جرمن کوہ پیمان سائمن اور اس کی بیوی آسٹریا اور اٹلی کی درمیان سرحد پر واقع3516میٹر اونچی برفانی چوٹی کوہ الپائن کی چوٹی پر چڑھ رہے تھے ۔ چوٹی پر پہنچنے میں ابھی قریباََ تین سو میٹر کا فاصلہ باقی تھا کہ ایک ہاتھ نے انھیں آگے بڑھنے سے روک دیا‘ یہ انسانی ہاتھ تھا اور گلیشئر کی برف سے باہر نکلا ہوا تھا۔ میاں بیوی اس کے قریب گئے تو دیکھا کہ کھوپڑی کا آدھا حصہ جھانک رہا ہے‘
جمی ہوئی برف دھوپ سے پگھل کر اپنے ایک اور شکار کی لاش کو باہر پھینکنے کے لیے تیار تھی۔یہ بات1991ء کی ہے۔ یہ اطلاع علاقے کی کونسل کے رکن کو بھیجی گئی‘ اس نے پولیس کو ہدایت کی کہ فوراََ موقع واردات پر پہنچ کر مناسب کاروائی کرے۔ پولیس کے لیے یہ اطلاع غیر معمولی نہ تھی۔ برف میں سے دھنسی ہوئی نعشوں کا برآمد ہونا ہر روز کا معمول تھا۔ خبر اڑتے اڑتے آسٹریا کے عظیم کوہ پیمارائن ہولڈ میسز تک پہنچی ۔ اس نے دنیا کی سب سے اونچی چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ ( ہمالیہ) کو آکسیجن کے بغیر سر کیا تھا۔ میسز نے برفانی چوٹی پر چڑھ کر دیکھا اور جس حد تک اسے تاریخ پر عبور حاصل تھا اس کے مطابق اندازہ قائم کیا کہ یہ نعش ان سپاہیوں کی ہو گی جو پندرھویں صدی میں فر یڈک چہارم کے عہد میں شکست کھا کر بھاگے تھے اور جن کے بارے میں تاریخ کی کتابوں میں لکھا ہے کہ وہ برف میں دب گئے تھے ۔ میسز کی رائے کی بنیاد پر یونیورسٹی کے شعبہ آثار قدیمہ نے فیصلہ کیا کہ برفانی آدمی کو نکال کر اس کا مفصل مطالعہ کر لینا چاہیے۔ برف کے آلات اور مشینوں سے کھرچ کھرچ کر نعش اور اس کے ساتھ رکھی ہوئی دوسری اشیا کو انتہائی احتیاط سے برآمد کیا گیا۔
کوئی دشواری پیش نہیں آئی۔ نعش کو لیبارٹری میں لایا گیا۔ مطالعے میں کوئی دشواری پیش نہیں آئی معلوم ہوا کہ نعش پانچ سو سال پرانی نہیں بلکہ جیسا کہ ابتدا میں خیال کیا گیا تھا بلکہ چار ہزار سال سے بھی زیادہ پرانی ہے۔کوہ الپائن کے گلیشیرؤں میں دبی ہوئی نعشیں اس سے پہلے بھی برآمد ہوئی تھیں لیکن اتنی صحیح و سالم اور اتنی پرانی نہیں ۔ یہ وہی زمانہ ہے جب مصر میں نعش کو مسالا لگا کر ممی کی صورت میں دفنا نے کا رواج تھا۔ معلوم ہوا کہ آنجہانی نے چمڑے اور پوستین کا لباس پہنا ہوا تھا جس کے اندر کی طرف گھاس کی تہ جمی ہوئی تھی۔ لباس چمڑے کے باریک دھاگے سے بڑی نفاست سے سلا ہوا تھا۔ اس کے قریب رکھا ہوا ایک چمڑے کا تھیلا بھی ملا۔
لکڑی کی ایک موٹی لاٹھی بھی ملی جس کی بناوٹ چھڑی کی سی تھی ۔ پتھر کی بنی ہوئی ایک چھری بھی برآمد ہوئی لیکن سب سے اہم چیز ایک کلہاڑی تھی جس کا دستہ کانسی کا بنا ہواتھا۔ برفانی آدمی کے لیباٹری میں مزید کئی ٹیسٹ ہوئے اور ابھی تک ہو رہے ہیں ۔ اب تک کی کیمیائی آزمائشوں سے جو نتائج سامنے آئے ہیں وہ یہ ہیں ۔ وہ ایک تندرست و توانا آدمی تھا۔ اس کی عمر25یا 35سال کے درمیان تھی۔ اس کا قد ڈیڑھ میٹر سے کچھ زیادہ تھا‘ اس زمانے کے اوسط قد کے حساب سے اسے ٹھگنے قد کا آدمی کہنا چاہیے۔
