عمران خان کی پیشکش پر وزیراعظم شہباز شریف نے اہم بیان دیدیا

  جمعہ‬‮ 2 دسمبر‬‮ 2022  |  19:41

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک /این این آئی)تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان کی حکومت کو مذاکرات کی پیشکش پر وزیراعظم شہباز شریف نے اتحادیوں سے مشاورت کا فیصلہ کرلیا۔نجی ٹی وی کے مطابق شہبازشریف کا کہنا ہے کہ اتحادیوں سے مشاورت کے بعد حتمی فیصلہ کریں گے۔

قبل ازیں پاکستان مسلم لیگ ن کی سینئر مرکزی رہنما و وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے چیئرمین تحریک انصاف و سابق وزیراعظم عمران خان کے مشروط مذاکرات کی پیش کش پر دو لفظی ردعمل جاری کر دیا ۔چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے حکومت کومشروط مذاکرات کی پیش کش کی ہے۔اس کے جواب میں وزیراطلاعات مریم اورنگزیب نے دو لفظی ردعمل دیا ہے اور ٹوئٹ میں لکھا کہ ’اکتوبر2023‘۔خیال رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے وفاقی حکومت کو مشروط طور پر مذاکرات کی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئیں ہمارے ساتھ بیٹھیں اور انتخابات کی تاریخ دیں، اگر ہم نے پنجاب اور خیبر پختوانخواہ کی اسمبلیاں تحلیل کیں تو 66فیصد نشستوں پر انتخابات ہوں گے،مسلم لیگ (ق) ہمارے ساتھ کھڑی ہے اور پرویز الٰہی نے مکمل اعتماد دیا ہے کہ میں جب چاہوں گا وہ اسمبلی تحلیل کر دیں گے، اسمبلیاں تحلیل کرنے کے پیچھے صرف ایک مقصد پاکستان ہے جو معاشی طور پر تباہی کی طرف جارہا ہے۔ ویڈیو لنک کے ذریعے پنجاب کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ہمارے دورے میں پاکستان کا ڈیفالٹ رسک5فیصد تھا جو آج 100فیصد سے اوپر چلا گیا ہے،باہر کی دنیا سمجھ رہی ہے کہ پاکستان قرضے واپس نہیں کر سکتا اور دیوالیہ ہونے جارہا ہے۔ملک کی 88فیصد کاروباری برادری نے کہا کہ انہیں حکومت کی پالیسیوں پر اعتماد نہیں ہے،نہ اندر اعتماد ہے نہ باہر ہے، ان کے پاس کوئی روڈ میپ نہیں۔

اسحاق ڈار نے آکر کہا تھاکہ میں موڈیز اور آئی ایم ایف کو ٹھیک کر دوں گا لیکن وہ بھی چپ کر کے بیٹھ گیا ہے، یہی حالات رہے تو نہ لوگ سرمایہ کاری کریں گے نہ کمرشل بینک قرضے دیں گے،اندرون ملک بھی کوئی سرمایہ کاری نہیں ہو گی، ٹیکس اہداف کاحصول گرنا شروع ہو گیا ہے،ہمارے دور میں انڈسٹریل گروتھ10.7فیصد پر تھی جس سے نوکریاں مل رہی تھیںیہاں لیبر اور مزدور نہیں مل رہے تھے

آج وہ انڈسٹری 1فیصد پر آ گئی ہے، معیشت 6فیصد پر گروتھ کر رہی تھی آج ایک فیصد سے بھی کم ہے، آج کسان سڑکوں پر ہیں، ہم نے کسانوں کو پیکج دیا اوریقینی بنایا تھاکہ ان کی آمدنی بڑھے، جب ان کے پاس منافع آیا  تو انہوں نے زمین پر پیسہ لگایا اور چار بمپر کراپس ہوئی تھیں، ہمارے دور میں ڈیزل اور پیٹرول 150پر تھاحالانکہ اس وقت عالمی مارکیٹ میں قیمت 105سے110ڈالر فی بیرل تھی،

آج 80ڈالر پر ہے لیکن آج ڈیزل 235اور پیٹرول 225تک پہنچ گیا، ہمارے دور میں ڈالر 178پر تھا،آج مارکیٹ میں 250پر ڈالر نہیں مل رہا،ملک میں پچاس سال میں سب سے زیادہ مہنگائی ہوئی جس کی وجہ سے سٹریٹ کرائم بڑھ گئے ہیں۔عمران خان نے کہا کہ ہمیں تو کوئی نقصان نہیں ہو رہا گالیاں تو انہیں پڑ رہی ہیںلیکن ملک بیٹھتا جارہا ہے اور اگر ہم ابھی ملک کوانتخابات کی طرف نہیں جاتے تو

