پی ٹی آئی استعفے کیس، آپ کو 5 دن دے دیتے ہیں، 5 دن میں مطمئن کریں کہ کیا آپ واپس جانا چاہتے ہیں؟چیف جسٹس اطہر من اللہ

  جمعرات‬‮ 6 اکتوبر‬‮ 2022  |  19:40

اسلام آباد (این این آئی) اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللّٰہ نے پی ٹی آئی کے 10 مستعفی ارکانِ اسمبلی کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے ریمارکس دیئے ہیں کہ اسمبلی کا ممبر رہ کر اسمبلی سے باہر رہنا پارلیمنٹ کی توہین ہے،آپ کو 5 دن دے دیتے ہیں، 5 دن میں مطمئن کریں کہ کیا آپ واپس جانا چاہتے ہیں؟،

عدالت کو پارلیمنٹ کا احترام ہے، سیاسی جھگڑے دور کرنے کی جگہ پارلیمنٹ ہے،جن کے استعفے منظور نہیں ہوئے انہیں پارلیمنٹ میں ہونا چاہیے،پارلیمنٹ کی بہت بے توقیری ہو گئی ہے، جمہوریت کا مذاق نہ بنائیں۔ جمعرات کو سماعت شروع ہوئی تو پی ٹی آئی کے مستعفی ارکانِ اسمبلی کے وکیل بیرسٹر علی ظفر عدالت میں پیش ہوئے۔دورانِ سماعت چیف جسٹس اطہر من اللّٰہ نے ریمارکس میں کہا کہ عدالت کو پارلیمنٹ کا احترام ہے، اس سے قبل بھی ایک پٹیشن دائر کی گئی تھی، کیا یہ سیاسی جماعت کی پالیسی ہے؟چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ ابھی تک باقیوں کے استعفے ہی منظور نہیں ہوئے، عوام نے بھروسہ کر کے نمائندوں کو پارلیمنٹ بھجوایا ہے۔درخواست گزاروں کی جانب سے عدالت سے استدعا کی گئی کہ عدالت اسپیکر کو ہدایت دے کہ وہ استعفوں کی منظوری سے متعلق اپنی ذمے داری پوری کریں جس پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اطہر من اللّٰہ نے کہا کہ یہ عدالت اسپیکر قومی اسمبلی کو ہدایات جاری نہیں کر سکتی، عدالت نے شکور شاد کیس میں بھی صرف نظرِ ثانی کا کہا ہے، یہ سیاسی تنازعات ہیں، سیاسی جھگڑے دور کرنے کی جگہ پارلیمنٹ ہے۔چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ آپ کو مسائل کے حل کے لیے سیاسی جماعتوں سے ڈائیلاگ کرنا چاہئیں، کیا یہ مستعفی ارکان واقعی پارلیمنٹ میں جا کر عوام کی خدمت کرنا چاہتے ہیں؟ ہم نے دیکھنا ہے کہ پٹیشنرز کلین ہینڈز کے ساتھ عدالت آئے ہیں یا نہیں؟

بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ پٹیشنرز اپنی پارٹی کی پالیسی کے خلاف عدالت نہیں آئے۔چیف جسٹس نے کہا کہ پٹیشنرز خود کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے وہ استعفے دیے جو جینوئن ہیں۔بیرسٹر علی ظفر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اسپیکر نے اپنی آئینی ذمے داری پوری نہیں کی، اس شرط پر استعفے دیے گئے کہ 123 ارکان مستعفی ہوں گے، اسپیکر نے تمام استعفے منظور نہیں کیے اور صرف 11 استعفے منظور کیے،

ہم کہتے ہیں کہ دیے گئے استعفے مشروط تھے، اگر تمام ارکان کے استعفے منظور نہیں ہوئے تو شرط بھی پوری نہیں ہوئی، استعفوں کو پراپر انکوائری کے بغیر منظور نہیں کیا جا سکتا، 112 ارکان کے استعفے منظور نہیں کیے گئے۔چیف جسٹس نے کہا کہ جن کے استعفے منظور نہیں ہوئے انہیں پارلیمنٹ میں ہونا چاہیے، یہ ان ارکان کا فرض ہے، وہ پارلیمنٹ میں عوام کی نمائندگی کریں۔بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ پارلیمنٹ واپس جانا سیکنڈری ایشو ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ پھر وہ رکن پارلیمنٹ ہوتے ہوئے اسمبلی کارروائی کا ورچولی بائیکاٹ کررہے ہیں، آپ اس سے متعلق سوچ لیں اور بیانِ حلفی جمع کرائیں، 70 سال میں عدالتیں بہت زیادہ سیاسی معاملات میں ملوث رہیں، جس سے عدلیہ کے ادارے کو نقصان ہوا، یہ صرف ارکان کا نہیں، حلقے کے ان لوگوں کا مسئلہ ہے جو بغیر نمائندگی کے ہیں، ارکان مانتے ہیں کہ استعفے جینوئن تھے۔بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ارکانِ اسمبلی کے استعفے جینوئن مگر مشروط تھے،

