جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم کی فتح کی ’’کنجی ‘‘ کیا ہے؟ عظیم سپنر مشتاق احمد نے سب سے اہم مشورہ دیدیا

datetime 10  دسمبر‬‮  2016 |

اسلام آباد( آن لائن )پاکستان کرکٹ کو بام عروج تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کرنے والے مشتاق احمد کو آسٹریلیا کے موجودہ دورے میں بھی قومی ٹیم سے بہت توقعات وابستہ ہیں اور انہوں نے مستقل مزاجی سے کارکردگی کو فتح کی کنجی قرار دیا ہے۔
نجی ٹی وی کو دیئے گئے ایک انٹرویومیں مشتاق محمد نے کہا کہ ہماری ٹیم مستقل مزاجی اور توجہ کے ساتھ کھیلے تو بڑی کامیابی حاصل کرسکتی ہے اور تاریخ کو دہرا سکتی ہے۔آسٹریلیا کے خلاف جیت کیلئے پرامید سابق پاکستانی کپتان نے نوجوان بلے باز بابر اعظم کو پاکستان کا ٹرمپ کارڈ قرار دیا۔
انہوں نے کہا بابراعظم، آسٹریلیا میں ٹرمپ کارڈ ثابت ہوں گے جبکہ مصباح، یونس اور اظہر علی سیریز میں پاکستان کو کامیابی دلانے میں نمایاں کردار ادا کریں گے، یہ تینوں بلے باز آزمودہ ہیں اور انھیں اپنی صلاحیتوں کو ثابت کرنا ہوگا۔
پاکستان کے کامیاب کپتانوں میں سے ایک مشتاق محمد نے بیٹنگ میں مسلسل جدوجہد کرنے والے یونس خان کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کے سب سے کامیاب بلے باز کو آف اسٹمپ پر کھیلنے میں درپیش دشواری پر قابو پانا ہوگا جو ان کی ناکامی کی وجہ ہے کیونکہ تجربہ کارکھلاڑی کی حیثیت سے بڑی اننگز کھیلنا ان کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
آسٹریلیا کی وکٹوں پر ابتدائی تین دنوں میں باؤلرز کے کردار کو اہم گرداتنے ہوئے انھوں نے کہا کہ ایسی صورت حال میں آپ کو ایک ایسے باؤلر کی ضرورت ہوتی ہے جو گیند کو گھما سکے۔
مشتاق محمد کا کہنا تھا کہ مجھے یاسر شاہ کی باؤلنگ تکنیک پر چند تحفظات ہیں اور انگلینڈ کے دورے میں انتخاب عالم اور مشتاق احمد کو میں نے اپنے تحفظات سے آگاہ کیا تھا لیکن اس سب کے باوجود یہ حقیقت ہے کہ وہ پاکستان ٹیم کی ضرورت ہیں۔محمد عامر کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ‘عامر نے مجھے مایوس کیا اور مجھے ان میں فاسٹ باؤلر کی پھرتی نظر نہیں آتی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…