سیاسی استحکام نہیں آئے گا جب تک سیاسی استحکام نہیں آئے معیشت مستحکم نہیں ہوگی۔ ان کے پاس کوئی طریقہ ہی نہیں ہے نہ سرمایہ کاری لانے کا نہ باہر سے مدد ائے گی۔ اس لئے ہم نے اسمبلیاں تحلیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے اس کے پیچھے مقصد صرف پاکستان ہے، ہم چاہتے ہیں جلد سے جلد انتخابات میں جائیںجب مستحکم حکومت آئے گی توباہر اور اندر اعتماد ہوگا،جو سرمایہ کار ہیں ہمیشہ سوچتے ہیں کہ

اگر میں پیسہ لگاؤں گا تواگلے دو سے تین سال میں کیا ہوگاجب ان کو اعتماد ہی نہیں ہوگا تو وہ کیوں سرمایہ کاری کریں گے اس لئے انتخابات کرانے ہیں سیاسی استحکام آئے اور معیشت سنبھلے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں 176ارب روپے کا شارٹ فال ہے جو وفاق نے دینے ہے،

خیبر پختوانخواہ صوبے کو 120ارب روپے دینے تھے وہ بھی شارٹ فال آگیا ہے، یہی صورتحال گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں ہے،بلوچستان میں یہی صورتحال ہے، خیبر پختوانخواہ میں تنخواہوں کے پیسے نہیں۔ ایک طرف معیشت نیچے جارہی ہے دوسری طرف صوبوں میں بحران آ گیا ہے۔سب کچھ دیکھتے ہوئے فیصلہ کیا۔ اگر ہم پنجاب اور خیبر پختوانخواہ کی اسمبلیاں تحلیل کرتے ہیں

اور باقی اسمبلیوں سے استعفے دیتے ہیںتوملک کے 66فیصد میں انتخابات ہونے ہیں اس سے ملک میں کام رک جائے گا  کیونکہ  پی ڈی ایم نے بھی انتخابات میں نکل جانا ہے۔ہم کہتے ہیں عام انتخابات کی تاریخ دیں نہیں تو ہم اپنی اسمبلیاں تحلیل کریں گے،ہم آپ کو موقع دیں گے ہمارے ساتھ بیٹھیں۔66فیصد پاکستان میں انتخابات ہوں اور آپ وفاق میں بیٹھیں گے۔ ہم نے بارہا کوشش کی لیکن یہ انتخاباتک کا نام ہی نہیں لیتے،

یہ  ڈرے ہوئے ہیں کہ انہوں نے پٹ جانا ہے۔ان کا کوئی روڈ میپ نظرنہیں آیا ہے،معیشت تباہی کی طرف جارہی ہے،یہ کیسے ملک کو اس سے نکالیں گے، ایک روڈ میپ نظر آرہا ہے کہ ہمارے اوپر کیسز کریں کسی طرح عمران خان کو نا اہل کریں، آصف زرداری نے تو کہہ دیا ہے کہ

عمران خان کو نا اہل کریں گےیا گرفتار کر کے جیل میں ڈالیں، اپنے کیسز کیسے ختم کریں، انہوں نے اسمبلیوں سے قوانین میں ترامیم کر ا کے 1100ارب روپے کا ڈاکہ مارا ہے۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ق) لیگ مکمل طور پر ہمارے ساتھ کھڑی ہے،

چوہدری پرویز الٰہی بالکل پوری اعتماد دیا ہے جب بھی چاہوں گا اسمبلی تحلیل کر دینی ہے، ہمارے پاس سارے آپشن ہیں،میں آپ سے ڈویژن مرحلے پر بات کروں گا،ملک کی ضرورت ہے کہ جلدی سے جلد ی انتخابات میں جائیں۔



زیرو پوائنٹ

بشریٰ بی بی سے شادی

عون چودھری 2010ء سے 2018ء تک سائے کی طرح عمران خان کے ساتھ رہے‘ یہ رات کے وقت انہیں ملنے والے آخری اور صبح ملاقات کے لیے آنے والے پہلے شخص ہوتے تھے چناں چہ یہ عمران خان کی زندگی کے اہم ترین دور کے اہم ترین شاہد ہیں‘ مجھے چند دن قبل عون چودھری نے اپنے گھر پر ناشتے ....مزید پڑھئے‎

عون چودھری 2010ء سے 2018ء تک سائے کی طرح عمران خان کے ساتھ رہے‘ یہ رات کے وقت انہیں ملنے والے آخری اور صبح ملاقات کے لیے آنے والے پہلے شخص ہوتے تھے چناں چہ یہ عمران خان کی زندگی کے اہم ترین دور کے اہم ترین شاہد ہیں‘ مجھے چند دن قبل عون چودھری نے اپنے گھر پر ناشتے ....مزید پڑھئے‎