اس کا وزن قریباً50 کلو گرام تھا۔ اس کی ناک اگرچہ کچل گئی تھی اور اوپر کا ہونٹ برف کے وزن سے مڑ گیا تھاتا ہم ایک بات بالکل واضح تھی کہ اس کے چہرے کے نقوش مکمل طور پر بنے ہوئے تھے اور آسٹریا کے صوبے ٹارول کے لوگوں کے چہروں کے نقوش سے مشابہ تھے۔ اس کے جسم کے مطالعے اور تجزے سے معلوم ہوا کہ اسے کسی قسم کی کوئی بیماری لاحق نہ تھی۔ جسم پر زخم کی خراش نہ تھی سوائے ان خراشوں کے جو برف کی کھدائی سے باہر نکلتے وقت بے احتیاطی سے لگ گئی تھیں لیکن سائنسدان ابھی تک حتمی طور پر اس امر کا سراغ نہ لگا سکے۔ اس کے دانتوں کا رنگ نیلا تھا‘
دانتوں کی بناوٹ تو مضبوط تھی لیکن اس میں نیلاہٹ تھی ‘ اس کی وجہ غالباََ یہ ہے کہ غلہ چکی وغیرہ میں پیس کر کھایا گیا ہو گا۔ برف سے نکالی ہوئی نعش کے جسم پر سے بال بالکل غائب تھے لیکن تحقیق کاروں نے اس کے لباس کے چیتھٹروں سے چمٹے ہوئے بال چن چن کر جمع کیے جن کی تعداد ایک ہزار کے لگ بھگ ہے۔ اس کے سر کے بالوں کی لمبائی فقط نو سنٹی میٹر ہے جس سے ثابت ہوا کہ اس نے حجامت کرا رکھی تھی اور اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ حجامت کا رواج ماہرین اثریات کے اندازے سے بہت مدت پہلے پڑ گیا تھا۔ حجامت سے بھی زیادہ عجیب بات یہ ہے کہ اس کی نچلی کمر پر بائیں گھٹنے کے پیچھے اور دائیں ٹخنے پر نقوش کُودے گئے تھے ۔
یعنی نقوش گودنے کا رواج بھی پتھر کے آخری زمانے ہی میں پڑ گیا تھا۔ شعبہ اثریات و تاریغ قدیم کے صدر ڈاکٹر کونرڈ سپنڈلر کا کہنا ہے : ’ ’ غور طلب بات یہ ہے کہ یہ نقوش جسم کے ایسے حصوں پر گودے ہوئے ہیں جو لباس کے اندر مخفی ہوتے ہیں ۔ اس سے دو نتیجے برآمد ہو سکتے ہیں ایک یہ کہ یہ دوسرے قبائل کو دکھانے کے لیے بطور شناخت نہیں ہیں دوسرے یہ کہ ان کی کوئی مخفی یا روحانی اہمیت ہے ۔‘‘ بعض دوسرے سائنس دانوں کا خیال یہ ہے کہ یہ نقوش غالباََ لڑکپن کی عمر سے نکل کر جوان ہونے کی علامت کے طور پر بنواے گئے ہوں گے۔
یہ قیاسات تو چلتے رہیں گے۔ ایک بات طے ہے کہ اس دریافت سے یہ پرانا نظریہ باطل قرار پایا کہ نقوش گدوانے کا رواج آج سے اڑھائی ہزار سال پہلے شروع ہوا تھا۔ معلوم یہ ہوا کہ ساڑھے پانچ ہزار سال پہلے سے یہ رواج چلا آ رہا ہے۔ برفانی آدمی کوہ الپائن کے برفستان کی شدید ٹھنڈک اور یخ بستگی کا عادی تھا۔ اس کی جو پوستین برآمد ہوئی ہے وہ ہرن ‘سانبھر اور پہاڑی بکرے کی کھالوں کے ٹکڑوں اور پیوندوں سے بنی ہوئی ہے۔ سلائی کا کام یا تو جانوروں کی نسوں کی تان سے لیا گیا ہے یا پودوں کے ریشوں سے ۔ اس زمانے کے لوگوں کے بارے میں اب تک خیال کیا جاتا رہا ہے کہ وہ خام کھال پہنا کرتے تھے
