جمعہ‬‮ ، 12 جون‬‮ 2026 

خوراک کا عالمی دن : تھر میں بڑھتی اموات

datetime 17  اکتوبر‬‮  2018 |

تھر(مانیٹرنگ ڈیسک) ہر سال16اکتوبر کو اقوام متحدہ کے زیر اہتمام ‘خوراک کے عالمی دن’ کے طور پرمنایا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کا بنیادی مقصد عالمی سطح پر خوراک کی پیداوار میں اضافہ کرنا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد دنیا بھرمیں عوامی شعور کو اجاگر کرنے سمیت عالمی سطح پر خوراک کے حصو ل میں درپیش مشکلات ، بھوک ، افلاس، خوراک کی ناکافی دستیابی کے بارے میں رائے عامہ ہموار کرنا ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارے عالمی ادارہ خوراک و زراعت نے پہلی دفعہ 1945 کو اس دن کو منانے کا فیصلہ کیا تھا۔ جس کے بعد اقوام متحدہ کے زیر اہتمام خوراک کا عالمی دن ہر سال سولہ اکتوبر کو منایا جاتا ہے۔ اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرا م کے مطابق دنیا میں اس وقت ہر چھ میں سے ایک شخص بھوک کا شکار ہے اس طرح بھوک کے شکار افراد کی تعداد ایک ارب سے بھی زائد ہے۔ جبکہ بنگلہ دیش ، بھارت ، چین ، انڈونیشیا ، کانگو، ایتھوپیا کے ساتھ ساتھ پاکستان بھی ان ممالک کی فہرست میں شامل ہے جہاں مذکورہ افراد بڑی تعداد میں غذائی قلت کا شکار ہیں۔ عالمی ادارہ خوراک کے مطابق پاکستان کی تقریبا پچاس فیصد آبادی غذائی عدم تحفظ کا شکار ہے۔ پاکستان میں خاص طور پر صوبہ سندھ میں بچوں کی غذائی ضروریات بین الاقوامی معیار کے مطابق پوری نہیں ہورہیں ہیں۔ جس کی ایک مثال تھر کا علاقہ ہے جہاں خوراک کی کمی کے باعث رواں سال میں اب تک ہونے والی اموات کی تعداد 700 سے زیادہ ہے۔ تھر میں غذائی قلت کے باعث تاحال ہزاروں حاملہ خواتین غذائی قلت کا شکار ہیں۔اسپتالوں میں بچوں میں سے بڑی تعداد ایسے بچوں کی ہے جنکا پیدائشی وزن بہت کم ہوتا ہے اور وہ زیادہ دن تک زندہ نہیں رہ پاتے مرجاتے ہیں۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ بچوں کو اموات سے بچانے کے لیئے ان کی ماؤں کو دوران حمل اچھی غذا دی جائے ۔تا کہ زچگی کے دوران کم وزن کے بچے پیدا نہ ہوں ۔ اس ماہ مختلف بیماریوں اور غذائیت کی کمی کے باعث انتقال کرنےوالےبچوں کی تعداد 17ہوگئی ہے، رواں برس غذائیت کی کمی اور دیگرامراض سےاب تک تھر اور مٹھی میں 493 بچے انتقال کر چکے ہیں۔ سندھ حکومت نے ایک بار پھر تھر کی جانب سے آنکھیں موند لی ہیں، بلدوبالا دعوے ڈھیر ہوگئے ہیں۔ خوراک کا بحران ایک عالمی چیلنج بنتا جارہا ہے۔ تھر میں بڑھتی ہوئی اموات پر حکومتی کارکردگی ابھی تک سوالیہ نشان ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



8 بجے تک


میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…