ہیں۔ دریں اثنا اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیریس نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 74ویں اجلاس کے موقع پر دنیا بھرکے مختلف رہنماؤں کے ساتھ اپنی ملاقات کے دوران انکے ساتھ مسئلہ کشمیر پر بھی بات چیت کا عندیہ دیا ہے۔ سیکرٹری جنرل کے ترجمان Stephane Dujarrcنے نیویارک میں پریس بریفنگ کے دوران کشمیر میں ذرائع ابلاغ کی مسلسل معطلی کے حوالے سے میڈیا نمائندوں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ انتونیو گوتیریس جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر تنازعہ کشمیر کو بھی اٹھائیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…