ہم کہتے ہیں کہ تمام استعفے جینوئن تھے، انہیں منظور کیا جائے۔چیف جسٹس نے کہا کہ پارلیمنٹ کا احترام ہے، سیاسی معاملات کو وہاں حل کریں، کیا آپ کا موقف ہے کہ پارٹی نے استعفے دینے پر مجبور کیا تھا؟ اگر ایسا ہے پھر تو آپ اب پارٹی پالیسی کے خلاف جا رہے ہیں۔بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ پارٹی پالیسی کے خلاف یہ ارکان نہیں جا رہے، ہمارا موقف ہے کہ اسپیکر نے اپنا آئینی فریضہ نہیں نبھایا، ہمارا موقف ہے کہ کْل 123 ارکان نے استعفیٰ دیا تھا، سب کے استعفے منظور ہوتے،

آڈیو لیک میں سامنے آ چکا ہے کہ کیسے صرف 11 ارکان کے استعفے منظور کیے گئے، ہمارا موقف ہے کہ ہم نے مشروط استعفے دیے تھے، ہمارا سیاسی مقصد تمام 123 نشستیں خالی کرنا تھا، ہمارا وہ مقصد پورا نہیں ہوا تو ہم سمجھتے ہیں کہ ابھی سب ایم این اے ہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ جن ارکان کے استعفے منظور نہیں ہوئے وہ تو پارلیمنٹ جا کر بیٹھیں۔بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ اس مرحلے پر ممکن نہیں کیونکہ آڈیو لیک آئی ہے اور 11 ارکان کو نکال دیا گیا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ پارلیمنٹ کی بہت بے توقیری ہو گئی ہے، جمہوریت کا مذاق نہ بنائیں۔بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ استعفے جینوئن مگر مشروط تھے، سب کے استعفے منظور ہونے چاہیے تھے۔چیف جسٹس نے کہا کہ ملک میں سیاسی عدم استحکام کو پارلیمنٹ میں ہی ختم کیا جا سکتا ہے، یہ چیز باتوں سے نہیں آپ نے اپنے کنڈکٹ سے ثابت کرنی ہے۔بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ پارلیمنٹ میں ارکان واپس جائیں گے یا نہیں، ابھی اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا، یہ بات پارٹی پالیسی پر منحصر ہے،

آپ استعفے منظوری کا آرڈر معطل کر دیں تو جا کر اسپیکر سے بات کر سکتے ہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت سیاسی ڈائیلاگ کیلئے تو آپ کو سہولت فراہم نہیں کرے گی، پٹیشنرز کہہ رہے کہ پارلیمنٹ کو نہیں مانتے۔بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ایسا کبھی نہیں کہا۔چیف جسٹس نے کہا کہ وہ سیاسی عدم استحکام برقرار رکھنا چاہتے ہیں جو ملکی مفاد میں نہیں، عدالت اس درخواست کو  جمعہ تک ملتوی کر سکتی ہے، آپ پارلیمنٹ جا کر اپنی نیک نیتی ثابت کریں۔بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ خالی قرار دی گئی نشستوں پر آگے الیکشن بھی ہونے ہیں۔

چیف جسٹس اطہر من اللّٰہ نے کہا کہ لوگوں نے انہیں منتخب کیا تھا کہ پارلیمنٹ میں ان کی نمائندگی ہو۔بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ اسپیکر نے ڈکٹیشن لے کر اپنے مینڈیٹ کے خلاف 11 ارکان کے استعفے منظور کیے۔چیف جسٹس اطہر من اللّٰہ نے ایک بار پھر کہا کہ سیاسی جھگڑوں کو عدالت نہیں، پارلیمنٹ میں حل ہونا چاہیے۔بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ مجھے آدھا گھنٹہ دیں، میں پٹیشنرز سے بات کر لیتا ہوں۔چیف جسٹس اسلام آباد نے کہا کہ آپ ایک گھنٹہ لیں اور اس کے بعد ہمیں آگاہ کریں، جس کے بعد عدالت میں سماعت میں وقفہ کر دیا گیا۔

