جمعہ‬‮ ، 27 مارچ‬‮ 2026 

خوراک کا عالمی دن : تھر میں بڑھتی اموات

datetime 17  اکتوبر‬‮  2018 |

تھر(مانیٹرنگ ڈیسک) ہر سال16اکتوبر کو اقوام متحدہ کے زیر اہتمام ‘خوراک کے عالمی دن’ کے طور پرمنایا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کا بنیادی مقصد عالمی سطح پر خوراک کی پیداوار میں اضافہ کرنا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد دنیا بھرمیں عوامی شعور کو اجاگر کرنے سمیت عالمی سطح پر خوراک کے حصو ل میں درپیش مشکلات ، بھوک ، افلاس، خوراک کی ناکافی دستیابی کے بارے میں رائے عامہ ہموار کرنا ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارے عالمی ادارہ خوراک و زراعت نے پہلی دفعہ 1945 کو اس دن کو منانے کا فیصلہ کیا تھا۔ جس کے بعد اقوام متحدہ کے زیر اہتمام خوراک کا عالمی دن ہر سال سولہ اکتوبر کو منایا جاتا ہے۔ اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرا م کے مطابق دنیا میں اس وقت ہر چھ میں سے ایک شخص بھوک کا شکار ہے اس طرح بھوک کے شکار افراد کی تعداد ایک ارب سے بھی زائد ہے۔ جبکہ بنگلہ دیش ، بھارت ، چین ، انڈونیشیا ، کانگو، ایتھوپیا کے ساتھ ساتھ پاکستان بھی ان ممالک کی فہرست میں شامل ہے جہاں مذکورہ افراد بڑی تعداد میں غذائی قلت کا شکار ہیں۔ عالمی ادارہ خوراک کے مطابق پاکستان کی تقریبا پچاس فیصد آبادی غذائی عدم تحفظ کا شکار ہے۔ پاکستان میں خاص طور پر صوبہ سندھ میں بچوں کی غذائی ضروریات بین الاقوامی معیار کے مطابق پوری نہیں ہورہیں ہیں۔ جس کی ایک مثال تھر کا علاقہ ہے جہاں خوراک کی کمی کے باعث رواں سال میں اب تک ہونے والی اموات کی تعداد 700 سے زیادہ ہے۔ تھر میں غذائی قلت کے باعث تاحال ہزاروں حاملہ خواتین غذائی قلت کا شکار ہیں۔اسپتالوں میں بچوں میں سے بڑی تعداد ایسے بچوں کی ہے جنکا پیدائشی وزن بہت کم ہوتا ہے اور وہ زیادہ دن تک زندہ نہیں رہ پاتے مرجاتے ہیں۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ بچوں کو اموات سے بچانے کے لیئے ان کی ماؤں کو دوران حمل اچھی غذا دی جائے ۔تا کہ زچگی کے دوران کم وزن کے بچے پیدا نہ ہوں ۔ اس ماہ مختلف بیماریوں اور غذائیت کی کمی کے باعث انتقال کرنےوالےبچوں کی تعداد 17ہوگئی ہے، رواں برس غذائیت کی کمی اور دیگرامراض سےاب تک تھر اور مٹھی میں 493 بچے انتقال کر چکے ہیں۔ سندھ حکومت نے ایک بار پھر تھر کی جانب سے آنکھیں موند لی ہیں، بلدوبالا دعوے ڈھیر ہوگئے ہیں۔ خوراک کا بحران ایک عالمی چیلنج بنتا جارہا ہے۔ تھر میں بڑھتی ہوئی اموات پر حکومتی کارکردگی ابھی تک سوالیہ نشان ہے۔



کالم



ہیکل سلیمانی


اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…