اتوار‬‮ ، 06 اپریل‬‮ 2025 

جس خاندان سے ہوں وہاں بیٹی کو معیوب نہیں سمجھا جاتا،اپنے بچے کا خاندانی نام مرزا ملک کب سوچا؟ ثانیہ مرزانے سب کچھ بتا دیا

datetime 22  مئی‬‮  2018
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

نئی دہلی(این این آئی)بھارتی ٹینس اسٹار اور پاکستانی کرکٹر شعیب ملک کی اہلیہ ثانیہ مرزا نے کہا ہے کہ ہمارے معاشرے میں اگر لڑکا پیدا ہو تو اسے خاندان کا چراغ کہا جاتا ہے تاہم وہ جس خاندان سے ہیں وہاں بیٹی کو معیوب نہیں سمجھا جاتا۔تفصیلات کے مطابق بھارتی ٹینس اسٹار ثانیہ مرزا اور ان کے شوہر پاکستانی کرکٹر شعیب ملک کے گھر ننھے مہمان کی آمد متوقع ہے جس کی خوشخبری گذشتہ ماہ دونوں نے

نہایت دلچسپ انداز میں سوشل میڈیا پر سنائی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے بچے کا خاندانی نام مرزا ملک ہوگا ٗ جو ثانیہ اور شعیب کے نام کے آخری حصے سے لیا گیا ہے۔بھارتی میڈیارپورٹ کے مطابق اس فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے ثانیہ نے بتایا کہ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں سمجھا جاتا ہے کہ ایک لڑکا ہی خاندان کو آگے بڑھا سکتا ہے اور وہ خاندان کا چراغ ہوگاانہوں نے بتایا کہ میرا تعلق ایک ایسے خاندان سے ہے ٗ جہاں 2 بیٹیاں تھیں لیکن ہمیں کبھی بھائی کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی اور نہ ہی کبھی ہم سے مختلف برتاؤ کیا گیا۔ثانیہ مرزا نے کہاکہ اپنے ہونے والے بچے کا نام مرزا ملک رکھنے کے فیصلے کے پیچھے بھی یہی سوچ تھی ٗمیرے شوہر ایک ایسے انسان ہیں جو خود بھی ایسا ہی سوچتے ہیں اور کوئی مضبوط انسان ہی یہ کہہ سکتا ہے کہ وہ اپنے نام کے ساتھ اپنی بیوی کا نام بھی لگائیگا۔انہوں نے بتایا کہ ‘ہم اپنے بچے کا نام مرزا ملک ہی رکھنا چاہتے تھے اور یہ سوچ اْس وقت بھی ہمارے ذہن میں تھی جب ہم نے والدین بننے کے حوالے سے منصوبہ بندی بھی نہیں کی تھی ٗ ہم نے ہمیشہ اس بارے میں بات کی ہے کہ چاہے لڑکا ہو یا لڑکی ٗہمارے بچے کے نام کا ایک حصہ مرزا ملک ہوگا اور ہمیں اپنے ہونے والے بچے کے نام کے ساتھ اپنے نام لگانے پر فخر ہے۔اپنی زندگی پر فلم بننے سے متعلق سوال کے جواب میں ثانیہ نے کہا کہ اس حوالے سے کئی باتیں کی جا رہی ہیں لیکن اس فلم سے متعلق ابھی باقاعدہ طور پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔

موضوعات:



کالم



زلزلے کیوں آتے ہیں


جولیان مینٹل امریکا کا فائیو سٹار وکیل تھا‘…

چانس

آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…