اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

ایسے ملک کو تیل فروخت نہیں کریں گے، سعودی عرب کا اہم فیصلہ

datetime 17  مارچ‬‮  2023 |

ریاض (این این آئی)سعودی وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے کہا ہے کہ ہم کسی ایسے ملک کو تیل فروخت نہیں کریں گے جو ہماری سپلائی پر قیمتوں کی حد مقرر کرتا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق ایک انٹرویومیں شہزادہ عبد العزیز نے کہا سال کے آخر تک پیداوار میں کمی کے لیے اوپیک پلیس معاہدے کو برقرار رکھنے کے لیے پر عزم ہیں۔

انہوں نے کہا بہت سے عوامل ہیں جو مارکیٹ کے رجحانات کو متاثر کرتے ہیں، یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ عالمی معیشت اس سال اور اگلے سال ترقی کرتی رہے گی۔ لیکن ترقی کی رفتار کے بارے میں اب بھی غیر یقینی صورتحال ہے۔ کورونا وبا کی طویل بندش کے بعد چین نے حال ہی میں بحالی کا آغاز کیا ہے۔ لیکن بحالی کے لیے درکار مدت ابھی تک واضح نہیں ہے۔ اقتصادی بحالی مہنگائی کے دبا کا باعث بن رہی ہے۔ اس سے مرکزی بینک مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لیے اپنی کوششیں تیز کرنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح دیگر عوامل بھی مارکیٹ کو متاثر کرتے ہیں۔ اس طرح کے ماحول میں جہاں غیر یقینی کی صورتحال ہو صرف ایک ہی معقول اقدام اٹھایا جا سکتا ہے اور وہ یہ ہے کہ اس معاہدے کو برقرار رکھا جائے جو ہم نے گزشتہ اکتوبر میں کیا تھا اور یہی ہم کرنا چاہتے ہیں۔ ہمیں پائیدار مثبت اشاروں کو یقینی بنا نا چاہیے۔نوپیک بل کو دوبارہ متعارف کرانے کے حوالے سے شہزادہ عبدالعزیز نے کہا کہ “نوپیک بل اور قیمتوں کی حد میں توسیع کے درمیان بڑا فرق ہے لیکن تیل کی منڈی پر ان کے ممکنہ اثرات یکساں ہیں کیونکہ اس طرح کی پالیسیاں نئے خطرات کا اضافہ کرتی ہیں۔ زیادہ ابہام والے وقت میں وضاحت اور استحکام کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ مجھے اپنے اس نقطہ نظر کی تصدیق کرنی چاہیے جو میں نے اگست اور ستمبر میں بیان کیا تھا۔ میں نے اس بات پر زور دیا تھا کہ اس طرح کی پالیسیاں لامحالہ مارکیٹ کے عدم استحکام اور اتار چڑھا کو بڑھا دے گی اور اس کا منفی اثر پڑے گا۔

اوپیک پلس نے اپنی پوری کوشش کی ہے اور دیگر اجناس کی منڈیوں کے مقابلے میں تیل کی مارکیٹ میں اعلی استحکام اور شفافیت حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔سعودی وزیر توانائی نے مزید کہا کہ نوپیک کے مسودہ قانون میں پیداواری صلاحیت کے ذخائر رکھنے کی اہمیت اور تیل کی منڈی میں یہ ذخائر نہ ہونے کے نتائج کو مدنظر نہیں رکھا گیا ہے۔

نوپیک بل تیل کی پیداواری صلاحیت میں سرمایہ کاری کو کمزور کرتا ہے اور اس سے عالمی سطح پر سپلائی میں بھی کمی آئے گی۔ مستقبل میں طلب سے بہت کم آئل کے کے اثرات پوری دنیا میں واضح ہوں گے۔لہذا اگر سعودی تیل کی برآمدات پر قیمت کی حد لگائی جاتی ہے تو ہم کسی ایسے ملک کو تیل فروخت نہیں کریں گے جو ہماری سپلائی پر قیمت کی حد لگاتا ہے۔ ہم تیل کی پیداوار کم کر دیں گے۔انہوں نے وضاحت کی کہ پیداواری صلاحیت کے ذخائر اور عالمی ہنگامی سٹاک ممکنہ جھٹکوں کے پیش نظر تیل کی منڈی کے لیے بنیادی حفاظتی جال بناتے ہیں۔

بارہا متنبہ کیا گیا ہے کہ عالمی طلب میں اضافہ عالمی پیداواری صلاحیت کے ذخائر کی موجودہ سطح کو پیچھے چھوڑ دے گا۔ یہ سب اس وقت میں ہوگا جب جب ہنگامی ذخائر پہلے ہی کم ترین سطح پر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایسی پالیسیوں کو نافذ کرنا ضروری ہے جو پیداوار بڑھانے کے لیے درکار سرمایہ کاری کی حمایت کرتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم نے سعودی عرب میں اپنی پیداواری صلاحیت کو 2027 تک 13.3 ملین بیرل یومیہ تک بڑھانے کے لیے فعال طور پر کام شروع کر دیا ہے۔ اس توسیع پر کام اب انجینئرنگ کے مرحلے میں ہے۔ امید کی جارہی ہے کہ اس میں توسیع پر مبنی پہلا اضافہ 2025 میں نافذ ہو جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…