جمعرات‬‮ ، 02 اپریل‬‮ 2026 

ایسے ملک کو تیل فروخت نہیں کریں گے، سعودی عرب کا اہم فیصلہ

datetime 17  مارچ‬‮  2023 |

ریاض (این این آئی)سعودی وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے کہا ہے کہ ہم کسی ایسے ملک کو تیل فروخت نہیں کریں گے جو ہماری سپلائی پر قیمتوں کی حد مقرر کرتا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق ایک انٹرویومیں شہزادہ عبد العزیز نے کہا سال کے آخر تک پیداوار میں کمی کے لیے اوپیک پلیس معاہدے کو برقرار رکھنے کے لیے پر عزم ہیں۔

انہوں نے کہا بہت سے عوامل ہیں جو مارکیٹ کے رجحانات کو متاثر کرتے ہیں، یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ عالمی معیشت اس سال اور اگلے سال ترقی کرتی رہے گی۔ لیکن ترقی کی رفتار کے بارے میں اب بھی غیر یقینی صورتحال ہے۔ کورونا وبا کی طویل بندش کے بعد چین نے حال ہی میں بحالی کا آغاز کیا ہے۔ لیکن بحالی کے لیے درکار مدت ابھی تک واضح نہیں ہے۔ اقتصادی بحالی مہنگائی کے دبا کا باعث بن رہی ہے۔ اس سے مرکزی بینک مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لیے اپنی کوششیں تیز کرنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح دیگر عوامل بھی مارکیٹ کو متاثر کرتے ہیں۔ اس طرح کے ماحول میں جہاں غیر یقینی کی صورتحال ہو صرف ایک ہی معقول اقدام اٹھایا جا سکتا ہے اور وہ یہ ہے کہ اس معاہدے کو برقرار رکھا جائے جو ہم نے گزشتہ اکتوبر میں کیا تھا اور یہی ہم کرنا چاہتے ہیں۔ ہمیں پائیدار مثبت اشاروں کو یقینی بنا نا چاہیے۔نوپیک بل کو دوبارہ متعارف کرانے کے حوالے سے شہزادہ عبدالعزیز نے کہا کہ “نوپیک بل اور قیمتوں کی حد میں توسیع کے درمیان بڑا فرق ہے لیکن تیل کی منڈی پر ان کے ممکنہ اثرات یکساں ہیں کیونکہ اس طرح کی پالیسیاں نئے خطرات کا اضافہ کرتی ہیں۔ زیادہ ابہام والے وقت میں وضاحت اور استحکام کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ مجھے اپنے اس نقطہ نظر کی تصدیق کرنی چاہیے جو میں نے اگست اور ستمبر میں بیان کیا تھا۔ میں نے اس بات پر زور دیا تھا کہ اس طرح کی پالیسیاں لامحالہ مارکیٹ کے عدم استحکام اور اتار چڑھا کو بڑھا دے گی اور اس کا منفی اثر پڑے گا۔

اوپیک پلس نے اپنی پوری کوشش کی ہے اور دیگر اجناس کی منڈیوں کے مقابلے میں تیل کی مارکیٹ میں اعلی استحکام اور شفافیت حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔سعودی وزیر توانائی نے مزید کہا کہ نوپیک کے مسودہ قانون میں پیداواری صلاحیت کے ذخائر رکھنے کی اہمیت اور تیل کی منڈی میں یہ ذخائر نہ ہونے کے نتائج کو مدنظر نہیں رکھا گیا ہے۔

نوپیک بل تیل کی پیداواری صلاحیت میں سرمایہ کاری کو کمزور کرتا ہے اور اس سے عالمی سطح پر سپلائی میں بھی کمی آئے گی۔ مستقبل میں طلب سے بہت کم آئل کے کے اثرات پوری دنیا میں واضح ہوں گے۔لہذا اگر سعودی تیل کی برآمدات پر قیمت کی حد لگائی جاتی ہے تو ہم کسی ایسے ملک کو تیل فروخت نہیں کریں گے جو ہماری سپلائی پر قیمت کی حد لگاتا ہے۔ ہم تیل کی پیداوار کم کر دیں گے۔انہوں نے وضاحت کی کہ پیداواری صلاحیت کے ذخائر اور عالمی ہنگامی سٹاک ممکنہ جھٹکوں کے پیش نظر تیل کی منڈی کے لیے بنیادی حفاظتی جال بناتے ہیں۔

بارہا متنبہ کیا گیا ہے کہ عالمی طلب میں اضافہ عالمی پیداواری صلاحیت کے ذخائر کی موجودہ سطح کو پیچھے چھوڑ دے گا۔ یہ سب اس وقت میں ہوگا جب جب ہنگامی ذخائر پہلے ہی کم ترین سطح پر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایسی پالیسیوں کو نافذ کرنا ضروری ہے جو پیداوار بڑھانے کے لیے درکار سرمایہ کاری کی حمایت کرتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم نے سعودی عرب میں اپنی پیداواری صلاحیت کو 2027 تک 13.3 ملین بیرل یومیہ تک بڑھانے کے لیے فعال طور پر کام شروع کر دیا ہے۔ اس توسیع پر کام اب انجینئرنگ کے مرحلے میں ہے۔ امید کی جارہی ہے کہ اس میں توسیع پر مبنی پہلا اضافہ 2025 میں نافذ ہو جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مشہد میں دو دن


ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…