اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

مگر یہ حافظ نہیں ہیں

datetime 25  اپریل‬‮  2017 |

حضرت مولانا قاسم نانوتویؒ دارالعلوم دیوبند کے بانی تھے، وہ ایک مرتبہ حج کے سفر پر تشریف لے گئے، اس زمانے میں بحری جہازوں کے ذریعے سفر ہوتا تھا اور راستے میں کئی کئی مہینے لگ جاتے تھے، چنانچہ لوگ رمضان المبارک سے پہلے ہی حج کا سفر شروع کر دیتے تھے تاکہ وقت سے پہلے مکہ مکرمہ پہنچ جائیں،

انہوں نے بھی ایسا ہی کیا۔جب درمیان میں رمضان شریف کا مہینہ آیا تو ان کو پتہ چلا کہ میرے گروپ میں کوئی بھی قرآن مجید کاحافظ نہیں ہے، بڑے بڑے عالم تو تھے، وہ نماز بھی پڑھاسکتے تھے، مگر ان میں حافظ کوئی نہیں تھا جو انہیں تراویح میں پوراقرآن مجید سناتا، حضرت مولانا نے فرمایا کہ مجھے تو اچھا نہیں لگتا کہ علماء کی اتنی بڑی جماعت ہو اور وہ آخری سورتوں سے تراویح پڑھیں، لہٰذا وہ روزانہ دن کے وقت ایک پارہ یاد کر لیتے اور رات کو تراویح کے اندر سنا دیتے، اُدھر رمضان المبارک مکمل ہوا اور ادھر ان کے قرآن مجید کا حفظ مکمل ہو گیا، یہ ایک مہینے میں قرآن مجید حفظ کرنے کی مثال ہے۔ہشام بن محمد کلبیؒ ایک عالم تھے، ایک مرتبہ وہ کچھ علماء کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، ان علماء نے آپس میں گفتگو کی کہ فلاں عالم ہے، فلاں حافظ ہے اور فلاں عالم بھی ہے حافظ بھی ہے، جب ان کا نام آیا تو انہوں نے کہا کہ یہ عالم تو بہت بڑے ہیں، مگر یہ حافظ نہیں ہیں، وہ کہتے ہیں کہ بس اسی وقت سے میرے دل میں ایک بات آئی، اس کے بعد میں نے قرآن مجید منگوایا اور اس کو یاد کرنا شروع کر دیا، فرماتے ہیں کہ تین دن مکمل ہونے تک میں نے پورے قرآن مجید کو یاد کر لیا، لوگ ان کا ٹیسٹ لیا کرتے تھے اور وہ اس کا ٹیسٹ دے دیا کرتے تھے۔

قرآن کے بھولنے پر ایک خاتون کا تعجب
حضرت مولانا محمد انعام الحق قاسمی بتاتے ہیں کہ کچھ ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جن کو قرآن مجید بہت اچھا یاد ہوتا ہے، تین چار سال پہلے کی بات ہے، ایک خاتون نے ہمارے ساتھ حج کیا، اس کو قرآن پاک ایسے یاد تھا جیسے لوگوں کو سورۂ فاتحہ یاد ہوتی ہے، جہاں سے قرآن مجید پڑھ دیتے، وہ وہیں سے آگے پڑھنا شروع کردیتی،

اس کو تھوڑی سی دیر کے لیے بھی الجھن نہیں ہوتی تھی، وہ اس بات پر حیران ہوتی تھی کہ لوگ قرآن پاک کو کیسے بھول جاتے ہیں یا ان کو اشکال لگ جاتا ہے! اس کو قرآن پاک اس طرح یاد تھا۔
حفظِ قرآن میں اتنی پختگی!
حضرت مولانا محمد انعام الحق قاسمی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم نے اپنے حضرت غلام حبیب نقشبندیؒ کے ساتھ رمضان المبارک کے کچھ دن مری میں گزارے،

ایک مرتبہ شبینہ تھا، ہم بھی وہاں گئے، امام صاحب نے کہا: حضرت! یہاں پر ملک کے دور و نزدیک سے مہمان آ کر رمضان شریف گزارتے ہیں، وہاں پتہ چلا کہ اس مصلے پر چھتیس سال سے تراویح پڑھائی جا رہی تھی اور ایک مرتبہ بھی کسی قاری کو کوئی متشابہ نہ لگا اورکسی کو لقمہ دینے کی ضرورت نہیں پڑی تھی، چھتیس سال تک قرآن سنانے والے جتنے بھی قراء آئے، ان کو اتنا قرآن پاک یاد تھا کہ کسی ایک کی بھی غلطی نہ نکلی، تو ایسے بھی لوگ ہوتے ہیں، جن کو اللہ تعالیٰ یوں قرآن مجید یاد کروا دیتے ہیں جیسے اسکرین پر بیٹھے وہ سب کچھ دیکھ رہے ہوں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…