وقفے کے بعد دوبارہ سماعت شروع ہوئی تو بیرسٹر علی ظفر نے عدالت کو بتایا کہ میں نے اپنے موکلین سے مشورہ کیا ہے، کچھ لیگل ایشوز عدالت کے نوٹس میں لانا چاہتا ہوں، اسپیکر نے استعفے منظورکرنے کیلئے قانونی تقاضے پورے نہیں کیے، در حقیقت اسپیکر نے استعفے منظور کرنے کا فیصلہ ہی نہیں کیا، اسپیکر کا فیصلہ حقائق کی بنیاد پر غیر آئینی ہے، میں لیکڈ آڈیو کا ٹرانسکرپٹ پڑھنا چاہتا ہوں۔چیف جسٹس اطہر من اللّٰہ نے کہا کہ ان چیزوں میں مت جائیں، اسمبلیاں تحلیل کرنے یا قاسم سوری کا فیصلہ بھی اپنا تھا؟ یہ سیاسی عدم استحکام عوام یا ملک کے مفاد میں نہیں،

سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے ملکی معیشت بھی خراب ہوئی، ایک پٹیشن پہلے مسترد ہوئی اور معاملہ سپریم کورٹ کے پاس ہے۔بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ لیک ہونے والی آڈیو میں ایاز صادق، اعظم تارڑ اور دیگر استعفے منظوری کے فیصلے کر رہے ہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ ایسی بات نہ کریں کہ اسپیکر نے کسی کے کہنے پر استعفوں کا فیصلہ کیا، یہ عدالت پارلیمنٹ کی بالادستی کا احترام کرتی ہے اور کرتی رہے گی، ارکانِ پارلیمنٹ یہ احترام نہیں کر رہے۔بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ پارلیمنٹ جانے یا نہ جانے کا فیصلہ سیاسی ہو گا، عدالت اس سے دور رہے۔

چیف جسٹس اطہر من اللّٰہ نے کہا کہ ہم آپ کو اس سے متعلق کچھ نہیں کہہ رہے، پٹیشنرز کہہ رہے ہیں کہ سیاسی جماعت کی پالیسی کا احترام کرتے ہیں، پھر یہ واپس کیوں جانا چاہتے ہیں؟بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ بعد میں پارٹی طے کرے کہ اسمبلیوں میں واپس جانا ہے، ہو سکتا ہے طے کریں کہ اسمبلی میں جا کر کسی بل کی مخالفت کرنی ہے، واپس جانے کی صورت میں ہمارے 10 ارکان واپس نہیں جا سکیں گے، استعفے اکٹھے دیے لیکن نتائج سب کے لیے الگ الگ ہوں گے۔چیف جسٹس اطہر من اللّٰہ نے کہا کہ ہم آپ کو 5 دن دے دیتے ہیں، 5 دن میں مطمئن کریں کہ ٓپ واپس جانا چاہتے ہیں۔

بیرسٹر علی ظفر نے استدعا کی کہ اس دوران اسپیکر کا ڈی نوٹیفائی کرنے کا آرڈر بھی معطل کریں، استعفوں کی منظوری کا فیصلہ اسپیکر نہیں بلکہ ایلینز کا تھا۔چیف جسٹس نے کہا کہ اسمبلی کا ممبر رہ کر اسمبلی سے باہر رہنا پارلیمنٹ کی توہین ہے، آپ کہتے ہیں کہ استعفے منظوری کا نوٹی فکیشن معطل کریں تاکہ آپ بائیکاٹ کریں۔بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ پٹیشنرز پارلیمنٹ کے ممبر رہنا چاہتے ہیں۔چیف جسٹس اطہر من اللّٰہ نے کہا کہ آپ حلقے کی نمائندگی نہیں، سیاسی بنیادوں پر واپسی چاہتے ہیں، پٹیشنرز کہہ رہے ہیں کہ نوٹیفکیشن معطل کریں تاکہ پارٹی پالیسی کے تحت بائیکاٹ جاری رکھ سکیں،