لیکن برفانی آدمی کے لباس نے ثابت کر دیا ہے کہ ایسا نہیں ہے بلکہ لباس پر جیومیٹری کے خش نما ڈیزائن بنائے جاتے تھے۔ زمانہ قبل تاریخ کے ماہر خصوصی پروفیسر ایگ میتر ( جرمنی) کے رومن جرمن سنٹرل میوزیم کے ڈائریکٹر ہیں ۔ ان ہی کے میوزیم میں برفانی آدمی کے لباس کا مطالعہ و تجزیہ کیا جا رہا ہے ڈاکٹر ایگ کا کہنا ہے : ’’ جس شخص نے بھی یہ پوستین سی ہو گئی وہ ماہر درزی تھااورجہاں تک گھاس کی پتیوں سے مرمت کا معاملہ ہے تو یہ بعد برفانی آدمی نے خود کی ہو گی ۔‘‘ چونکہ یہ لباس کئی سو چیتھڑوں کی شکل میں میوزیم میں آیا تھااس لیے طے کرنا بہت مشکل ہے کہ اس زمانے کا فیشن کیا تھا۔ برف سے مزید حفاظت کے لیے برفانی آدمی نے سر پر تنکوں کی ٹوپی پہن رکھی تھی
جس کا ڈیزائن بالکل ویسا ہی تھا جیسا کہ اس صدی کے اوائل میں اس علاقے کے لوگ پہنا کرتے تھے ۔ اس کے جوتے چمڑے کے ہیں اور اچھی طرح سلے ہوئے ہیں اور گرمی کے لیے ان میں گھاس ٹھنسی ہوئی ہے۔اس کا ترکش بھی جس میں تیر رکھے ہوئے ملے ہیں پوستین کا بنا ہوا ہے اور پوستین کا بنا ہوا یہ ترکش پوری دنیا میں پہلی دریافت ہے جس کا تعلق پتھر کے زمانے کے آخری دور سے ہے۔ پھر اس کے اندر سے جو تیر ملے ہیں وہ بھی پوری دنیا میں اپنی نوعیت کی پہلی دریافت ہیں۔ یہ تیر پھول دار جھاڑیوں کی شاخوں سے بنائے گئے ہیں بلکہ بنائے جا رہے تھے اور ابھی ادھورے تھے کہ برفانی آدمی برف میں دھنس گیا۔ ایسے کوئی درجن بھر نامکمل تیر ملے ہیں۔ دو تیر مکمل حالت میں بھی ملے ہیں۔
شکار کے لیے بالکل تیار جن کی نوک پر چقماق اور پر ہیں ۔ پررال کی قسم کے گوند سے ایسے زاویے پرچپکائے گئے ہیں کہ تیر کو سیدھااڑنے میں اور گھومنے میں سہولت پیدا ہو۔ کمان بؤ درخت کی بنی ہوئی ہے ۔ یہ وسطیٰ یورپ کی بہترین لکڑی ہے۔ اس درخت کی باریک پرت کی لچکدار لکڑی سے عموماََ کمانیں بنائی جاتی ہیں۔ مشہور تاریخی کمانیں مثلاََ رابن ہڈ کی لمبی کمان بھی بؤ درخت کی شاخ سے بنائی گئی تھی۔ یا تو برفانی آدمی کے زمانے میں یہ درخت بافراط پایا جاتا ہو گا یا پھر اس نے اپنی کمان کے لیے بہترین لکڑی تلاش کی ہو گی ۔ چھوٹا سا خنجر بھی برآمد ہے جو چقماق کا بنا ہوا ہے لیکن اس کا دستہ لکڑی کا ہے ۔ گھاس کا ایک جال بھی جو غالباََ بریف کیس کے طور پر استعمال ہوتا ہو گا۔ پنسل کی قسم کا ایک اور پتھر کا اوزار ہے جو شائد تیر اور دستے وغیرہ کو تیز کرنے کے لیے استعمال ہوگا۔
بعض سائنسدانوں نے اس کا فنی نام ’’ ہوموٹائرولنس ‘‘ رکھ چھوڑا ہے۔ اس کے پاس ایک پیٹی بھی برآمد ہوئی ہے جو اس نے اپنی کمر سے باندھ رکھی تھی جیسی کہ آج کل کے سیاح چھوٹی موٹی چیزیں رکھنے کے لیے اپنی کمر سے باندھے رکھتے ہیں۔ اس پیٹی میں سے ایک تیز کی ہوئی ہڈی ملی ہے جو غالباًچمڑے میں سوراخ کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہو گی۔ اس میں تو کوئی شک نہیں کہ وہ کوہ الپائن کی اتنی اونچی چوٹی پر آیا تھا لیکن کیوں آیا تھا ؟ اور وہ ہلاک کیوں کر ہوا ؟ اب تک کی شہادتوں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ برفانی آدمی چرواہا تھا اور بھیڑ بکریاں اور مویشی وغیرہ چراتا تھا ۔ ڈاکٹر ایگ اور ماہرِ موسمیات ڈریستھل کی یہی رائے ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ پانچ ہزار سال پہلے موسم قدرے گرم تھا۔
