ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

بھارت میں مسلمان چھاگئے،ہندوﺅں کو پیچھے چھوڑ دیا

datetime 15  ‬‮نومبر‬‮  2016 |

نئی دہلی(نیوزڈیسک)مسلمانوں کی تعداد ہندﺅں کے بعد سب سے زیادہ ،اگر یہ ہی صورتحال رہی تو آئندہ بیس سے تیس سال میں بھارت میں مسلمان چھاجائیںگے،دلچسپ امر یہ ہے کہ بھارت میں 2001کی مردم شماری کے مطابق مسلمان نوجوانوں کی تعداد ہندونوجوانوں سے زیادہ ہوچکی۔ 2001ء میں ہندوستان کی کل 45 فیصد آبادی میں نوجوان شامل تھے جن میں 44 فیصد ہندو، 52 فیصد مسلمان اور 35 فیصد جین تھے۔تاز ہ ترین مردم شماری کے صحیح اعداد و شمار سامنے نہ لانا بھی سوال اٹھارہاہے۔ بھارت میں ہونے والی مردم شماری کے بعد بھارتی حکومت پریشان ہوگئی۔بھارتی میڈیاکے مطابق بھارت میں بسنے والے اگر تمام مذاہب کی آبادی کو ملایا جائے تو یہاں رہنے والی 41 فیصد آبادی بیس سال کی عمر سے کم لوگوں کی ہے۔ 60 سال کی عمر سے اوپر کے لوگوں کی تعداد صرف 9 فیصد بنتی ہے۔ بیس سے پچیس سال کی عمر کے نوجوانوں کی تعداد آبادی کا 50 فیصد ہے۔ مردم شماری کے اعدادوشمار کے مطابق ہندوستان میں مختلف مذاہب کے بچوں کے تناسب میں کمی آئی ہے اور بزرگوں کی تعداد میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ غور طلب ہے کہ 2001ء کی مردم شماری کے مقابلے میں نوجوان آبادی میں کمی آئی ہے۔ 2001ء میں ہندوستان کی کل 45 فیصد آبادی میں نوجوان شامل تھے جن میں 44 فیصد ہندو، 52 فیصد مسلمان اور 35 فیصد جین تھے۔ ان اعدودوشمار سے پتا چلتا ہے کہ ملک میں آبادی بڑھنے کی شرح میں کمی آئی ہے۔ سب سے زیادہ گرواٹ ہندو، عیسائی اور بدھ مت مذہب میں آئی ہے۔ اس کے بعد سکھوں اور جینوں میں یہ گراوٹ دیکھی گئی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ ہندوستان میں بسنے والے مسلمان بزرگوں کی تعداد بہت کم ہے۔ مسلمانوں میں 60 یا اس سے زائد عمر کے افراد کی تعداد آبادی کا صرف چھ اعشاریہ چار فیصد ہے جو قومی اوسط سے کم ہے۔ 2001ء میں ان کی تعداد پانچ اعشاریہ آٹھ تھی۔ جین اور سکھ مذہب کے بزرگوں کی آبادی 12 فیصد ہے جو قومی اوسط سے 30 فیصد زیادہ ہے۔اس مردم شماری کے مطابق مسلمانوں کی تعداد ہندﺅں کے بعد سب سے زیادہ ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…