آپ پہلے عدالت کو مطمئن کریں کہ پٹیشنر واقعی پارلیمنٹ میں واپسی چاہتے ہیں، پھر وہ کہہ دیں کہ دباؤ میں استعفیٰ دیا اور غلطی مان کر اب واپسی چاہتے ہیں، عوام کے مفاد میں ہے کہ سیاسی عدم استحکام ختم ہو۔بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ پٹیشنرز کے استعفے غیر آئینی طریقے سے منظور ہوئے، یہ اب بھی رکن ہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ کوئی سیاسی جماعت پارلیمنٹ سے بالاتر نہیں، پارلیمنٹ صرف ایک عمارت نہیں، آج بھی کوئی سول سپریمیسی کی بات نہیں کر رہا، اپنے کنڈکٹ سے عدالت کو مطمئن کریں کہ پارلیمنٹ کا احترام کرتے ہیں۔

بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ہمیں تو استعفے منظور کر کے اسمبلی جانے سے روک دیا گیا ہے۔چیف جسٹس اطہر من اللّٰہ نے کہا کہ شکور شاد عدالت آئے، اس میں بھی اسپیکر کو کوئی ہدایات نہیں دیں، عدالت نے کہا کہ آپ اس معاملے پر نظرِ ثانی کریں، پٹیشنرز بیانِ حلفی دے دیں کہ پارلیمنٹ کے بائیکاٹ کی پارٹی پالیسی کو نہیں مانتے۔بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ جو بھی پارٹی پالیسی ہو گی اسے تو فالو کیا جائے گا۔چیف جسٹس نے کہا کہ ہم اس کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیتے ہیں۔علی ظفر نے کہا کہ پھر تو اس عرصے میں خالی نشستوں پر الیکشن ہو جائے گا۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے سوال کیا کہ آپ کیا صرف ضمنی الیکشن رکوانا چاہتے ہیں؟بیرسٹر علی ظفر نے جواب دیا کہ بیانِ حلفی جمع کرانے کے معاملے پر بھی کچھ وقت درکار ہو گا۔چیف جسٹس نے کہا کہ پٹیشنرز نہیں کہہ سکتے کہ وہ پارلیمنٹ کو نہیں مانتے اور واپس نہیں جائیں گے، اس کے باوجود ان کے استعفے منظور کرنے کے آرڈر کو معطل کر دیں، ہم اس درخواست کو انٹرٹین نہیں کریں گے اور نہ ہی نوٹس کریں گے، پہلے پٹیشنر مطمئن کریں کہ حقیقی معنوں میں کلین ہینڈز کے ساتھ ا?ئے ہیں، یہ بھی کہیں کہ جمہوریت اور پارلیمنٹ کی بالادستی پر یقین رکھتے ہیں، یہ نہیں ہو سکتا کہ آپ کہیں کہ میری مرضی کے مطابق چیزیں ہوئیں تو مانیں گے، یہ کورٹ اس معاملے پر فیصلہ کرے یا ملتوی کر دے؟بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ فی الحال اس معاملے کو ملتوی کر دیں۔عدالت نے درخواست کی سماعت ملتوی کر دی اور حکم دیا کہ رجسٹرار آفس درخواست دوبارہ سماعت کے لیے مقرر کرے گا۔



موضوعات:

زیرو پوائنٹ

عاشق مست جلالی

میری اظہار الحق صاحب سے پہلی ملاقات 1994ء میں ہوئی‘ یہ ملٹری اکائونٹس میں اعلیٰ پوزیشن پر تعینات تھے اور میں ڈیلی پاکستان میں میگزین ایڈیٹر تھا‘ میں نے اس زمانے میں مختلف ادیبوں اور شاعروں کے بارے میں لکھنا شروع کیا تھا‘ اظہار صاحب نے تازہ تازہ کالم نگاری شروع کی تھی‘ان کی تحریر میں روانی‘ ادبی چاشنی اور ....مزید پڑھئے‎

میری اظہار الحق صاحب سے پہلی ملاقات 1994ء میں ہوئی‘ یہ ملٹری اکائونٹس میں اعلیٰ پوزیشن پر تعینات تھے اور میں ڈیلی پاکستان میں میگزین ایڈیٹر تھا‘ میں نے اس زمانے میں مختلف ادیبوں اور شاعروں کے بارے میں لکھنا شروع کیا تھا‘ اظہار صاحب نے تازہ تازہ کالم نگاری شروع کی تھی‘ان کی تحریر میں روانی‘ ادبی چاشنی اور ....مزید پڑھئے‎