گرمیوں میں الپائن کی چوٹیوں پر درختوں کی اونچائی سے ذرا اوپر سے اسے ترغیب ہوئی ہو گی کہ اوپر آئے اور لطف اندوز ہو۔ ’’ اس قسم کی کلہاڑیاں جو پتھر کے زمانے سے تعلق رکھتی ہیں اٹلی کی قدیم بستیوں سے بھی برآمد ہوئی ہیں۔ ایگ کا کہنا ہے کہ آدمی ممکن ہے کہ چقماق کی تلاش میں اوپر نکل آیا ہو۔ یا شکار کی تلاش میں یا نئی کمان بنانے کے لیے لکڑی کی تلاش میں ۔ ہفتہ وار ’’ سائنس ‘‘ کے ایک شمارے میں ایک سائنس دان نے لکھا ہے ۔ ’’ اوپر آکر وہ تھک گیا ہو گا۔ ممکن ہے کہ طوفان آگیا ہو ۔ وہ ستانے کے لیے لیٹ گیا ہو گا۔ نیند آگئی ہو گی اور یوں گلیشئیر کی برف نے اسے ڈھانپ لیا۔ ‘‘ اب سوال یہ ہے کہ آثار قدیمہ کے شعبے کا یہ قیمتی اثاثہ کس ملک کا ہے ؟ 2 اکتوبر 1991ء کو آسٹریا اور اٹلی کی مشترکہ جائزہ ٹیم نے یہ طے کیا تھا کہ برفانی آدمی کی اٹلی کی سر زمین میں مشترکہ سرحد سے قریباً93 میٹر کے فاصلے پر برآمد ہوا ہے۔
یہ اٹلی کے صوبے ٹائرول کا حصہ ہے جو اثریات و ثقافت کے معاملات میں خود مختار ہے۔ چنانچہ ٹائرول نے دعویٰ کر دیا کہ چونکہ یہ ہمارے صوبے میں نکلا ہے اور اس پر ہمارا ثقافتی حق ہے اس لیے اسے ہمارے سپرد کیا جائے۔ ’’ ادھر یونیورسٹی انس بروک کا دعویٰ بھی درست تھا کہ چونکہ تحقیق تجزیہ کا حق ہمارا ہے اور ہمیں اس کی سہولتیں بھی حاصل ہیں اور صوبہ ٹائرول میں یہ فنی سہولتیں فراہم نہیں ہیں اس لیے برفانی آدمی کی نعش کو ہمارے سپرد کیا جائے لیکن برآمدگی کے فوراََ بعد چونکہ یونیورسٹی کے پروفیسر صاحبان نعش اٹھا کر لے گئے تھے اس لیے اب تک ان کے قبضے میں ہے۔
یونیورسٹی کے شعبہ اثریات کے پروفیسر کو نعش کا تجزیہ کرتے ہوئے ڈھائی سال ہو رہے ہیں۔ اس کام پر دس ہزار ڈالر ماہوار خرچہ ہو رہا ہے‘ یہ خرچہ پورا کرنے کے لیے برفانی آدمی اور اس کے سازو سامان کے فوٹو لینے کی فیس بہت زیادہ مقر ر کر دی گئی ہے۔ اس کے بارے میں قیمتی پمفلٹ چھا پے جا رہے ہیں ۔ لیکچر دئیے جاتے ہیں جن کا معاوضہ لیا جاتا ہے۔ ادھر دارالحکومت روم کا رویہ بھی خاصا سخت ہے۔ وہاں کی انتظامیہ نے وارننگ دی ہے کہ یہ ممی اتنی ہی قیمتی ہے جیسے ’’ لیونا رڈو ونچی ‘‘ دریافت ہو گیا ہو ۔
اس کی ہر ممکن حفاظت ہونی چاہیے اور اسے ہر گز نقصان نہیں پہنچا چاہیے۔ جیسا کہ برآمدگی کے وقت بے احتیاطی سے پہنچا تھا۔
کہا جا رہا ہے کہ برفانی آدمی کے لیے ساؤتھ ٹائرول میں شاندار میوزیم بنانے کی تجویز زیرِ غور ہے لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ اس میوزیم میں اصلی برفانی آدمی کی نمائش کرنا خطرے سے خالی نہ ہو گا‘ اصلی برفانی آدمی تو خیر ہلاک ہو چکا ہے۔ اس کی ممی کی نقل کی نمائش ہونی چاہیے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اسے اس وقت بہترین ماحول اور بہترین ٹمپریچر میں رکھا جا رہا ہے مگر یہ بھی اس کے مستقل تحفظ کے لیے ناکافی ہے۔































